نئی دہلی میں احتجاج سے پہلے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی سمیت10 ہزار افراد گرفتار

نئی دہلی (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، الجزیرہ) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج سے قبل پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا۔ رائٹرز کے مطابق وہ ممبئی سے آنے والی پرواز کے ذریعے نئی دہلی پہنچے تو پولیس اہلکار طیارے میں ان کے پاس پہنچے اور انہیں احتجاج منسوخ کرنے کیلئے کہا۔ پارٹی کے دو دیگر رہنماؤں سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو بھی حراست میں لیا گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں احتجاج سے پہلے کم از کم 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم یہ تعداد پارٹی کی جانب سے بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی میں احتجاج کے دوران 7 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ پولیس نے بعدازاں پارٹی رہنماؤں کے سوا دیگر زیرِ حراست مظاہرین کو رہا کر دیا۔

احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی، جبکہ حکام نے جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سکیورٹی اقدامات کے تحت میٹرو اسٹیشنوں کے متعدد داخلی راستے بند کیے گئے، ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر استعفیٰ دیں۔ تحریک اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جانے سے اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا مقصد دہرے اندراج اور نااہل ووٹروں کے نام ختم کرنا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے اقلیتی اور پسماندہ برادریاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک رواں سال اس وقت نمایاں ہوئی تھی جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کیلئے ’’کاکروچ‘‘ کا لفظ استعمال کیے جانے پر تنازع پیدا ہوا۔ اس تحریک کے تحت ہونیوالے احتجاج کے بعد جولائی میں امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم مستعفی ہوگئے تھے۔