شب عاشور ، وفا، قربانی، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کی ایسی مثال قائم ہوئی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، مید انِ کربلا میں یزیدی لشکر کے نرغے میں گھرے ہوئے امام حسین علیہ سلام نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور چراغ گل کر دیے، پھر فرمایا کہ یزید کی دشمنی مجھ سے ہے، تم سب آزاد ہو، جو جانا چاہتا ہے چلا جائے، میں تمہیں اجازت دیتا ہوں، میری طرف سے کوئی گلہ نہیں ہوگا۔یہ ایسا موقع تھا جب موت سامنے کھڑی تھی، تلواروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی، بچوں کی پیاس دلوں کو چیر رہی تھی اور صبحِ عاشور طلوع ہونے والی تھی، ایسے میں دنیاوی مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ لوگ اپنی جان بچا لیتے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امام کا ایک بھی ساتھی نہ اٹھا، ہر شخص نے وفا کا ایسا عہد کیا جو رہتی دنیا تک مثال بن گیا،کسی نے کہا کہ اگر مجھے ستر بار قتل کر کے زندہ کیا جائے تب بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، کسی نے کہا کہ ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے، کسی نے کہا کہ زندگی تو ایک دن ختم ہونی ہے اگر حق کے لیے قربان ہو جائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی،یہ صرف چند افراد کی وفاداری کا قصہ نہیں تھا بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، یہ اعلان تھا کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا زندگی نہیں بلکہ عزت کے ساتھ حق پر قائم رہنا ہی اصل حیات ہے۔
کربلا کی پوری داستان کا مرکزی کردار صرف شہادت نہیں بلکہ مزاحمت ہے، حضرت امام حسین نے اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس فوج ہے نہ وسائل، حکومت ہے نہ دنیاوی طاقت، اس کے باوجود انہوں نے باطل کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی،یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام ہے، یہ ہمیں بتاتی ہے کہ حق کا معیار طاقت نہیں بلکہ سچائی ہے، اگر طاقت ہی حق کی دلیل ہوتی تو یزید کامیاب سمجھا جاتا اور حسینؑ ناکام قرار پاتے، مگر تاریخ نے فیصلہ اس کے برعکس دیا، آج چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی حسینؑ کا نام احترام اور عقیدت سے لیا جاتا ہے جبکہ یزید ظلم کی علامت ، نفرت اور مذمت کا نشان بن چکاہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم ہر سال محرم میں کربلا کو یاد تو کرتے ہیں لیکن کیا اس کے پیغام پر بھی غور کرتے ہیں؟ہم آنسو تو بہاتے ہیں مگر کیا ہم ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے ہیں؟ہم مجالس اور جلوس تو نکالتے ہیں مگر کیا ہم اپنے گرد و پیش میں موجود ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ کربلا کا مقصد امام اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو یاد کرنا تو ہے مگر سبق حاصل کرنا بھی ہے،آج کے دور میں یزید کا نام شاید نہ ہو لیکن جبر کی شکلیں موجود ہیں، کہیں سیاسی ظلم ہے، کہیں معاشی استحصال، کہیں طاقتور کمزور کا حق چھین رہا ہے، کہیں سچ بولنے والوں کو دبایا جا رہا ہے، کہیں قلم کو خاموش کرایا جا رہا ہے اور کہیں ضمیر کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایسے ماحول میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آج کون ہے جو جابر سلطان کے سامنے ڈٹ جاتا ہے؟یہ سوال صرف حکمرانوں کے بارے میں نہیں بلکہ ہر سطح پر لاگو ہوتا ہے،کیا کوئی سرکاری ملازم اپنے ضمیر کے خلاف ناجائز حکم ماننے سے انکار کر سکتا ہے؟کیا کوئی صحافی سچ کو چھپانے کے بجائے حقائق بیان کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟کیا کوئی جج دباؤ کے باوجود انصاف کا پرچم بلند رکھ سکتا ہے؟کیا کوئی استاد معاشرتی دباؤ کے باوجود سچائی اور کردار کی تعلیم دے سکتا ہے؟کیا کوئی تاجر ناجائز منافع کے بجائے دیانت داری کو ترجیح دے سکتا ہے؟کیا کوئی سیاست دان اقتدار کے بجائے اصولوں کو اہمیت دے سکتا ہے؟یہی اصل امتحان ہے،بدقسمتی سے آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ظلم کے خلاف نہیں بلکہ اپنے مفاد کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، جب تک ذاتی فائدہ ہو، اصول اچھے لگتے ہیں، لیکن جہاں نقصان کا اندیشہ ہو وہاں اکثر لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، یہی خاموشی ظالم کی طاقت بن جاتی ہے۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ خاموش تماشائی بن جانا بھی بعض اوقات ظلم کی مدد کے مترادف ہوتا ہےاگر معاشرے کے بااثر، تعلیم یافتہ اور صاحبِ حیثیت لوگ حق کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں تو ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے، تاریخ میں جبر کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے، حق کا راستہ کبھی ہجوم کا راستہ نہیں رہا، حضرت امام حسین کے ساتھ بھی صرف چند درجن افراد تھے جبکہ مخالف لشکر ہزاروں پر مشتمل تھا، لیکن تاریخ نے تعداد نہیں دیکھی، اصول دیکھا، طاقت نہیں دیکھی، کردار دیکھا، لشکر نہیں دیکھا، مقصد دیکھا،یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے لوگ کربلا سے حوصلہ پاتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ سچائی کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اس میں تنہائی بھی ہوتی ہے، مشکلات بھی اور قربانیاں بھی، لیکن یہی قربانیاں تاریخ کا رخ بدلتی ہیں،کربلا کا ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ حق پر قائم رہنے کیلئےصرف جوش نہیں بلکہ شعور بھی ضروری ہے، امام حسینؑ نے جلد بازی یا جذباتیت کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ ہر مرحلے پر لوگوں کو سمجھایا، دلیل دی اور حق واضح کیا، گویا ظلم کیخلاف مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں بلکہ اصولی جدوجہد ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو بھی اسی شعور کی ضرورت ہے، ہمیں ایسے لوگ چاہئیں جو نفرت نہیں بلکہ انصاف کی بات کریں، انتشار نہیں بلکہ اصلاح کا راستہ دکھائیں، ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں،اگر ہم واقعی کربلا سے سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اپنے کردار میں حسینیت کتنی ہے؟کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیا ہم کمزور کا ساتھ دیتے ہیں؟ کیا ہم ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے؟ اگر ان سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو ہم نے کربلا کے پیغام کا کچھ حصہ سمجھ لیا ہے، اور اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں صرف دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
نو محرم کی رات کا منظر ہمیں آج بھی پکار پکار کر کہتا ہے کہ حق کا راستہ قربانی مانگتا ہے، چراغ گل ہونے کے بعد بھی جو لوگ حسینؑ کے خیمے میں موجود رہے،انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ وفاداری صرف آسان حالات کا نام نہیں بلکہ مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کا نام ہے،آج بھی معاشروں، اداروں اور قوموں کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو حق کیلئے کھڑے ہو سکیں، جو سچ کا پرچم تھام سکیں، جو طاقت کے سامنے ضمیر کا سودا نہ کریں اور جو ظلم کے مقابلے میں خاموشی کے بجائے جرات کا راستہ اختیار کریں۔

