نیا نظام، نئی بحث، مگر تجویز پرانی!

لکھنا تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹیسٹ میں منصوبہ سازوں کی بدترین شکست پر جو کسی بھی غیر جانبدار اور شاہینوں کی پرواز سے محبت کرنے والے شائقین کی بات نہیں سنتے اور ماہرین کی بات مانتے نہیں ہیں۔کرکٹ بورڈ کے ان پیر تسمہ پا حضرات کو اپنی کمائی کی تو فکر ہے، لیکن ان کو قومی حمیت و آبرو کا کچھ پتہ نہیں۔ ہمارے ملک کے حوالے سے بہت کچھ کہا جاتا اور کہا جا رہا ہے انہی میں کھیلوں کا شعبہ بھی ہے جس میں ہم بری طرح پیچھے رہتے چلے جا رہے ہیں۔ ہاکی کا بُرا حال ہوا تو کرکٹ کے دم سے کچھ حوصلہ تھا، لیکن جب سے عاقب جاوید نے بورڈ کے ڈکٹیٹر کا نظام سنبھالا تب سے شاہین بھی پرواز بھول گئے، میں نے اپنے ایک کالم میں اذان اور عبداللہ کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ نوجوانوں کو یکایک میدانِ جنگ میں جھونک دینے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ ان کا مستقبل خراب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، ماضی میں جب کرکٹ میں سنجیدگی تھی، ٹیسٹ کرکٹ کے مقابلوں میں سہ روزہ میچز بھی رکھے جاتے تھے کسی بھی ٹیسٹ سے قبل دو تین ایسے میچ ٹیموں کو موقع دیتے تھے کہ وہ اپنے نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو آزمائش سے گذار لیں،یوں ہوتا یہ تھا کہ یہ میچ ابھرتے کھلاڑیوں کے لئے مواقع مہیا کرتے تھے اب صورتحال یہ ہے کہ ایسے مواقع نہیں ہیں اور نوجوانوں کو ہوم سیریز کے حوالے سے جانچا اور موقع دیا جاتا ہے اس سے جب وہ اہم ٹیم کے مقابلے میں براہِ راست مقابل آتے ہیں تو اکثر اچھے ابھرتے کھلاڑی بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کا مسئلہ ہے یہ تربیت غیر ملکی ماحول اور وکٹوں کے لحاظ سے نہیں ہوتی،بلکہ ہماری اپنی بنائی وکٹوں پر کھیلنے سے ہوتی ہے اور ہماری وکٹیں معیاری نہیں ہیں،کئی بار یہ تجویز سامنے آئی کہ ملک کے مختلف شہروں میں دنیاء کرکٹ کے میدانوں کی مناسبت سے وکٹیں اور گراؤنڈ تیار کی جائیں تاکہ ان پر قومی مقابلوں کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت عالمی معیار کی ہو، لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ کرکٹ اکیڈمی میں بھی تربیت کا معیار بہتر نہیں ہے۔

بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے لیکن یہ عرض کرنا ہی بہتر ہو گا کہ بورڈ کے کرتا دھرتا نے مہمان ٹیموں کی آمد پر اپنی وکٹوں کو اپنے سپنر کو مددگار بنا کر میچ جیت لینے ہی کو فتح جانا اور بھول گئے کہ دنیاء کرکٹ کی وکٹیں ایسی نہیں ہوتیں، اس کا مظاہرہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ہی ٹیسٹ سے ہو گیا کہ ہمارے شاہین بڑی شان سے یہ میچ90رنز سے ہار گئے حالانکہ ہلکی رفتار والے ہمارے فاسٹ باؤلروں نے تو اس وکٹ سے بھرپور استفادہ کر لیا تھا اگر ایک آدھ باؤلر 145 سے150 کلو میٹر کی رفتار والا بھی ہوتا تو نتیجہ کہیں بہتر نکلتا تاہم ہمارے بیٹر جن میں نوجوان ا ور تجربہ کار بھی شامل ہیں اس تیز اور باؤنسی وکٹ پر سے اُٹھنے والی گیندوں کو نہ سنبھال سکے اور وکٹ پر وکٹ گنواتے چلے گئے۔اب چیف کوچ سرفراز احمد(ماشاء اللہ) بیٹروں پر برس رہے ہیں وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ بیٹر کن اور کیسی وکٹوں پر کھیلتے چلے آ رہے ہیں اور یہ وکٹ تو ایسی تھی کہ کھلاڑیوں کو عام باؤلر کی اٹھتی ہوئی گیند بھی نظر نہیں آتی تھی حتیٰ کہ بابر اعظم اور شان مسعود جیسے کھلاڑی بھی ہاتھ کی انگلیاں زخمی کرا بیٹھے۔ شان مسعود کے زخمی ہونے کا نقصان تو چوتھی اننگز میں ہو گیا جب زخمی ہاتھ کے ساتھ کھیلنے کے لئے مجبور ہوئے تو سنبھل نہ سکے۔اب دوسرے ٹیسٹ کے لئے دعوے کئے جا رہے ہیں دیکھئے دو اگست سے کیا ہوتا ہے اس میں اذان اور امام کا کوئی قصور نہیں، سلمان آغا بھی تو ناکام تر ثابت ہوئے۔ عرض پھر یہی ہے کہ کرکٹ کی جان پیر تسمہ پاء سے چھڑائیں اور ماہرین کی اس رائے پر عمل کریں کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط کریں۔ ملک کے مختلف حصوں میں عالمی معیار کے مطابق وکٹوں پر کھلاڑیوں کو کھیلنے دیں تاکہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔

