،،ستھرا پنجاب،، نے عید میلہ لوٹ لیا

پنجاب میں بڑی عید کے تہوار کا میلہ ،ستھرا پنجاب پروگرام نے لوٹ لیا ،لاکھوں جانوروں کی قربانی ،کوئی الائیش نہ گندگی ،دھلی ہوئی گلیاں بازار اور ہر طرف گلاب کی خوشبو،ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کو اللہ دین کا چراغ مل گیا ہے جسے رگڑتے ہی پورے پنجاب میں صفائیاں ہو گئیں ،ستھرا پنجاب کی ٹیم نے شدید گرمی، طویل اوقاتِ کار اور مسلسل دباؤ کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جب لوگ اپنے گھروں میں عید کی خوشیاں منا رہے تھے، تب یہی کارکن سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں صفائی کے فرائض انجام دے رہے تھے، کسی بھی کامیاب نظام کی بنیاد ایسے ہی گمنام ہیروز ہوتے ہیں ، دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے بھی آئے ہیں جب قومیں دہائیوں کی تاخیر، بے ترتیبی اور غیر یقینی کو چیرتے ہوئے حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہیں، عام طور پر بڑے انقلاب لمبی مدت کی پالیسیوں سے پیدا ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھی حالات کے سینے پر ایک ایسا واقعہ درج ہو جاتا ہے جس کے پیچھے نہ کوئی شور ہوتا ہے، نہ سیاسی نعرے صرف ایک فیصلہ کن قیادت، واضح وژن اور عمل کی وہ شدت جو کسی نظام میں جان ڈال دیتی ہے، پنجاب کا حالیہ ’’سُتھرا پنجاب پروگرام،، اسی نوعیت کی ایک بڑی کہانی اور ایسی پیش رفت جو شاید آج کے پاکستان کے لیے امید اور عملی تبدیلی کی سب سے روشن علامت بنی ہے۔

چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اخترزمان سے اس معاملے پر بات ہوئی تو انہوں نے اس کا کریڈٹ خود لینے کی بجائے اسے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ویژن کی کامیابی قرار دیا اور بتایا کہ پنجاب کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے عید پر صفائی کی اس ستھرا پنجاب خصوصی مہم کو اپنے اپنے علاقوں میں لیڈ کیا،سیکرٹری بلدیات میاں شکیل احمد سے میں نے کہا کہ یہ عید صفائی ستھرائی کے لحاظ سے تاریخ رقم کر گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم سب نے محنت کی مگر شاباش کا اصل حقدار ڈی جی ستھرا پنجا ب بابر صاحب دین اور اسکی ٹیم ہے،میاں صاحب کو میں نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر پنجاب بھر میں صفائی کے جو مثالی انتظامات دیکھنے میں آئے، انہوں نے نہ صرف شہریوں کو متاثر کیا بلکہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی بھی اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران رہ گئے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قربانی کے لاکھوں کروڑوں جانوروں کے باوجود پورا صوبہ ایک منظم اور جدید صفائی نظام کے تحت چل رہا ہے، گلیاں، سڑکیں، بازار اور رہائشی علاقے غیر معمولی طور پر صاف ستھرے دکھائی دے رہے تھے۔

عید کے اگلے روز ہمارے گھر فیملی ڈنر تھا جس میں کینیڈا سے آئے ہوئے عزیز و اقارب بھی شریک تھے۔ کینیڈین پاکستانیوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر قربانی کے باوجود آلائشوں کے ڈھیر نظر آ رہے تھے نہ گندگی دکھائی دے رہی تھی اور نہ ہی بدبو کا کوئی احساس تھا، ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بعض اوقات اتنے بڑے ایونٹس کے بعد صفائی کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں لیکن پنجاب میں جس انداز سے صفائی کا انتظام کیا گیا، وہ قابل تعریف ہے۔

یہ حقیقت میں “ستھرا پنجاب پروگرام” کا نتیجہ ہے، جس نے گزشتہ چند برسوں میں صفائی کے شعبے میں ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا ہے، آج پنجاب کے صفائی ماڈل کی مثالیں نہ صرف پاکستان کے دیگر صوبوں میں دی جا رہی ہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس تبدیلی کو سراہ رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی صرف بڑے منصوبوں، پلوں، سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں آنے والی بہتری ہی اصل کامیابی ہوتی ہے، صفائی ستھرائی بھی انہی بنیادی سہولیات میں شامل ہے جو شہریوں کے معیارِ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں، ایک صاف ستھرا ماحول نہ صرف بیماریوں کے خاتمے میں مدد دیتا ہے بلکہ شہریوں میں اعتماد، خوشی اور اطمینان کا احساس بھی پیدا کرتا ہے،ستھرا پنجاب پروگرام نے اسی بنیادی ضرورت کو اپنی ترجیح بنایا، اس پروگرام کے تحت صفائی کے روایتی طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، مشینری میں اضافہ کیا گیا، نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا گیا اور فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کو واضح اہداف دیے گئے جس کے نتیجے میں صفائی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

