بریَمپٹن (رائٹرز، اے ایف پی، سی بی سی، ایسوسی ایٹڈ پریس)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ ایک دہائی کے دوران مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے 51 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔بریَمپٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ “بلڈ کمیونٹیز اسٹرونگ فنڈ” کے تحت فراہم کیا جائے گا، جس کا اعلان 2025 کے بجٹ میں کیا گیا تھا۔

مارک کارنی نے کہا کہ حکومت اگلے آٹھ برسوں میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی رفتار کو گزشتہ آٹھ برسوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا کرے گی۔منصوبے کے تحت 27.8 ارب ڈالر سڑکوں، پلوں، پانی اور سیوریج نظام جیسے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 6 ارب ڈالر کمیونٹی سینٹرز اور عمارتوں کی بہتری جیسے منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور ہنر مند شعبوں جیسے الیکٹریشن، پلمبر، ویلڈر اور دیگر پیشوں کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر بریَمپٹن میں ایک نئے ریکریشن سینٹر اور پارک کیلئے 64 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ مزید 13 منصوبوں کیلئے 300 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
منصوبے کے باقی 17.2 ارب ڈالر صوبوں اور علاقوں کے تعاون سے خرچ کیے جائیں گے، جن کا مقصد نئے انفراسٹرکچر اور رہائشی منصوبوں کی لاگت کم کرنا ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں نئی ایمرجنسی سہولیات کی تعمیر بھی شامل ہے۔دوسری جانب کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈین الباس نے اس منصوبے کو محض “پرانے اعلانات کی دوبارہ تشہیر” قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔

