غزہ(اناطولیہ، الجزیرہ) اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اسرائیلی جیل میں قید حماس کے سینئر رہنما حسن سلامہ کو براہِ راست قتل اور پھانسی دینے کی دھمکی دے دی۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں بن گویر کو حسن سلامہ کے جیل سیل میں ان کے سامنے کھڑے دیکھا جاسکتا ہے، جہاں انہوں نے قیدی سے کہا کہ وہ اسے قتل اور پھانسی دینا چاہتے ہیں۔ ویڈیو میں حسن سلامہ ہتھکڑیوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔
بن گویر نے ویڈیو کے ساتھ جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے تقریباً دو ہفتے قبل جیل کا دورہ کیا تھا اور حسن سلامہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر قومی سلامتی کی حیثیت سے انہوں نے جیل میں حسن سلامہ کی زندگی کو ’’جہنم‘‘ بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حسن سلامہ کو 1996 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اسرائیلی جیل میں متعدد عمر قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق انہیں 1996 کے یروشلم بس دھماکوں میں کردار کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
حماس نے بن گویر کی ویڈیو اور دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدی کے سیل میں جاکر اسے براہِ راست قتل اور پھانسی کی دھمکی دینا فلسطینی قیدیوں کے خلاف مزید جرائم کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے بھی بن گویر کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض انفرادی واقعہ نہیں بلکہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف اختیار کی جانیوالی پالیسی کا حصہ ہے۔بن گویر نے کہا ہے کہ اگر انہیں اسرائیل کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تو وہ فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے نفاذ کی کوشش کریں گے۔

