کالم کا یہ عنوان سنتے ہی تقریباً نصف صدی قبل کی مشہور بھارتی فلم ”شعلے“ یاد آ جاتی ہے، جس کا یہ جملہ جو فلم کے وِلن گبر سنگھ نے ادا کیا تھا آج ایسا لگ رہا ہے جیسے پاکستانی قوم سے پوچھا جا رہا ہو کہ اب تیرا کیا بنے گا کالیا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہم دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اور اسلامی دنیا کی متوقع ایٹمی طاقت ایران کے درمیان صلح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ اسی امریکہ کے ”زیر اثر ادارے“ عالمی بنک اور یو این او (اقوام متحدہ) پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دے رہے ہیں جو بدترین غذائی قلت کا شکار ہے۔ جہاں غریب کے پاس کھانے کو نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے پاکستان کو ان 10 ممالک میں شامل کیا ہے جہاں خوراک کا عدم تحفظ خطرناک حد پر پہنچ گیا ہے اور پاکستان شدید غذائی قلت کا شکار ٹاپ 10 ممالک میں نویں نمبر پر ہے۔ ان ملکوں کے نام سُن کر حیرانی ہوتی ہے کہ آج ہم ان ممالک کی سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں بھوک کے عالمی مراکز افریقی ممالک کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ غذائی قلت کا شکار ٹاپ 10 ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، کانگو، نائیجیریا، میانمار (برما)، سوڈان، یمن، شام، جنوبی سوڈان اور بنگلہ دیش شامل ہیں اور زرعی ملک ”کہلانے“ والا پاکستان غذائی قلت کا شکار ممالک میں نویں نمبر پر ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہوتے ہوئے اس حالت کو کیسے پہنچا کہ اس کا شمار بدترین غذائی قلت رکھنے والے ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔ غذائی قلت کا شکار ان ممالک میں بنگلہ دیش ایک زرعی ملک نہیں ہے لہٰذا وہاں غذائی قلت کا مسئلہ ہو سکتا ہے جبکہ باقی آٹھ ممالک طویل عرصے سے اندرونی خانہ جنگی اور دوسرے ممالک کی مسلط کی گئی جنگوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ پاکستان کیسے اس ”ٹاپ ٹین فہرست“ میں شامل ہوا کیونکہ آج سے صرف سات سال قبل غذائی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان 94 نمبر پر تھا، آخر ایسا کیا ہوا کہ سات سال میں ہم ٹاپ 10 میں پہنچ گئے۔ دنیا کے ٹاپ 10 بہترین ممالک میں شامل ہونا تو فخر کی بات ہے، لیکن وہ ٹاپ 10 ممالک جہاں شدید غذائی قلت ہے اس میں شمولیت تو یقینا ندامت ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ10 لاکھ افراد غذا کی شدید کمی کا شکار ہیں جن میں 93 لاکھ افراد بحران کی سطح پر ہیں اور 17 لاکھ افراد ہنگامی حالت میں قحط کے بعد قریب والی سطح پر ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مسئلہ ”پالیسی اور گورننس میں خامیوں“ سے جڑا ہوا ہے اور یہ مسئلہ وقتی نہیں ہے بلکہ ”ساختی نوعیت“ کا ہے یعنی یہ ہماری مستقل پرابلم ہے، جس سے نپٹنے کے لئے ہمیں ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ زرعی اصلاحات لانا ہوں گی، پانی کا موثر استعمال کرنا ہو گا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانا ہو گا۔ماہرین کے مطابق یہ ایک انسانی المیہ ہے اور اس وقت ہماری معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
غذائی درآمدات میں اضافہ ہماری طویل المدتی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔عالمی سطح پر بھی صورتحال تشویش ناک ہے۔ جنگوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور کم ہوتی ہوئی انسانی امداد نے غذائی بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے سیلابوں سے ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دیہات میں روزگار کے ذرائع کم ہوئے ہیں۔ زرعی پیداوار میں بھی کمی ہوئی ہے اور معاشرتی عدم استحکام بھی اس کی وجہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک ارب10 کروڑ افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جنہیں کھانے کو میسر نہیں یا بہت کم میسر ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق آج ضرورت ہے کہ پاکستانی حکومت جامع حکمت عملی مرتب کرے۔
بھوک میں کمی، روزگار کی فراہمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ گزشتہ دنوں شرم الشیخ میں اقوام متحدہ انوائرمنٹل پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کانفرنس جس کا نام ”کوپ 27“ تھا میں بتایا گیا کہ 2021ء میں دنیا میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد 82 کروڑ 80 لاکھ تھی اور اس میں چار کروڑ 60 لاکھ افراد کا سالانہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف دنیا کی حالت یہ ہے کہ جو ”خوراک۔ غذا“ پیدا ہو رہی ہے اس میں سے 14 فیصد ضائع ہو جاتی ہے اگر اس غذا کو محفوظ کیا جائے تو کروڑوں افراد کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے جس کے لئے ”کولڈ چینز“ بنانا ضروری ہے۔ غذائی قلت کے ساتھ ساتھ ہمارا ایک اور مسئلہ ہمارے بچوں میں غذائیت کی کمی ہے۔
10 میں سے چار بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ عالمی بینک کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے اور اب 44.7 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ یعنی ان کی یومیہ آمدن سوا چار ڈالر سے بھی کم ہے، جبکہ شدید غربت کا شکار آبادی 16 اعشاریہ 5 فیصد ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی یومیہ آمدن تین ڈالر سے بھی کم ہے۔ پاکستان میں اس وقت دو کروڑ سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے اور یہ بھی غربت ہی کے باعث ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ان دو کروڑ بچوں میں سے ایک کروڑ بچے گھروں، دکانوں، فیکٹریوں، ورکشاپوں میں کام کرتے ہیں یعنی ان کے والدین نے انہیں کم عمری میں ہی ”کام کاج“ پر لگا دیا ہے۔ اس چائلڈ لیبر میں پنجاب کا حصہ 14 فیصد ہے۔
قانون کے مطابق 16 سال سے کم عمر کسی بچے سے کوئی ملازمت نہیں کروائی جا سکتی اور ہر بچے کے لئے میٹرک تک تعلیم سرکاری طور پر فراہم کرنا آئین پاکستان میں لکھا ہوا ہے۔ آج پاکستان کے ہر پانچویں گھر میں کم عمر بچہ یا بچی نوکری کرتے نظر آ جائیں گے۔ اقوام متحدہ ہی کے مطابق 2050ء تک دنیا کی آبادی میں مزید دو ارب افراد کا اضافہ ہو جائے گا ان کے لئے خوراک کہاں سے آئے گی۔پاکستان کی آبادی اگر موجودہ رفتار سے پڑھتی رہی تو 2050ء میں د وگنا ہو جائے گی۔ ہمارے پاس تو موجودہ آبادی کے لئے خوراک نہیں ہے اس دو گنا آبادی کو کہاں سے کھلائیں گے۔ کالم پڑھنے والوں کو اب اس کالم کے عنوان کے معنی سمجھ آجانا چاہئیں۔

