جدید دور میں مواصلات کے شعبہ میں اتنی برق رفتار ترقی ہوئی اور مزید ہوتی جا رہی ہے کہ ہم جیسے پرانے لوگوں کو بڑی مشکل پیش آ رہی ہے۔ یقین جانئے میں بھی موبائل فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتا ہوں لیکن اب تک اپنے صحافتی کام کا گذارہ ہو رہا یا پھر لینڈ لائن ٹیلی فون سے نجات مل گئی ہے، اس سے فائدہ تو یہ ہوا کہ موبائل میں ڈائریکٹری بھی ہے اور فیڈ کئے گئے نمبر یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ نام سے نہ صرف نمبر مل جاتا بلکہ فون بھی ہو جاتا اور سن بھی لیا جاتا ہے۔ ایک حد تک فیس بک سے مستفید ہوتے ہیں تو ویٹس ایپ کا استعمال بھی آ ہی گیا ہے، اس سب کے باوجود کئی بار بچوں کا تعاون حاصل کرنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ میرا بڑا پوتا محمد اشعر پاس بیٹھا ہو تو ٹوک بھی دیتا ہے۔ نئے دور کے بندے نہ ہونے کے باعث ہم معمر لوگوں کودقت تو ہوتی ہے لیکن نوجوان مدد کے لئے موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کی بہت سی باتیں سر سے گزر جاتی ہیں، میڈیا کمپنیوں کی طرف نئی نئی سہولتوں کے بارے میں اعلان ہوتے رہتے ہیں۔ میری اپنی ذات کی حد تک یہ غیر مفید ہیں کہ مجھے مختلف ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا ہی نہیں آتیں۔ بعض کے حوالے سے صاحبزادے سے رجوع کرتا ہوں تو جو مفید ہو وہ اسے درست کر دیتا لیکن عام طور پر یہ کہہ کر کہ آپ کا کام چل رہا ہے اس لئے کوئی ضرورت نہیں۔ مزید معلومات سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ سب یوں یاد آیا کہ موبائل پر اکثر یہ اطلاع نظر سے گزرتی ہے کہ آپ کے لئے اپ ڈیٹس موجود ہیں، کلک کرکے حاصل کریں جب اس کی تفصیل صاحبزادگان سے معلوم کی تو کہا گیا کہ آپ الجھن میں نہ پڑیں، ایسا ہوتا رہتا ہے کہ کمپنیاں نئی اختراع کریں تو صارفین تک پہنچاتی ہیں اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیتی ہیں چنانچہ جو ضرورت ہوتی ہے اس کے حوالے سے برخوردار خود ہی انگلیاں چلا لیتے ہیں ورنہ کہتے ہیں نظر انداز کر دیں۔
تفصیل جان لینے ہی سے معلوم ہوا کہ یہ جو بعض حضرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا سافٹ ویر اپ ڈیٹ ہو گیا ہے تو اس سے کیا مراد ہے، اسی حوالے سے کہاجا رہا ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی طرف سے تحفظات پر جو ہنگامہ کیا گیا اور اب مطالبہ کیاجا رہا ہے اس کی وجہ سے سرکاری اتحاد متاثر ہوا ہے اور بلاول کے نعرہ مستانہ سے یوں لگتا تھا کہ کچے دھاگے کی ڈور اب ٹوٹی کہ تب ٹوٹی۔ لیکن ایک ہی ملاقات نے حالات کی شدت میں کمی کر دی کہ محسن نقوی صاحب نے اپنے بزرگ صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرلی اور یوں کچھ سدھار آ گیا۔ اس پر ہی تو کہا گیا کہ ایوان صدر کا ”سافٹ ویر اپ ڈیٹ“ ہو گیا، تاہم حال ہی میں منگل کے روز قومی اسمبلی میں جو کارروائی ہوئی اس سے پتہ چلا کہ مجموعی طور پر پیپلزپارٹی کا سافٹ ویر اپ ڈیٹ نہیں ہوا،اس روز پیپلزپارٹی کے تجربہ کار پارلیمنٹیرین حضرات نے کچھ ایسا رویہ اختیار کیا کہ ایجنڈے پر موجود کوئی ایک بھی کارروائی زیرغور نہ آ سکی اور اراکین ایوان کو نکتہ ہائے اعتراض پر تقریروں کا موقع مل گیا۔