حیفہ/تل ابیب ( بین الاقوامی میڈیا)اسرائیل کے مختلف علاقے دھماکوں سے لرز اٹھے، لبنان اور ایران سے متواتر حملوں کے دوران شہر حیفہ میں میزائل حملے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق کئی گھنٹوں پر محیط پیچیدہ آپریشن کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالا گیا، جن میں ایک 40 سالہ مرد اور 35 سالہ خاتون بھی شامل ہیں، جبکہ آخری لاش حملے کے تقریباً 18 گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے مزید گرنے کا خدشہ موجود تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی احتیاط سے کی گئیں۔
تحقیقات کے مطابق میزائل کا وارہیڈ ٹکرانے کے وقت پھٹا نہیں، تاہم شدید رفتار کے باعث عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اگر وارہیڈ پھٹ جاتا تو اردگرد کی عمارتیں بھی مکمل طور پر تباہ ہو سکتی تھیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل فضا میں ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا، جس کے باعث اس کا رخ تبدیل ہوا اور دفاعی نظام اسے بروقت نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ پیر کی صبح کیے گئے ایک اور حملے میں کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا، جس سے مزید 4 افراد زخمی ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر چھوٹے دھماکوں سے گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران کی جانب سے 500 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں سے متعدد آبادی والے علاقوں میں گرے اور کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر شہری بم شیلٹرز میں ہونے کے باعث محفوظ رہے، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد محفوظ کمروں میں موجود نہیں تھے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مسلسل حملوں کے باعث دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ رامات گان، گیوا ٹائم اور بنی بریک سمیت متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

