واشنگٹن( رائٹرز، اے ایف پی، امریکی میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہیں تو اسرائیل جا کر وہاں وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب بھی لڑ سکتے ہیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے اور ایک سروے کے مطابق ان کی مقبولیت 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے مذاقیہ انداز میں کہا کہ شاید صدارت کے بعد وہ اسرائیل چلے جائیں اور وہاں وزیرِ اعظم بننے کی کوشش کریں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق بڑھتی کشیدگی پر اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران نیتن یاہو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی عوام اپنے وزیرِ اعظم کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کر رہے۔اگرچہ مختلف جائزوں میں اسرائیل میں ٹرمپ کے لیے نسبتاً زیادہ حمایت ظاہر کی جاتی رہی ہے، تاہم 99 فیصد مقبولیت کے دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیا جا رہا ہے، جسے مبصرین ٹرمپ کے روایتی اندازِ بیان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