اب بلاول بھٹو نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ آزادکشمیر انتخابات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے تحفظات پر کسی نے توجہ نہیں دی اور بات چیت کے لئے رجوع نہیں کیا گیا، اس لئے مسلم لیگ(ن) سے عارضی طور پر تعاون کا سلسلہ ختم، اس کے ساتھ ہی بلاول نے پھر ایک ایسی بات کہہ دی کہ اس کا جواب رانا ثناء اللہ کی مجبوری بن گئی اور بعد میں بلاول کے حوالے سے وضاحت آ گئی کہ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ دال کالی ہے، اگرچہ جو سنا گیا وہ یہ تھا کہ ایک پیج درست ہی سہی لیکن دال میں کچھ تو کالا ہے، اس کے جواب ہی میں تو رانا ثناء اللہ نے کہا ہم دال میں سے سب کالا نکال دیں گے، ان کا موقف تو یہ ہے کہ بلاول کو آزادکشمیر انتخابات کے حوالے سے پوری اور درست معلومات نہیں دی گئیں۔
یہ سب جو بھی ہے اس سے حالات میں تغیر کا احساس تو ہوتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں میں بڑی تیزی آ گئی۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے وفد نے اپوزیشن رہنماؤں سے بھی تفصیلی ملاقات کرلی۔ اس سلسلے میں نوید قمر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ضرور ہے لیکن وہ حکومت میں شامل نہیں اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب اتحادیوں کی ضرورت محسوس نہیں کرتی اور ایران۔ امریکہ کشمکش سے جو فائدہ برسراقتدار طبقے کو ملا اس نے حکومتی اراکین کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب اتحادیوں کی پرواہ نہیں۔ اس ذریعے نے توجہ دلائی کہ منگل کو قومی اسمبلی میں جو ہوا یہ سلسلہ جاری بھی رہ سکتا ہے اور جب تک تحفظات دور نہیں ہوتے کارروائی نہیں ہوگی۔ ادھر خود بلاول بھٹو اور ان کی جماعتی کابینہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ یہ غلط فہمی دور کرلینا چاہیے کہ پیپلزپارٹی کے تعاون کے بغیر کوئی آئینی ترمیم منظور کرائی جا سکتی ہے اس ذریعے نے کہا کہ پیپلزپارٹی جدوجہد والی جماعت ہے اور ایسے کسی بھی وقت سے نہیں گھبراتی جب اسے پھر سے اس راستے پر چلنا ہو۔
یہ سب ظاہر ہے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے گو اپوزیشن سے مل کر مخالفانہ تاثر دیا ہے لیکن کمپنی والے ایپس کا اپ ڈیٹ درست کر سکتے ہیں اور پھر نوکرانی پرانی تنخواہ پر ہوگی۔ پیپلزپارٹی کے 70والی جماعت کے نظریاتی کارکن اور راہنما تو آصف علی زرداری کی گہرائی والی مفاہمت کے پہلے ہی سے قائل نہیں ہیں اور اب تو ان کو مسلم لیگ (ن) سے شکایات بھی بڑھ گئی ہیں اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ بلاول ترقی پسندانہ راستہ ہی اپنائے اگرچہ حالات موافق نہیں ہیں۔
جہاں تک اسلام آباد کے ”پاورز کاریڈورز“ میں ہلچل کی بات ہے تو جمود تو زیادہ دیر نہیں رہتا، یہ تاثر نشاندہی کرتا ہے کہ حکمران جماعت نے مسائل اور مطالبات کو نظر انداز کرنے اور مستقبل کے لئے نئے منصوبے بنا کر ان پر عمل کا جو سلسلہ شروع کیا اس سے بے چینی لازم تاہم پارٹی کے ایک سینئر راہنما کی تجویز ہے کہ بلاول اور پارلیمانی پارٹی کو ایوان کو مضبوط کرنے کے لئے اتفاق رائے کی کوشش کرنا چاہیے کہ جو کچھ ظاہراً نظر آتا ہے وہ پیپلزپارٹی کا کمبل چرانے والی بات ہے اس لئے جماعت کو اپنا مستقبل بھی دیکھنا ہوگا، حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپ ڈیٹ درست ہونے کے لئے مداخلت ضروری ہوگئی لیکن تحفظات پر بات ضرور ہوگی کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے صدارتی نظام کی تشہیرکی جارہی ہے۔

