یورپ (خبر ایجنسیاں) یورپ میں دو روز کے دوران 8 مسافر طیاروں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں موصول ہونے کے باعث ہزاروں مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد ہوائی اڈوں پر ہنگامی حفاظتی اقدامات کیے گئے اور فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔
خوش قسمتی سے تمام متاثرہ طیارے محفوظ رہے اور تلاشی کے دوران کسی بھی طیارے سے بارودی مواد برآمد نہیں ہوا۔ اس دوران یورپ کے مختلف ممالک میں پروازوں کو ہنگامی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
پروازوں کے اعداد و شمار کے مطابق وارسا سے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے جانے والی پولش فضائی کمپنی کی پرواز کو بم کی دھمکی کے بعد ہنگامی طور پر وارسا موڈلن ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔ کوپن ہیگن سے وارسا آنے والی ایس اے ایس کی پرواز کو بھی اسی نوعیت کی دھمکی موصول ہوئی۔
اسپین سے مانچسٹر جانے والی ریان ایئر کی پرواز کو لینڈنگ کے فوراً بعد خالی کرا لیا گیا، جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے طیارے کو گھیرے میں لے کر اس کی تلاشی لی۔
بلغاریہ کے شہر صوفیہ، اسرائیل کے شہر تل ابیب اور اٹلی کے شہر برگامو سے آنے والی پروازوں کو بھی ای میل کے ذریعے بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صوفیہ ہوائی اڈے پر کمانڈوز نے طیاروں کی تفصیلی تلاشی لی۔
اسی طرح لزبن اور ڈبلن سے روم آنے والی دو پروازوں کو بھی دھمکیاں ملیں، جنہیں اٹلی کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں بحفاظت اتارا گیا۔
بم کی دھمکیوں کا یہ سلسلہ 2 نومبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب لندن سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی پرواز کو دھمکی ملنے کے بعد ہنگری کے لڑاکا طیاروں کے حصار میں بوڈاپسٹ ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
متاثرہ طیاروں کی تلاشی مکمل ہونے کے بعد حکام نے تمام دھمکیوں کو جھوٹا قرار دیا۔ کسی بھی واقعے میں بارودی مواد یا جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق مختصر وقت میں متعدد ممالک کی پروازوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ کسی منظم مہم یا ہائبرڈ سیکیورٹی خطرے کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد یورپی فضائی نظام میں خلل ڈالنا ہو۔ یورپی ممالک کی پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے ادارے دھمکی آمیز ای میلز اور کالز کے پیچھے ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

