جماعت اسلامی کی طرف سے لانگ مارچ کی وجہ سے دھرنا ختم کر دیا گیا، یہ فیصل چوک میں کئی روز جاری رہا تھا اب جماعت کی طرف سے ٹرین مارچ سے آغاز کیا گیا جو کراچی سے شروع ہو کر ملتان تک کے لئے تھا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے مطابق ملتان سے قافلے سڑک کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہوں گے اس عرصہ میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے،دونوں طرف سے اپنے اپنے موقف پیش کئے گئے۔ حکومتی ٹیم نے اپنی مجبوریاں بھی بیان کیں تاہم جماعتی وفد اور جماعت کے لئے یہ وضاحت قبول نہ ہوئی اور مارچ شروع ہو گیا اب خبر یہ ہے کہ وزیراعظم نے نیو یارک سے حافظ نعیم الرحمن کو فون کر کے اپیل کی کہ وہ ان کی وطن واپسی تک تحریک ملتوی کر دیں وہ وطن واپس آ کر عوام کے لئے بڑی ریلیف دیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے جواب میں بتایا کہ جماعت اسلامی کسی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لئے احتجاج نہیں کر رہی وہ پٹرولیم لیوی ختم کر کے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اعانت کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم وزیراعظم کی اپیل کے حوالے سے جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اراکین سے مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا تادم تحریر صورت حال برقرار تھی اور کوئی بریک تھرو نہیں ہوا اور نہ ہی جماعت کا موقف سامنے آیا کہ اراکین شوریٰ سے مشورہ ہوا یا نہیں اگر ہوا تو کیا فیصلہ ہوا۔باخبر ذرائع کے مطابق اگر وزیراعظم کی یقین دہانی پر اعتماد کیا گیا تو لانگ مارچ موخر ہو سکتا ہے اور بات چیت کی ناکامی کی صورت میں ملتان ہی سے یہ سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔
پاکستان میں مختلف شعبوں کے حوالے سے خبریں اچھی نہیں، خصوصاً کھیلوں کے میدان میں بعض کامیابیوں کے سوا مجموعی طور پر کارکردگی بہتر نہیں، خصوصی طور پر کرکٹ کا کھیل بہت بری طرح روبہ زوال ہوا ہے اور اب تو شکست کی وجوہات پر غور کر کے بہتری کے لئے اقدامات پر غور کرنے کے بجائے عجیب فیصلے سامنے آ رہے ہیں، ابتداء میں انگلینڈ میں دوسرا ٹیسٹ بھی ہار جانے کے بعد اچانک سات کھلاڑی واپس بُلا لئے گئے اور کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا کہ جاری سیریز میں سات کھلاڑی واپس بُلا کر تیسرے ٹیسٹ کے لئے نئے کھلاڑی بھیجے گئے۔اگرچہ تیسرا ٹیسٹ بھی ہار دیا گیا تاہم نئے بلائے گئے کھلاڑیوں میں سے ایک نوجوان رضا اللہ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ پہلی اننگز میں چار کھلاڑی آؤٹ کئے تو دوسری اننگز میں نو چھکوں کی مدد سے بڑا سکور بھی بنایا اس سے اُس کی شہرت یکایک پھیل گئی اور مبارک سلامت ہونے لگی،نوجوان کی کارکردگی کے باعث مزید غور ہی نہ کیا گیا حالانکہ پہلی اننگز میں چار کھلاڑی آؤٹ کرنے والا دوسری اننگز میں باؤلنگ کرتے ہوئے متاثر نہ کر سکا اور تھکا محسوس ہوا خدشہ ہے کہ اسے سنبھالا نہ گیا تو یہ بھی ضائع ہو جائے گا کہ نوجوان باؤلر نے140 سے142 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کی تھی اس لئے اس پر توجہ دے کر اسے اکیڈمی میں تربیت کے عمل سے گذارنا ہو گا کہ ضائع نہ ہو۔
دوسری طرف کرکٹر وکٹ کیپر رضوان کا تنازعہ مشکل صورت اختیار کر گیا واضح طور پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا الزام سامنے آیا لیکن بعدازاں رضوان اور امام الحق کے فون سائبرز کرائمز یونٹ کو دیئے گئے ان کی طلبی ہوئی اور ان سے جو سوالات کئے گئے ان سے تاثر پھیلا کہ الزام میں جوئے، سٹے اور میچ فکسنگ کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں اس پر پورے ملک میں رضوان کی حمایت میں شائقین آ گئے اگرچہ چند ایک نے مخالفت کی لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ رضوان کا مسئلہ سامنے آنے پر شائقین اور ماہرین کی توجہ بورڈ کے کرتا دھرتا فرد سے ہٹ گئی حالانکہ تانے بانے انہی سے ملتے ہیں اور ان کی بورڈ سے برطرفی کا مطالبہ جاری ہے یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک دیندار اور مہذب کھلاڑی کو ایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کے حوالے سے کسی بڑے سابق کھلاڑی اور ماہرین نے بھی یقین نہیں کیا۔ دوسری طرف خواتین کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی جاری اور اب ایشین ایتھلیٹکس گیمز میں بھی بری طرح ہار گئی ہے اب تو یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ خواتین کی کرکٹ ٹیم ہی ختم کر دی جائے، اصلاح احوال کی شدید ضرورت ہے۔
لاہور میں سیاست کی جھلک بھی نظر آئی تین روز قبل پہلے عمران ان کی بڑی ہمشیرہ علیمہ خان کونظر بندی احکام کے تحت حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد ان کی دوسری دونوں بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ نیازی کو بھی حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا، ان تینوں کی حراست اور گرفتاری تین ایم پی او کے تحت ہوئی اور ڈپٹی کمشنر کے حکم سے30روز کیلئے نظر بند کیا گیا۔ انتظامیہ کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے دونوں بہنوں کے ساتھ حفیظ اللہ نیازی کی صاحبزادی کو بھی دھر لیا ان کو بعدازاں چھوڑ دیا گیا کہ ان کیلئےاحکام نہیں تھے،تینوں بہنوں کی حراست کیلئےلاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے فرزند بلاول بھٹو زرداری38برس کے ہو گئے، ان کی سالگرہ کی تقریبات پورے ملک میں منائی گئیں اور کیک کاٹے گئے۔ تقریبات میں یہ دلچسپ سوال بھی گردش کرتا رہا کہ بلاول کی شادی کے بھنگڑے کب ڈالے جائیں گے!

