ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی ،ان تھوڑے بلکہ بہت تھوڑے افسروں میں سے ایک ہیں جنہیں کام کرنے کا جنون ہے،محنتی مگر اپ رائٹ بھی کمال ہیں، جس محکمے میں لگائے جاتے ہیں اسے بنا سنوار دیتے ہیں ،چند روز پہلے ان سے ٹیلی فون پر گفتگو ہو ئی ،وہ ایک طرف آئمہ مساجد کے معیار کو بلند کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں تو دوسری طرف محکمہ داخلہ کے مختلف شعبوں کے اندر انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔پیفڈا اتھارٹی سے شروع ہونے والی بات جیلوں تک جا پہنچی، قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لئے انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پنجاب کی سینٹرل جیلوں میں ، ڈیجیٹل پریزن ویلفئیر سٹور قائم کر دیے گئے ہیں جہاں قیدی روزمرہ کی 74 ضروری اشیاء جیسے بیکری کا سامان، مشروبات، کچن کا سودا سلف اور صفائی کا سامان سستے اور رعایتی نرخوں پر خود خرید سکتے ہیں ،ڈاکٹر قاضی سے طے ہوا کہ کسی روز یہ ویلفیئر سٹور مل کر دیکھا جائے اور میں نے بات موجودہ آئی جی جیل میاں فاروق نزیر کی اگلے مہینے ریٹائرمنٹ اور نئے آئی جی کی تعیناتی بارے شروع کر دی،انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں پانچ سینئر موسٹ جیل افسروں کا پینل بنایا جا رہا ہے جس کا عید کے بعد جائزہ لیا جائے گا اور سفارشات چیف سیکرٹری ،وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی جائیں گی اور وزیر اعلیٰ ہی نئے آئی جی کا فیصلہ کریں گی۔
پنجاب کے حکومتی نظام میں بعض عہدے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں ریاستی نظم و نسق کے انتہائی حساس ستون ہوتے ہیں، پنجاب کا انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات بھی انہی اہم عہدوں میں شامل ہے، پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ پر تو روزانہ گفتگو ہوتی ہے مگر جیلوں کے نظام پر اس وقت بات ہوتی ہے جب جیل میں کوئی بڑا واقعہ ہو جائے، حالانکہ جیل دراصل ریاست کے انصاف، نظم اور اصلاحی سوچ کا عملی چہرہ ہوتی ہے۔اب جبکہ پنجاب کے موجودہ آئی جی جیل میاں فاروق نزیر جون کے وسط میں ریٹائر ہو رہے ہیں تو یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آنے والا آئی جی جیل کون ہوگا ؟میاں فاروق نزیر تیسری بار اس عہدے پر متمکن ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی بساط کے مطابق بڑا اچھا کام کیا ہے،انہوں نے سسٹم کو بہتر کیا ،قیدیوں اور جیل سٹاف کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،اپنے تجربہ کی بنیاد پر وہ جانتے ہیں کہ پنجاب کی جیلیں اس وقت صرف قیدی رکھنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ انتظامی، سیاسی اور سکیورٹی نظام بن چکی ہیں، یہاں دہشت گردی کے مقدمات کے قیدی بھی ہیں، ہائی پروفائل سیاسی شخصیات بھی، خطرناک گینگز بھی اور ہزاروں ایسے لوگ بھی جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔
پرانے وقتوں میں جیل سپرنٹنڈنٹ کی سخت آواز اور لمبی مونچھیں ہی جیل نظم کی علامت سمجھی جاتی تھیں، آج زمانہ بدل چکا ہے، جیلیں صرف تالے اور سلاخوں سے نہیں چل سکتیں، اب ڈیجیٹل مانیٹرنگ، بائیو میٹرک سسٹم، انٹیلیجنس سرویلینس، قیدیوں کی نفسیاتی پروفائلنگ اور سکیورٹی آڈٹ کی بات ہوتی ہے،اس لئے آئی جی جیل صرف روایتی جیل افسر نہیں بلکہ ایک جدید ایڈمنسٹریٹر، ٹیکنالوجی کو سمجھنے والا منیجر اور بحران سنبھالنے والا کمانڈر ہوتا ہے،پرنٹ،الیکٹرانک اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے، پہلے جیل کے اندر کی خبر مہینوں بعد باہر آتی تھی، اب کسی قیدی کی خبر یا آڈیو ، ویڈیو چند منٹ میں وائرل ہو جاتی ہے۔جیل خانہ جات میں ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے کہ یہاں کامیاب افسر وہ سمجھا جاتا ہے جس کے دور میں “کوئی بڑا واقعہ نہ ہو”، یعنی اگر پورا سال خاموشی سے گزر جائے تو افسر کامیاب، اور اگر ایک موبائل فون بھی برآمد ہو جائے تو آدھی بیوروکریسی متحرک ہو جاتی ہے،ہر آنے والے آئی جی جیل کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف جیلوں کو اچھے انداز میں چلانا نہیں بلکہ انہیں جدید بنانا بھی ہے ، دنیا بھر میں جیلوں کو “اصلاحی مراکز” بنانے کی بات ہو تی ہے۔
