بلی تھیلے سے باہر!

عید کی چھٹیاں پوری ہوئیں،دو روز تک لکھنے اور پڑھنے سے تو فرصت رہی لیکن مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر اثرات سے تو نظر بھی نہیں چرائی جا سکتی اس لئے نشریاتی صحافت توجہ مرکوز رہی اور اس عرصہ میں میرا اندیشہ قریباً ثابت ہوا اور بلی تھیلے سے بھی باہر آ گئی۔ ہمارے محترم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اتنے بھی بھولے نہیں، جتنا دنیا ان کو سمجھ رہی ہے نے اچانک اپنے اندر کی بات اُگل دی اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ابراہم اکارڈ پر دستخط کریں،اس حوالے سے انہوں نے قطر اور سعودی عرب کو نہ صرف پہل کرنے بلکہ جلدی دستخط کرنے کے لئے کہا، یہ دونوں ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔ سعودی عرب نے ملینز سے بڑھا کر ٹریلینز کی سرمایہ کاری کر دی اور قطر کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفظ میں دیئے جانے والے ہوائی جہاز کی شہرت تو عرصہ تک رہی تھی، قطر کوامریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ یا سمجھوتہ کرانے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور اب حالیہ دنوں میں تو ایران نے بھی قطر سے رابطہ کیا اور وہاں بعض امور پر ر مکالمہ ہوا۔جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ”ابراہم اکارڈ“ والی درفنطنی یا ٹرمپنی چھوڑی دنیا میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی، تاہم مطلوبہ ممالک کی طرف سے ردعمل بھی خاموشی ہی تھی جواب تک برقرار ہے، حالانکہ حالات حاضرہ میں یہ خاموشی ڈپلومیسی ہی سمجھی جا سکتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی کے لئے سبھی دعاگو اور بقدر ہمت اوست کوشش بھی کررہے ہیں۔

میں نے ان سطور میں ایک بار عرض کیاتھا کہ جو کچھ باہر کہا جا رہا ہوتا ہے اس کا تعلق ان اندرونی باتوں سے نہیں ہوتا جو اکثر اوقات طے بھی کی جا چکی ہوتی ہیں اور اب بھی ایسی ہی صورت حال ہے بہت سے امور طے ہو چکے۔خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسے تسلیم کر چکے ہیں اور اب تازہ ترین تو یہ ہے کہ معاہدہ یادداشت تک بات پہنچ چکی اور صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رضا مندی درکار ہے کہ ایم او یو پر دستخط انہوں نے ہی کرنا ہیں، ایرانی سرکاری میڈیا کی طرف سے جستہ جستہ حصوں کا ذکر ہوا تو وائٹ ہاؤس کی طرف سے تردید کی گئی اور اب خود امریکی مستند میڈیا (ٹرمپ کے نزدیک) نے بھی توثیق کر دی ہے جبکہ جے ڈی وینس کے مطابق معاہدہ ہو چکا دستخط باقی ہیں وہ لفظ قریب پہنچ چکے استعمال کررہے ہیں۔

حالات سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ عرض کر دیا تاہم خدشات اور احساس سے جان نہیں چھوٹتی مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سرشت کے مطابق دنیا کو امید و بیم کے درمیان لٹکا کر رکھے ہوئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ سکون ہو وہ امریکی عوام کو تو دکھ دے ہی رہے ہیں تاہم اپنے حلیف یورپی ممالک کو بھی تڑپا رہے ہیں، عالمی مارکیٹ پر اثر انداز ہیں، ان کے بیانات ہی کی روشنی میں پٹرولیم کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا اور سٹاک ایکسچینج کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس عرصہ میں اور کسی کو جتنا بھی نقصان ہوا ہو اس کی کسے پرواہ خود ٹرمپ خاندان نے تو اربوں کما لئے ہیں اور ابھی در کھلا ہے جبکہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کے عوام بہت نچلی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

اب اگر امریکہ نائب صدر اور مذاکرات کار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ معاملات طے پا چکے تو پھر ایم او یو پر دستخط کرنے میں کیا امر مانع ہے ایران کی طرف سے اس لئے ہر عہدیدار نے اعلان کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا اور دنیا کو یقین دلانے پر تیار ہے جبکہ ٹرمپ صاحب مسلسل یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اب تو بات یہاں تک آگئی کہ ایران افزودہ یورینیم سمیت پرمسئلہ پر بات کرنے کو تیار ہے اور آبناء ہرمز بھی معمول کے مطابق کھول دی جائے گی۔ یوں اگر ایران اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لیں تو بات ”آٹا گوندھتی ہلتی ہے“ والی لگتی ہے، اس لئے جو بھی تاخیر ہو رہی ہے وہ امریکہ ہی کی طرف سے ہے۔

اب ٹرمپ کے سابقہ کی طرح حالیہ ارادے کے اظہار سے مسلمان ممالک کی فکر مندی لازمی ہے کہ ابراہم اکارڈ میں واضح طور پر اسرائیل کو بطور ریاست منظور کرنا ہے جبکہ مسلمان ممالک کا پہلا اور حقیقی موقف یہ ہے کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔ اب تک اس میں اس حد تک ترمیم ہو چکی کہ دو ریاستی حل قبول ہے تاہم اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا جاتا اسرائیل تو مذاکرات کی طوالت کے دوران لبنان پر حملہ آور ہے اور غزہ پر بربریت جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تو اس نے غزہ کے 70فیصد حصے پر قبضے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور یہ سب کسی بھی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی مرضی اور منشاء کے بغیر ممکن نہیں، ٹرمپ صاحب جان بوجھ کر بھولے بنے ہوئے ہیں اور اسرائیل اپنے مقصد کی تکمیل میں جڑا ہوا ہے۔

میرا اپنا تو یہی خیال ہے کہ بات اس حد تک آ گئی کہ معاہدہ کے بارے میں کہا جانے لگا لیکن نامعلوم دل کو یقین کیوں نہیں کہ قرآن مجید، فرقان حمیدکے مطابق یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے اور ہم یہ بھول کر ہی مذاکرات کے حق میں کوشش کررہے ہیں کہ ہمارا مسئلہ تو معاشی بھی ہے۔ عام مسلمانوں کا اگرچہ مطالبہ ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ”ابراہم اکارڈ“ پر ردعمل اصول کے مطابق ہوناچاہیے کہ نامنظور ہے، لیکن خاموشی بہتر جانی گئی ہے۔ آج کی بات یہیں ختم کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑا آج تک کوئی امریکی صدر اسرائیل کا اتنا حامی نہیں تھا۔ہم پاکستانی تو اس وقت آنے والے بجٹ سے خوفزدہ ہیں کہ ٹیکس وصولی کم ہے ،جسے پورا کرنے کے لئے تو عوام کا نام لے کر انہی پر بوجھ مزید بڑھایا گیا اور اب پھر نئے ٹیکسوں کی نوید ہے اور یہ سب عوام پر ہی لگائے جائیں گے کہ اب تک تو ہر خریدنے والی شے پر مختلف نوعیت کے ٹیکس عائد ہیں،بچوں کے لئے ٹافی پر بھی ٹیکس لیا جاتا ہے،پٹرولیم تو گھر کی لونڈی ہے،اس پر لیوی بڑھانا تو ڈار سٹرٹیجی ہے جو ان کے دور وزارت خزانہ سے چلی آ رہی ہے۔