سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر آج سے چند سال پہلے اپریل 2022ء میں اگر انکی یہ تجویز مان لی جاتی کہ بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے فوراً بعد عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے تو نہ آج مسلم لیگ (ن) اپنی سیاست کی بقا کی جنگ لڑرہی ہوتی، نہ کبھی ڈالر 300روپے، نہ ہی پیڑول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتیں اور اگر ایسا ہوتا بھی توکم ازکم فارم47کا نتیجہ نہ ہوتا یا طعنہ نہ مل رہا ہوتا۔ مگر کیا کریں کہ ’ اقتدار‘ کی اپنی لذت ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب اس مشکل پرواز کا فیصلہ کیا گیا تو اس ’جہاز‘ یا پرواز میں اور بھی کئی لوگ جنہیں اتحادی کہتے ہیں سوار تھے اب آہستہ آہستہ بس’ شریف‘ ہیں اسی لئے اب تو’ جہاز‘ پربھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی ڈالر تو خیر نیچے آہی گیا مگر پیڑول اور ڈیزل نے عام آدمی کا تیل نکال دیا ہے اور اس کیخلاف اٹھنے والی ہر آواز کو عوام کی حمایت حاصل ہے چاہے وہ عملی طور پر کسی تحریک یا احتجاج کا حصہ ہوں یا نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب اپوزیشن جماعتوں کا رخ ’اسلام آباد‘ کی طرف ہے چاہے وہ جماعت اسلامی کا پیڑول کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر اضافے کیخلاف اورلیوی کے خاتمے کیلئے ہو یا پھر پاکستان تحریک انصاف سمیت اپوزیشن اتحاد کا عمران خان کوجیل میں بہتر سہولتیں، نجی اسپتال منتقلی اور رہائی کا معاملہ ہو۔ بظاہر خود حکمراں اتحاد میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور عملاً مسلم لیگ(ن) اور وزیر اعظم شہباز شریف ’ تنہا‘ نظر آرہے ہیں۔ اگر معاملات بہتر نہیں ہوتے توشاید شہباز شریف اور پارٹی قائدین کی یہ بات درست ثابت ہوکہ پارٹی کی سیاست کو بقول ان کے قومی مفاد پر قربان کرنا پڑے۔ اب یہ ’قومی مفاد‘ کیا ہوتا ہے یہ ایک الگ بحث ہےکیونکہ ایک بار ایک انٹرویو میں ایک صحافی نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے پوچھا، آپ نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کیا قومی مفاد میں اور نواز شریف نے آپ کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹایا اور اسے قومی مفاد میں فیصلے سے تعبیر کیا تو آخر یہ قومی مفاد ہے کیا۔ جنرل صاحب نے بہرحال اپنے فیصلے کو درست قرار دیا اور میاں صاحب بھی آج تک اس فیصلے کا دفاع کرتے ہیں۔
بات شروع ہوئی تھی عمران کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک سے۔ یہ وہ وقت تھا جب پی ٹی آئی حکومت کا گراف یا یوں کہیں کہ ’پرواز‘ زمین کی طرف تھی، پنجاب میں تو خیر اُس وقت کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہی کافی تھے تحریک انصاف کے زوال کیلئے مگر خود کے پی میں بھی حالات اُن کیخلاف جا رہے تھے۔ ایسے میں کسی ’فیض‘ کے خوف سے یا کسی باجوہ کی خواہش پر جو سیاسی کھیل کھیلا گیا اُسکے نتیجے اور بعد میں جو کچھ ہوا اُسکا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلم لیگ (ن) کا گراف یا پرواز زمین کی طرف ہے اور عمران کی مقبولیت کا گراف خود میاں صاحب، خواجہ سعد رفیق یا ملک احمد خاں سے ہی معلوم کر لیں۔ ویسے تو میاں صاحب سے بہتر کون جانتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے 8فروری، 2024 کے الیکشن میں وزیر اعظم کی دوڑ سے اپنے آپ کو دور رکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک غلط سیاسی فیصلے نے خود مسلم لیگ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور اب رہی سہی کسر وزیر اعلیٰ پنجاب کے ’جہاز تنازع‘ نے پوری کر دی۔ میڈیا پر یا اپنے مخالفین پر غصہ ہونے کے بجائے کیا ہی اچھا ہوتا اگر مریم نواز صاحبہ صرف اتنا کہہ دیتیں۔ کہ ’مجھے عام پرواز سے جانا چاہئے تھا‘۔ لندن میں یہ واقعہ ہوتا تو وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑ جاتا۔ مگر خیر ہمارا طرزِ حکمرانی ہے ہی کچھ اس طرح کا۔
