ریاض (ایجنسیاں) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا، حملے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوا بازی نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ہفتے کی دوپہر ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی مجموعی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے حملے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق تک فضائی آپریشن معطل رہیں گے، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
حملے سے قبل ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی تھی کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ فضائی کمپنی سے رابطہ کرکے پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کر لیں۔
فلائٹ شیڈول کے مطابق ایئرپورٹ پر دنیا بھر کے لیے 90 پروازیں منسوخ اور 73 تاخیر کا شکار ہوئیں۔ کراچی سے ریاض جانے والی 6 اور اسلام آباد سے ریاض جانے والی 2 پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے ان شہریوں سے رابطے کی اپیل کی ہے جن کی پروازیں متاثر ہوئیں یا ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہونے کے باعث وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق متاثرہ شہری ان ممالک میں قائم سعودی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے رابطہ کریں جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔ سعودی سفارتی مشنز انہیں ضروری معاونت اور رہنمائی فراہم کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کا حملہ جمعرات کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے دو حملوں کے دو روز بعد ہوا۔ جمعرات کے حملوں میں تین سعودی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد اور یمنی حکومتی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یمنی حکومتی فورسز کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں پر 2750 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1400 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے۔

