”اے رسولؐ لوگ تم سے پوچھتے ہیں روح کیا ہے کہہ دو، اللہ کا حکم“ یہ آیت قرآنی کا ترجمہ ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ روح کا تعلق اسی ذات باری سے جو خالق کل جہاں ہے۔انسان اپنی مادی عمر کو کتنا بھی طویل کرے ایک دن اللہ کا حکم آہی جاتا ہے۔ دنیا میں بہت انسان ہیں جنہوں نے طویل عمر پائی اور جب کوئی انسان نوے سالہ زندگی یااس سے زیادہ سو سال تک پہنچتا ہے تو یہ خبر بھی بن جاتی ہے اگرچہ اس طویل عمری کے باوجود حاضر تو خالق ہی کے دربار میں ہوتا ہے اور اس کے لئے انسان کو اپنے پیچھے ایسے اعمال ضرور چھوڑ جانا چاہئیں جن کی بناء ان کو یاد رکھا جائے اور کلمہ خیر بھی کہا جائے۔
اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر الطاف حسن قریشی نوے کا ہندسہ پار کرکے چورانوے سال مادی زندگی گزار کر اللہ کے حضور حاضر ہو گئے کہ ان کی روح اس خالق کے حکم سے قفس عصری کو چھوڑ گئی۔ مرحوم کو ان کے چاہنے والوں،معتقد حضرات اور ساتھیوں نے بہت یاد کیا ہے، ان کی نماز جنازہ میں شرکت بھی مجموعی طور پر بہت کثیر تھی اور اسی کثرت کے حوالے سے روایت ہے کہ جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس مومن مسلمان پڑھا لیں اللہ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں، سو اس لحاظ سے محترم یقینا مستحق ٹھہرے ہوں گے۔
الطاف حسن قریشی نے طویل عمر ہی نہیں پائی بلکہ زندگی بھی بھرپور گزاری ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نفس کے چاہنے والے ہوں تو ان سے اختلاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ وہ دائیں بازو کے پختہ نظریات کے حامل اور جماعت اسلامی سے محبت کرنے والے تھے، یہ تو معلوم نہیں کہ مرحوم نے جماعتی قواعد کے حوالے سے رکنیت حامل کی یا نہیں کی تھی تاہم ان کی محبت اور عمل کسی بھی رکن سے کم نہیں تھا۔الطاف حسن قریشی تادم آخر اپنے نظریہ پر قائم رہے اور مضبوطی سے پرچار بھی کرتے رہے۔ یوں ان کا حلقہ تعلق بھی وسیع ہوا تو مخالفین بھی میدان میں آئے لیکن وہ اپنی دھن میں آگے بڑھتے چلے گئے۔
الطاف حسن قریشی نے عمر بھر اپنا تعلق صحافت سے رکھا اور اردو ڈائجسٹ کو کمال تک پہنچایا، کسی بھی صحافتی جریدے سے منسلک احباب کے لئے فخر کی بات ہوتی ہے کہ لوگ ان کی تحریروں کے حوالے سے ان کو جانیں اور یاد رکھیں، الطاف حسین قریشی یقینا اپنے صحافتی تجربے اور علم کے حوالے سے اس مقام پر فائز تھے جہاں ان کو ان کے پیشہ صحافت کے حوالے سے بہت یاد کیا جا رہا ہے۔
جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے تو ان سے براہ راست شرف نشست نہیں تھا کہ میں 70ء کی دہائی والے بائیں بازو والے حضرات سے منسلک تھا کہ پہلے ہی روز میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں ملوث رہا اور ان دنوں ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر بائیں بازو کی اجارہ داری تھی۔ یوں ان کے ساتھ کوئی بڑا ذاتی تعلق تو نہ بن سکا لیکن کبھی اختلاف کی بھی نوبت نہ آئی کہ میری پیشہ ورانہ زندگی کا بہت بڑا حصہ اور وقت رپورٹنگ کے شعبہ سے رہا، چنانچہ اکثر ایسی تقریبات یا پریس کانفرنسیں بھی دائرہ عمل میں آئیں جن میں مدیر حضرات بھی مدعو ہوتے تھے۔ ایسے اجتماعات میں الطاف حسن قریشی بھی آتے۔ وہ جب بھی کسی ایسی تقریب میں ہوتے تو بلالحاظ سب سے علیک سلیک بھی ہوتی، اکثر ہمارے رہنما نثار عثمانی اور آئی۔ ایچ راشد صاحب سے وہ بڑے پرتپاک سے ملتے اور وہ بھی ان کا احترام کرتے جہاں تک میرا تعلق ہے تو ایسے مواقع پر میری بھی سلام دعا ہوتی۔ ہمیں احترام کاسبق اپنے بزرگ حضرت علامہ ابوالحسنات/ سید محمد احمد قادریؒ سے ملا ہوا ہے اور یوں جب بھی آمنا سامنا ہوا انہوں نے مسکرا کر محبت سے ہاتھ ملایا اور خیرخیریت بھی دریافت کی یوں میرا تعلق اسی ادب والی کیفیت ہی سے رہا۔
جہاں تک اس دور سے بعد کے حالات کا تعلق ہے تو میرا مشاہدہ ہے کہ مرحوم نے اپنے نظریات کی سختی سے پابندی کی اور مخالفت کی بھی پرواہ نہ کی ان کی تحریریں پڑھنے سے بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ جہاں ان کو زبان پر قدرت حاصل ہے وہاں وہ اخلاقی پابندیوں کا بھی احترام کرتے ہیں۔
اب ایک اہم مسئلہ پر بات کرتے ہیں کہ الطاف حسن قریشی (مرحوم) نے صحافتی اقدار پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا، ان کی تحریروں کی وجہ سے حاکمان وقت ناراض بھی ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو تو اپنی جگہ جنرل ضیاء الحق کو بھی ان کی تحریر ناگوار گزری اور ان کو جیل کی صعوبت برداشت کرنا پڑی۔ یوں میں سمجھتا ہوں کہ آزادی صحافت کے حوالے سے ان کے کردار کا معترف ہونا چاہیے کہ میں خود بھی اسی آزادی اظہار اور آزادی صحافت کا ”مرد بیمار“ رہا اور یوں جیل یاترا بھی کرنا پڑی۔ میرے نزدیک ان کا یہ کردار اور ان کامہذب پن سب سے بڑی صفت ہے اور وہ ان پرانے بزرگوں میں سے تھے جو اخلاق کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ نظریاتی اختلاف اپنی جگہ لیکن ایک مسئلہ پر ہمارا نظریہ بھی مشترک تھا اور ہے وہ ہے نظریہ ختم نبوت، میں 1953ء کی تحریک کا نوعمر ادنی کارکن تھا اور یہ احباب اس نظریئے کے تحفظ کی تحریک میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔
اللہ ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے، ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