ہمارے جیسے ملکوں میں جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی، جیلوں میں خدمات سرانجام دینے والے حکام اور عملے کے دیگر افراد کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور ان اختیارات کو استعمال کرنے کے معاملات ابھی بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے گو ، وقتاً فوقتاً اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور جیلوں کے اندرونی معاملات ماضی کی نسبت خاصے بہتر ہیں جیسے اب قیدیوں کو اچھا کھانا ملتا ہے، انہیں گھر والوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے اور اب تو وقت گزارنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے ، ان کی کچھ دیگر ضروریات کا خیال بھی رکھا جاتا ہے اور سماجی معاملات میں کچھ آزادیاں بھی حاصل ہیں، اس کے باوجود بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں ،قیدیوں کی اصلاح اور تربیت کا اہتمام کر کے اور ان کے ذہنوں میں جرائم سے نفرت پیدا کر کے انہیں شریف اور فرض شناس شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے، انہیں مختلف ہنر سکھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ رہائی کے بعد پوری خود اعتمادی کے ساتھ شریفانہ زندگی کا آغاز کر سکیں۔
آئی جی جیلخانہ جات کے عہدہ کی سلیکشن کا جو طریق کار پنجاب پرزنز سروس رولز 2025 میں درج ہے اس کے مطابق حکومت جیلوں کے موجودہ ڈی آئی جیز میں سے کسی ایک کو بھی میرٹ پر آئی جی جیل لگا سکتی ہے جس کے پاس بیس سالہ سروس کا تجربہ ہو یا پھر وہ گریڈ بیس کے کسی بھی افسر کو یہاں پوسٹ کر سکتی ہے۔ماضی میں یہاں پولیس سروس کے چند افسروں کو لگایا گیا تھا مگر حالات اور واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جیلوں کے آئی جی کے لئے جیل سروس کا افسر ہی بہترین ہے،اس وقت دیکھا جائے تو جو سینئر موسٹ پانچ جیل افسر ہیں ان میں سینیارٹی کے لحاظ سے کوکب ندیم وڑائچ ،میاں سالک جلال،ملک مبشر احمد خان،عبدالروف رانا اور شوکت فیروز شامل ہیں۔سینیارٹی میں پہلے تین افسروں کے پاس کام کرنے کا زیادہ اور بہتر تجربہ ہے ،کوکب ندیم وڑائچ اور ملک مبشر احمد خان پہلے بھی انسپکٹر جنرل جیلخانہ جات رہے ہیں جبکہ میاں سالک جلال کے پاس ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر کا چارج ہے جو بڑا اہم ہوتا ہے،میاں سالک جلال نے اگلے سال دس جنوری،کوکب ندیم وڑائچ نے سترہ جنوری اٹھائیس ، ملک مبشر خان نے انیس نومبر تیس ،عبدالروف رانا نے تیس دسمبر بتیس اور شوکت فیروز نے یکم اکتوبر بتیس کو ریٹائر ہونا ہے ۔
ایک اچھا آئی جی وہ ہوتا ہے جو ،جیل اسٹاف کی تربیت بہتر کرے، ٹیکنالوجی استعمال کرے،کرپشن کو کم کرنے کی کوشش کرے ، سیاسی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماتحت عملے میں خوف نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرے،کیونکہ صرف سخت افسر ہونا کافی نہیں ہوتا، بعض اوقات بہت سخت افسر کے دور میں سسٹم خاموش تو ہو جاتا ہے مگر بہتر نہیں ہوتا، اچھا ایڈمنسٹریٹر وہ ہے جو نظم اور انسانیت کے درمیان توازن قائم رکھ سکے،اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کس پر اعتماد کرتی ہے،ایک روایتی افسر یا ایک اصلاحاتی ذہن رکھنے والا منتظم جو جیل سٹاف کا مائنڈ سیٹ بھی تبدیل کر سکے۔

