امریکہ کا گمشدہ ایٹم بم

سرد جنگ کی انتہا کے دن تھے اور 5فروری 1958ء کی ایک سرد رات تھی جب میجر ہاورڈ رچرڈسن کو فلوریڈا میں ہوم سٹیڈ ائیربیس سے روس میں کسی ٹارگٹ کی جانب پرواز کا حکم ملا۔ اس کی تربیت میں B-47 بمبار طیارے کے ساتھ طویل پروازوں کی پریکٹس کرنا شامل تھا۔ اس تربیت کو ممکنہ حد تک حقیقی بنانے کیلئے جہاز میں 3500 کلو وزنی ایک نیوکلیئر بم موجود تھا جسے ایک دن تیسری جنگ عظیم شروع کرنے کیلئے میجر رچرڈسن کو گرانے کی ہدایات مل سکتی تھیں۔ نوجوان میجر نے گھڑی کی سوئیوں کو دیکھا۔ رات آدھی بیت چکی تھی۔ چند ہی لمحوں میں اُس نے اپنے B-47 جہاز کو فضا میں پہنچا دیا۔ اب وہ یوایس سٹریٹیجک ائیرکمانڈ کی جانب سے نامزد ایک انتہائی خفیہ مشن پر تھا۔ وہ کیرولائنا اور جارجیا کے اوپر پرواز کررہا تھا کہ اچانک جہاز کے رائٹ ونگ سے کوئی دیوہیکل چیز ٹکرائی۔ دھماکہ انتہائی شدید تھا۔ دھچکے سے پورا جہاز ہل گیا۔

رائٹ ونگ شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ اُس میں نصب انجن اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے لٹک چکا تھا۔ میجر رچرڈسن اور اس کے معاون پائلٹ نے ایک لمحہ کو سمجھا شاید کوئی خلائی مخلوق جہاز سے ٹکرائی ہے۔ دونوں ہوابازوں نے سوچ لیا کہ اب ان کا آخری وقت آگیا ہے۔ جہاز تیزی سے نیچے گررہا تھا۔ ان کے پاس ایجیکشن سیٹ کی آخری آپشن موجود تھی لیکن بہادر اور ماہر نوجوان پائلٹ میجر ہاورڈ رچرڈسن نے جہاز سے چھلانگ لگانے کی بجائے اپنی آخری کوششیں شروع کیں۔ جہاز 20ہزار فٹ نیچے آچکا تھا۔ اس نے گرتے ہوئے جہاز کو قدرے سنبھال لیا۔ جہاز دوبارہ بلند ہونا شروع ہوا لیکن ایک خوفناک خیال نے دونوں ہوابازوں کو سُن کردیا۔ ان کے جہاز میں ایک نیوکلیئر بم موجود تھا۔

آگ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ نیچے بسنے والے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں چند لمحوں کی مہمان تھیں۔ فیصلہ جتنا مشکل اتنا ہی جلدی کرنے کا تھا۔ جہاز کو کریش لینڈنگ کرنا تھی جس سے بڑے جھٹکے پیدا ہوتے۔ آگ کے قریب آنے یا جھٹکوں کے باعث جہاز میں موجود نیوکلیئر بم بہت بڑی آبادی کی بربادی کا باعث بن سکتا تھا۔ میجر رچرڈسن نے ایک لمحہ میں فیصلہ کرلیا۔ اس نے سٹریٹیجک ائیرکمانڈ سے اجازت طلب کی اور نظریاتی حکمت عملی کے باعث گرین سگنل مل گیا اور یہی صحیح فیصلہ تھا۔ وہ B-47 کو سوانا کے ساحل سے تقریباً دو میل دور لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ بم کمپارٹمنٹ کے دروازے کھلے اور بھاری بھرکم نیوکلیئر بم ٹائی بی آئی لینڈ کی سنہری ریت کے نزدیک کم گہرے سمندر میں گرگیا۔ پھر میجر رچرڈسن نے جہاز کو سنبھال کر قریبی ائیربیس پر اتار لیا۔ تمام عملہ محفوظ رہا۔

یہاں آکر انہیں پتا چلا کہ ان سے ٹکرانے والی شے دوسرا فوجی طیارہ F-86 تھا جس کے پائلٹ نے اپنے آپ کو ایجیکشن سیٹ کے ذریعے بچا لیا۔ کریش لینڈ نگ کے فوراً بعد ہی امریکہ کے مشرقی ساحل کی دوسری بڑی بندرگاہ اور اس کے حسین ترین شہروں کے قریب پھینکے جانے والے اس نیوکلیئر بم کی تلاش شروع ہوگئی۔ سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر بے پناہ تلاش کے باوجود بھی وہ بم اب تک نہیں مل سکا۔ یہ علاقہ دیگر آمدورفت کے ساتھ ساتھ شرمپ مچھلیوں کو پکڑنے والے مچھیروں کی پسندیدہ جگہ بھی ہے اور ان میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے جال میں اچانک ایسی چیز پھنس سکتی ہے جو سمندروں کی کسی خوفناک ترین مخلوق سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔

نوجوان میجر ہاورڈ رچرڈسن کو اس محفوظ کریش لینڈ نگ پر فوجی اعزاز فلائنگ کراس سے نوازا گیا کیونکہ وہ امریکی ائیرفورس کی ہسٹری میں غیرمعمولی کارنامہ کرنیوالے ہیرو تھے مگر اس گمشدہ بم کی ممکنہ تباہ کاری سے اب بھی لوگ بے خبر ہیں۔ 2018ء میں مرنے والے 96سالہ بوڑھے کرنل ہاورڈ رچرڈسن کے خیال میں اس بم کے ساتھ ضروری پلوٹوینم ٹریگر نصب نہیں تھا جس کے باعث یہ پھٹ نہیں سکتا۔ ائیرفورس کا بھی اسرار ہے کہ اس مہلک ہتھیار کو وہیں چھوڑ دینا محفوظ ہوگا جبکہ اس نظریئے کے مخالفین اس بم کی وجہ سے ایسے تھرمو نیوکلیئر دھماکے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں امریکہ کے مشرقی ساحل کا زیادہ تر حصہ تباہ ہوسکتا ہے۔ یہ بم کسی دہشت گرد تنظیم کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے اور بعض کو تو یقین ہے کہ اب تک ایسا ہوچکا ہوگا۔

یہ واقعہ جس نے کرنل رچرڈسن کی پوری زندگی کو ایک نیا رخ دیا اُس طرح سے ختم نہیں ہوا جس طرح انہوں نے سوچا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں اس سوچ کے ساتھ پچھلے 60سال سے زندہ ہوں کہ ہمیں ایک حادثہ پیش آیا اور میں نے جہاز کو صحیح سلامت زمین پر اتار دیا۔ میں نے اس کارنامے پر ایک جرنیل سے امتیازی فلائنگ کراس بھی حاصل کیا۔ میرا خیال تھا کہ کہانی صرف یہی تھی لیکن کہانی یہ نہیں ہے، ساری بات اُس گمشدہ نیوکلیئر ہتھیار کے بارے میں ہے‘‘۔ کرنل ہاورڈ رچرڈسن اپنی بات کرکے خاموش ہوگئے لیکن کیا ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ دوسروں کے نیوکلیئر بم تلاش کرنے والا امریکہ اپنا گمشدہ نیوکلیئر بم کب تلاش کرے گا؟