بات ہو رہی تھی مسلم لیگ (ن) کی پرواز کی۔ میاں شہباز شریف کے ہم سفر آصف علی زرداری جو 2022ء سے اس سفر میں ساتھ ساتھ نظر آئے ہیں۔ صوبوں، انتظامی یونٹس اور اب پیٹرولیم کے بحران میں حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔وہ بہرحال لندن صدر کے جہاز میں نہیں نجی جہاز میں نجی مصروفیت کی وجہ سے موجود تھے۔ مسلم لیگ کی دوسری اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ جو صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر حکومت کے ساتھ نظر آتی ہے، مگر حکومت کی ’پیٹرول پالیسی‘ کیخلاف ہے اور کچھ ایسا ہی حال حکمراں اتحاد کے دوسرے اتحادیوں کا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکمراں جماعت صرف ’قبولیت‘ کی بنیاد پر چل رہی ہے، اِس اُمید کیساتھ کہ یہ ’قبولیت‘ بر قرار رہے چاہے زمینی حقائق کچھ بھی ہوں۔ یہی حکمراں جماعت کا المیہ ہے۔ ایسے میں پارٹی کیلئےسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خود اُنکے اپنے گھر پنجاب میں بہت سے ’انقلابی‘ اقدامات بھی پارٹی کا گراف اوپر لے جانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ غالباً شریف برادران، اور اہلِ شریف کیلئےاگر کوئی بات کم زکم ابتک اطمینان کا باعث ہےتو وہ قیدی نمبر۔804 کے بارے میں بادی النظر میں مقتدرہ کا ایک واضح اور غیرلچک دار رویہ ہے۔ اب یہ صورتحال کب تک رہتی ہے یہ سوال موجود ہے۔ اب وہ الگ بات ہے اگر اسلام آباد کی صورتحال کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئی اور نظام ہی کو رخصت کرنیکا فیصلہ ہو گیا۔ اِس سے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ماسوائے اِس کےکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت خود اسکی ذمہ دار ہے کہ ’جنرل فیض‘ کے خوف سے انہوں نے خود اپنی سیاست کوناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا جسکا اگر کسی کو سو فیصد فائدہ ہوا تو وہ اُنکا سب سے بڑا سیاسی مخالف عمران خان ہے۔
اب خود خان صاحب کا بھی مسئلہ اُنکی اپنی جماعت ہے، جو پچھلے تین سال سے تحریک چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر کامیابی حاصل نہیں ہوپا رہی۔ ایک طرف حکومت اور ریاست کا رویہ ہے کارکنوں کی گرفتاریاں اور گھروں پر چھاپے ہیں ،دوسری طرف عمران سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور دیگر کی مسلسل قید ہے تو تیسری طرف پی ٹی آئی کے اندر کا انتشار۔ اب27 ستمبر کو کیا ہوگا کیونکہ خود اُنکے اتحادیوں نے صرف اُنکی حمایت کی ہے خود تحریک یا دھرنے کی کال نہیں دی۔ دوسری طرف جماعت اسلامی بہرحال ایک عوامی انداز میں غالباً عوام کے سب سے اہم مسئلے پر مسلسل آواز بلند کر رہی ہے۔ اور اب اُسکا رخ بھی اسلام آباد کی طرف ہے۔ اگر حکومت جماعت کے مطالبے کے نتیجے میں ’لیوی‘ کو چالیس پچاس فیصد بھی کم کر دیتی ہے تو نہ صرف یہ جماعت کی بڑی کامیابی ہو گی بلکہ خود حکومت اور مسلم لیگ کوبھی سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔
تاہم اِس وقت اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی اپنی پرواز کر رہی ہیں اور تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ پی ٹی آئی، اپوزیشن اتحاد، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کسی پرواز کا حصہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’سیف لینڈنگ‘ کون کرتا ہے اور اگلی پرواز کے ہمسفر کون کون ہوتے ہیں۔

