سردار پیرزادہ ریٹائر ہو گیا

چند دن پہلے پیرو کا یوم پیدائش تھا ، کلاس فیلوز اور یار دوستوں نے اسے ہیپی برتھ ڈے کے پیغامات بھیجے لیکن میں سوچتا ہی رہ گیا ، ہاں یہ ضرور جانتا تھا کہ آج تو وہ چونتیس سال تک ملازمت کرنے کے بعد ادارہ فروغ قومی زبان سے الگ ہو جائے گا ، تو اسے ہیپی ریٹائرمنٹ کا پیغام بھیجوں یا ہیپی برتھ ڈے کا ۔پیر زادہ کے بیٹے عثمان پیرزادہ نے دفتر میں الوداعی اور گھر میں ہیپی ریٹائرمنٹ کی تصاویر اور فوٹیج بھیجی تو پیرزادہ کی قابل فخر اور قابل ذکر زندگی کی فلم ذہن میں گھومنے لگی ۔

اشفاق احمد لکھتے ہیں ریٹائرمنٹ کا بڑا خوف ہوتا ہے ، میں جب اپنی ملازمت سے ریٹائر ہورہا تھا تو ہر وقت اسی سوچ میں گم رہتا کہ اب کیا ہو گا ، قدرت اللہ شہاب کہنے لگے کہ ریٹائرہونے کے خوف کا سب سے بڑا دبائو آپ کی ذات پر پڑتا ہے کہ پھرلوگ آپ پر توجہ نہیں دیتے یعنی اپنا وقت آپ کو نہیں دیتے ، ان کے وقت کی آغوش سے نکل جاتے ہیں ،پھر آپ کلب کی ممبر شپ لیتے ہیں ، گالف کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں زور لگاتے ہیں کہ نئے دوست بنیں ۔اس کا آسان نسخہ ہم متوسط درجے کے لوگوں کا ہے کہ آپ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگ جائیں ۔”لیکن مجھے پورا یقین ہے پیرزادہ بہت جلد ریٹائرمنٹ کے پریشر سے نکلے گا کیونکہ اس نے زندگی میں کسی کی مشاورت سے راستہ نہیں بنایا بلکہ پڑھنے اور دیکھنے کے لئے درکار بصارت سے محرومی کے باوجوداپنے لئے خود ایسے راستے پیدا کئے کہ معذور لوگوں کیلئےرول ماڈل بن گیا ۔

مجھے اپنے ہر کلاس فیلو پر فخر ہے لیکن جن سے پنجاب یونیورسٹی دور کے بعد بھی زیادہ رابطہ رہا ان میں پیرزادہ شامل ہے ، اس رشتے کو تین دہائیاں بیت چکیں ، کئی بار مجھ سے روٹھ بھی جاتا ہے لیکن اس میں زیادہ تر میری کوتاہیاں اور لاپروائی شامل ہوتی ہے ۔ ایک ایسا بچہ جو پانچویں جماعت میں آنکھوں کی ناقابل علاج بیماری گلوکوما ” کالا موتیا “کا شکار ہو جائے ، ڈاکٹرز سختی سے ہدایت کر دیں کہ اسے مزید نہ پڑھائیں ورنہ رہتی سہتی بینائی بھی جاتی رہے گی لیکن وہ شخص بغیر کسی بریل کو سیکھے، ماسٹر ڈگری حاصل کرے اور پھر آگے ہی آگے بڑھتا جائے ، اپنی ہی دنیا بلکہ کامیاب دنیا آباد کر لے ۔ہم کلاس فیلو تھے تو پیرزادہ بینائی کے سوال کو ٹال جاتا اور پھر ہم نے بھی یہ سوال کرنا چھوڑ دیا ۔اس کی والدہ لاہور آئیں اور ہم سے ملیں تو کہنے لگیں اب وہ مطمئن ہیں اسے اچھے دوست مل گئے ہیں ، ان کا اشارہ شائد طاہر رفیق ، میاں اختر جاوید ، جمیل فاروقی اور روؤف کی طرف تھا ۔اس کا حافظہ اتنا مضبوط ہے کہ امتحانات کی دنوں میں ایک دو بار ہم سے سوال جواب سنتا اور بس ، پیپر اپنے ہاتھوں سے خود حل کرتا بالکل نارمل طالب علموں کی طرح ، حالانکہ اس وقت بینائی نصف ہو چکی تھی اور وہ جانتا تھا کہ موذی بیماری میں بینائی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی ، مرحوم ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایک بار کہنے لگے آج عجیب منظر دیکھا کہ پیر زادہ نہر کنارے موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور طاہر رفیق اس کے پیچھے بیٹھا تھا ۔اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ زاہد مقصود اسے موٹر سائیکل بھی دے دیتا ہے ۔