ستھرا پنجاب کی موجودہ کہانی کا آغاذ لاہور سے ہوا جہاں سڑکوں کو دھویا جاتا اور پھر عید الضحیٰ کے موقع پر جب ہم مسلمان ایک اسلامی فریضہ ادا کرتے ہوئے دوسرے اسلامی فریضے یعنی صفائی کو بھول کر ہر طرف آلائشوں کے ڈھیر لگا دیتے تو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے ہمارا یہ ڈالا ہوا گند اس طرح صاف کرنا شروع کیا جیسے یہ تھا ہی نہیں، لاہور سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب پورے پنجاب کے متعلق ہے ، 13 کروڑ کی آبادی، ہزاروں قصبے، 25 ہزار سے زیادہ دیہات، اور شہروں کا وہ سلسلہ جو برسوں سے ناقص صفائی، بکھرے ہوئے نظام، اور عدم توجہی کا شکار تھا، پنجاب کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کچرے کے ڈبے کم تھے یا گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں،اصل مسئلہ یہ تھا کہ نظام نام کا کوئی جال موجود ہی نہیں تھا، دیہات کو کبھی سرکاری طور پر صفائی کی باقاعدہ سہولت ملی ہی نہیں تھی ، جبکہ شہر بھی نیم جان، غیر مربوط اور غیر شفاف نظام کے رحم و کرم پر تھے،لیکن پھر اس کہانی میں وہ موڑ اس وقت آیا جب موجودہ حکومت نے یہ احساس کیا کہ صفائی محض بلدیاتی مسئلہ نہیں، یہ صحتِ عامہ، معاشرتی وقار، شہری نظم و ضبط اور معاشی ترقی کے پورے تانے بانے کو متاثر کرتی ہے۔

پاکستان میں سالہا سال سے شہروں اور دیہات کے درمیان بنیادی سہولیات کا فرق ایک تلخ حقیقت رہی ہے مگر ’’سُتھرا پنجاب‘‘ نے پہلی بار اس لکیر کو مٹا دیا،آج پورے پنجاب میں روزانہ 50,000 ٹن کچرا جمع ہوتا ہے،ہر گاڑی، ہر روٹ اور ہر ڈمپنگ پوائنٹ ایک ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہے،پورا نظام مصنوعی ذہانت کے نظام کے تحت چلتا ہےہر، بن اور ویسٹ پوائنٹ کا ڈیٹا ریئل ٹائم ڈیش بورڈ پر موجود ہوتا ہے،یہ شاید پاکستان کی بیوروکریسی میں شفافیت کی سب سے بڑی مثال ہے،فنانسنگ کا نیا ماڈل خود انحصاری کا راستہ بن رہا ہے، اس نظام کو چلانے کے لیے تین ستون کھڑے کیے گئے،ہلکی اور مناسب صارف فیس،حکومتی بنیادی گرانٹس،کاربن کریڈٹس اور ویسٹ ٹو انرجی کی آمدن، ان سب کا پیسہ ایک ہی اکاؤنٹ میں جاتا ہے جس پر کسی سیاستدان یا کسی محکمے کی مداخلت ممکن نہیں،اسی مالیاتی شفافیت نے بینکوں کا اعتماد جیتا، جس کے بعد ہزاروں نئی گاڑیاں اور مشینری فنانس ہوئیں،یہ نظام آنے والے برسوں میں ریونیو پازیٹو ہو جائے گا،ایک ایسی بات جس کا تصور بھی چند سال پہلے ناممکن تھا۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق،سیکرٹری بلدیات میاں شکیل احمد اور ڈی جی ستھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین ،انکی ٹیم اور ہزاروں صفائی کارکنان تحسین کے مستحق ہیں ، جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت، منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت موجود ہو تو بڑے سے بڑے چیلنج سے بھی کامیابی سے نمٹا جا سکتا ہے۔