قارئین! شروع میں جیسا میں نے عرض کیا کہ ارادہ کرکٹ پر لکھنے کا تھا، مگر موضوع اور بھی اہم آ جاتے ہیں لیکن جب قلم سے الفاظ تحریر ہونا شروع ہوئے تو خودبخود حالات کے مطابق لکھنے پر مجبور کرتے رہے،حالانکہ خیال تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کی ا ہم بحث کے ازسر نو آغاز کے حوالے سے گذارش کروں گا کہ اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ یہ مہم جو سرد پڑ گئی تھی پھر سے زندہ ہو کر نئے انداز سے سامنے آ گئی ہے اور اکنامک سمٹ کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں مہم کے بانی میاں عامر محمود اور وزیر داخلہ محسن نقوی یک زبان ہو گئے ہیں،اسی پر سوشل میڈیا میں کسی نے پوسٹ کیا کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔بہرحال محسن نقوی نے بڑے ڈھیلے انداز میں صدارتی نظام کے حوالے سے تائید نہیں کی،اس سلسلے میں عرض ہے کہ جو تجویز اب میاں عامر محمود نے دہرائی کہ ڈویژنوں کو لسانی نہیں،انتظامی نقطہ نظر سے صوبوں کا درجہ دیا جائے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ابتداء میں ان کے انداز اور بات پر شبہات پیدا ہو گئے تھے اگرچہ سوشل میڈیا پر اب بھی بلی اور تھیلے کی بات کی جا رہی ہے۔

میں قارئین کی توجہ کے لئے یہ عرض کر دوں کہ یہ تجویز کوئی پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ یہ جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت کے دوران تحریک استقلال کی طرف سے سامنے آئی تھی، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی۔ ایم آر ڈی کے دور سے پہلے محترم ایئر مارشل(ر) اصغر خان نے برکی روڈ پر بھائی کے مرغی خانے کو اندرونی جماعتی سرگرمی کا مرکز بنا لیا تھا تب ملکی نظام کے حوالے سے مختلف شعبوں کے لئے تجاویز تیار کرنے کی غرض سے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں،آئین اور قانونی اصلاحات کمیٹی کے سربراہ مرحوم میاں محمود علی قصوری تھے اس کمیٹی نے اپنی جو سفارشات پیش کیں ان میں ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے کی تجویز تھی جس کا سربراہ لیفٹیننٹ گورنر اور نظام نئی دہلی جیسا ہو، حالات نے ان سفارشات کو آنے اور ان پر بجث کی مہلت نہ دی،میاں عامر محمود نے ابتدا کی تھی اور اب محسن نقوی نے تقویت دی ہے جس پر سوشل میڈیا پر بجٹ چل نکلی ہے۔ کسی نے پوچھا کہ اگر یہ سب ہو گیا تو پھر ”تیرا کیا بنے گا کالیا“ بہرحال اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن کرکٹ کے شوق نے موضوع سے اتفاق نہیں ہونے دیا،اِس لئے پھر کبھی سہی!