فائنلز کے امتحانات دینے کے بعد اس نے ہمیں اور جوہر آباد میں اپنے گھر والوں کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی ، ایک اسپتال میں آنکھوں کا معائنہ کرایا اور ڈاکٹرز کی طرف سے بڑا رسک قرار دینے کے باوجود آپریشن کا فیصلہ کیا ، ہمیں آپریشن کی رات بتایا لیکن وہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، آپریشن ناکام ہو گیا ۔مجھے آج بھی یاد ہے باغ جناح میں واک کرتے ہوئے اس نے پہلی بار مجھے خوبصورت آنکھوں والے ایک بچے کی تصویر دکھائی تھی اور یہ وہ خود تھا ، آپریشن کی ناکامی سے بینائی کی آخری امید ختم ہوگئی لیکن وہ اندر سے اور بھی مضبوط ہوتا چلا گیا ۔اپنی کمی کو طاقت بنا لیا ، لاہور سے اسلام آباد چلا گیا ، سڑکوں پر اکیلے گھومنا ، ویگنوں پر سفر کرنا ، ملازمت کے لئے بھاگ دوڑ کرنا ، یہ سب کچھ کیا ۔ریڈیو پر سکرپٹ رائیٹنگ کی ، کمپئرنگ کی ، انگریزی ماہنامہ دی ڈپلومیٹ کا ایڈیٹر رہا ،جنگ میں ملازمت کی ، نوائے وقت میں کالم لکھا اور یہ کالم صاف صاف کے نام سے روزنامہ نئی بات میں شائع ہوتا ہے ۔اسے بہترین کالم نویسی پر اے پی این ایس ایوارڈ بھی مل چکا ہے ، منتظمین کو اعلان کے بعد علم ہوا کہ لکھنے والا بلائینڈ ہے ۔ایک ایسا موقع بھی آیا کہ ملتان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں لیکچرر ، فیڈرل پبلک سروس کمشن سے انفارمیشن آفیسر اور مقتدرہ قومی زبان میں افسر تعلقات عامہ کی ملازمتیں ایک ساتھ مل گئیں ، مشکل راستے کا انتخاب کیا ۔

انیس سو اٹھاسی ۔میں ادارہ مقتدرہ قومی زبان میں پہنچ گیا ، رات دن ایک کیا ،خبریں بنانے ، اخبارات میں چھپوانے اور اگلے دن صبح سویرے فائل ڈی جی کو پیش کرنے تک چین سے نہ بیٹھتا۔اسی ادارے میں ملازمین کے حقوق کے لئے آّواز اٹھاتا رہا ، پنشن کے لئے مقدمہ لڑا ، ڈی جی افتخار عارف کے دور میں اس کے نوائے وقت میں شائع ہونے والے کالم پر پابندی بھی لگوا دی گئی ، وہ ادارے کو پرائیوٹائز کرنے کی کوششوں کے آگے ڈٹ گیا اور عدالت جا پہنچا ۔ ، ڈاکٹر وحید قریشی ، جمیل جالبی ، پروفیسر فتح محمدملک ، ڈاکٹر انوار ، افتخار عارف اور موجودہ ڈی جی رؤف پاریکھ جیسی شخصیات کے ساتھ کام کیا ۔علمی اور ادبی رسالے اخبار اردو میں مختلف عہدوں پر کام کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر تک پہنچا۔ اخبار اردو کو ہر اس ملک تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے ۔ پیرزادہ اڈیالہ جیل سے ایک موت کے منتظر قیدی کا واقعہ بھی سناتے ہیں کہ اس نے اخبار اردو کے لئے خط لکھ دیا تھا ۔چند سال پہلے نیشنل بک فائونڈیشن نے تین روزہ میلے کے موقع پر بارہ شخصیات کو بک ایمبیسڈر بنانے کا فیصلہ کیا ، ان میں پیرزادہ بھی شامل تھا اور کئی روز تک اس کا قد آدم پورٹریٹ چوک آبپارہ میں نصب رہا ۔ مقتدرہ میں ہی پیرو کو زندگی کا ساتھی مل گیا ، کمال کی صابرخاتون ہے ، میں نے کبھی اس کے ماتھے پر شکن تک نہیں دیکھی ۔ نبلہ پیرزادہ کی عظمت کو سلام ہے ، دنوں بیٹے عثمان اور سلمان پر نہ صرف والدین بلکہ مجھے بھی فخر ہے ۔پیرزادہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی جن سڑکوں کی خاک چھانی ، اسی کے پوش علاقے بنی گالا میں اپنا وسیع گھر بنانے کا خواب بھی پورا کیا۔

انسان کسی کو جو سب سے بڑا تحفہ عطا کرتا ہے وہ وقت ہوتا ہے ، اس سے قیمتی تحفہ انسان انسان کو دے ہی نہیں سکتا ، مصروفیت بھری زندگی میں پیرزادہ ہر کسی کے غم اور خوشی میں شامل ہونے کے لئے ہمیشہ تیار ہوتا ہے ، اس نے ہم سب کو وقت کا تحفہ دیا اور لگ بھگ بتیس سال بعد موبائل اور واٹس ایپ ٹیکنالوجی کا سہارالیتے ہوئے ہم کلاس فیلوز کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر دیا ۔ دو بار سالانہ ڈنر بھی ہوئے لیکن چند دوست وقت نہ ہونے کی وجہ سے پھر بھی نہ آ سکے ۔۔۔ نہ جانے ہمارا وقت کدھر چلا گیا ہے ۔

پیرزادہ اکثر کہتے ہیں بلائینڈز کو ٹیکنالوجی اور ایجوکیشن دے دیں تو وہ بلائنڈ تو ہو گا لیکن ڈس ایبل نہیں رہے گا ۔
نوٹ : یہ سب کچھ اپنی حافظے ،معلومات اور پیرزادہ سے ملاقاتوں میں گپ شپ کی بنیاد پر لکھا ہے ، اس میں کمی بیشی یا کسی بھی غلطی کا ذمہ دار ہوں ، جانتا ہوں موصوف اپنے موبائل پر یہ تحریر پڑھ نہیں سکیں گے لیکن میں گروپ میں ڈالنے کے بعد انہیں فون پر سنائوں گا ۔۔
اللہ تعالی ٰہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے ۔آمین