بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے اور طلبہ رہنما نیہا بورا گرفتار

نئی دہلی (بھارتی میڈیا) بھارتی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے صدر ابھیجیت دیپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی سربراہ نیہا بورا کو حراست میں لے لیا۔پولیس نے ابھیجیت دیپکے کو نئی دہلی میں ان کی رہائش گاہ سے اس وقت حراست میں لیا جب وہ کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیجیت دیپکے کو ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں ممبئی سے دہلی پہنچنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ احتجاج انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی کے دوران ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل کے الزامات کے خلاف کیا جانا تھا۔

ریلی کا مقصد کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنا بھی تھا۔ دونوں کارکنوں کو 13 اکتوبر کو جنتر منتر میں قومی پرچم لہرانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہیں پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق پولیس نے ابھیجیت دیپکے کو بتایا کہ وہ نئی دہلی نہیں جا سکتے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اس پر دیپکے نے سوال کیا کہ اگر وہ نئی دہلی نہیں جا سکتے تو کیا کسی دوسری جگہ بھی نہیں جا سکتے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آخر انہوں نے کون سا قانون توڑا ہے۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کو بھی احتجاج میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے منڈی ہاؤس کے قریب حراست میں لے لیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں سمیت متعدد مظاہرین کو پولیس نے تحویل میں لیا، جبکہ بعض مظاہرین کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہیں ان کے مقام کے بارے میں فوری طور پر معلومات نہیں مل سکیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’’لہرا دو ترنگا‘‘ ریلی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے پیش نظر نئی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور پولیس و نیم فوجی دستوں کے 25 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔ حکام نے احتجاجی اجتماع روکنے کیلئے پابندیاں بھی نافذ کیں، جبکہ سینٹرل پارک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اس کے باوجود دہلی کے مختلف مقامات پر مظاہرے ہوئے اور پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