سوچا تھا کہ کتوں کے حوالے سے اب مزید کوئی کالم نہیں لکھا جائے گا لیکن حکمرانوں اور اعلیٰ عدالتوں کے اعلیٰ منصبوں پر فائز افراد کے فیصلوں کی بدولت ملک بھر کی سڑکوں پر دندناتے پھرنے والے ”تحفظ یافتہ آوارہ کتوں“ نے جو معصوم پاکستانی بچوں کو نوچ نوچ کر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں مجبور کر دیا۔ اس کے علاوہ اور کیا چارہ رہ گیا ہے کہ کتوں کے کاٹنے سے ”مرنے والے بچوں کا نوحہ“ تو پڑھا جائے۔ ان بچوں کا ذکر تو کیا جائے جو گھر سے باہر نکلتے ہی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ پنجاب، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ،بلوچستان،خیبرپختونخوا کے کسی چھوٹے سے قصبے یا شہر میں تو بچے غیر محفوظ ہیں، مگر یہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر ”عروس البلاد کراچی اور پاکستان کے دل لاہور کا بھی نوحہ“ہے۔ کراچی میں اس سال کے پہلے پانچ مہینے میں 10افراد کتے کے کاٹنے سے اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔لاہور میں مرنے والوں کی تعداد (3) ہے، مگر کتوں کو ”گولی یا زہر“ سے مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ عدالتی حکم ہے کہ ان کو پکڑا جائے، ڈاگ سینٹر لے جایا جائے، ان کی نسبندی کی جائے تاکہ یہ مزید اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہیں، اور پھر ”کتوں“ کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اس حکم نے کتے کے کاٹنے کے واقعات کی تعداد بیحد بڑھا دی ہے۔ کراچی میں رواں سال 10 افراد کتے کے کاٹنے سے ناقابل علاج بیماری ریبیز کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔وہیں لاہور میں اس سال دو معصوم بچیاں اور ایک 18سالہ نوجوان بھی کتے کے کاٹے سے اللہ کو پیارے ہوئے ہیں۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق کراچی میں روزانہ 600 سے زائد افراد کو آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ کراچی میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد کتے کے ”دانتوں کا شکار“ ہو چکے ہیں، جبکہ سندھ میں رواں سال کتے کے کاٹے مریضوں کی تعداد 85ہزار بتائی جاتی ہے۔
کراچی میں کتوں کے کاٹے کا تازہ مریض چار سال کی بچی ہے۔ جسے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں گھر سے باہر گلی میں کھیلتے ہوئے کتوں کے غول نے ”بھنبھوڑ“ ڈالا۔بچی کے چہرے پر شدید زخم آئے جسے ہسپتال پہنچایا گیا اب اس بچی کا مستقبل کیا ہو گا۔ کیا یہ بچ پائے گی؟
گزشتہ ہفتے ہی کراچی میں 14سالہ علی فہد کی کتے کے کاٹے سے موت واقع ہوئی۔ اس بچے کو کتے کے کاٹنے کے فورا بعد اس کے اہل خانہ عباسی شہید ہسپتال لے کر گئے تھے۔ جہاں اسے اینٹی ریبیز ویکسین لگائی گئی، مگر اس کے باوجود اس بچے میں ریبیز کے جراثیم پوری طاقت سے نازل ہوئے اور پھر اس کی موت واقع ہو گئی۔ کراچی میں اب تک جناح ہسپتال میں ریبیز سے مرنے والوں کی تعداد (4)اور انڈس ہسپتال میں ریبیز سے مرنے والوں کی تعداد (6)ہو چکی ہے۔ علی فہد کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہے کہ کیا جو ویکسین ان کے بچے کو لگائی گئی وہ ناقص تھی، ایکسپائرڈ تھی یا کوئی اور وجہ تھی کہ ان کے بچے پر اس ویکسین نے اثر نہیں کیا۔یہ یقینا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب نے اگرچہ بہت ترقی کی ہے، لیکن کتوں کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکا۔ پنجاب میں رواں سال کے پہلے تین ماہ میں 38500 افراد کو کتوں نے کاٹ کر زخمی کیا۔ یہ خبر یا یہ تعداد پنجاب حکومت کے لئے یقینا کوئی اچھی خبر قرار نہیں دی جا سکتی۔
لاہور میں عید الفطر پر ٹاؤن شپ کی آٹھ سالہ مہر کتے کے کاٹنے کے بعد جناح ہسپتال میں انتقال کر گئی تھی اور اب عید الاضحی پر امامیہ کالونی کی آٹھ سال ایشال کتے کے کاٹے سے میو ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ میو ہسپتال ہی میں کتے کے کاٹے کا علی زین بھی عیدالاضحی پر چل بسا۔پاکستان میں آوارہ کتوں کی تعداد 30سے 50لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے، جس میں سے اسلام آباد اور لاہور میں 50-50ہزار اور کراچی میں اس سے بھی کہیں زیادہ آوارہ کتے پائے جاتے ہیں۔
سندھ حکومت نے کتے کے کاٹے کا تو کوئی علاج نہیں کیا البتہ اس نے سندھ کے چھ کروڑ عوام کو خبردار کیا ہے کہ کتے کا کاٹا معمولی بات نہیں۔ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو 15 منٹ تک صابن سے دھوئیں، اس کے بعد ریبیز کا ٹیکہ لگوائیں اگر ایسا نہ کیا تو یاد رکھنا کتے کا کاٹا معمولی بات نہیں ہے۔ ریبیز ہو سکتی ہے جو جان لیوا ہے۔ سندھ حکومت کے اس اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 218اینٹی ریبیز یونٹ ہیں اور 112ریفرل سینٹر ہیں جہاں کتے کے کاٹے کا علاج بھی ہوتا ہے۔ یعنی ہم کتے مار نہیں سکتے خود محتاط رہو۔
کراچی میں ہی ہالینڈ کے ابراہمس میڈیکل سینٹر اور انڈس ہاسپٹل نے کتے کے کاٹے پر ایک تحقیق کی ہے۔ 100 افراد جنہیں کتوں نے کاٹا تھا ان کے زخموں پر تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ہر 10میں سے چھ کتے کے کاٹنے کے زخموں میں ریبیز کے وائرس موجود ہیں اور اگر ان لوگوں کو بروقت ویکسین نہ ملتی تو انہیں بھی لاعلاج مرض ریبیز لاحق ہو جاتا۔
پنجاب اور سندھ ہائی کورٹس نے کتوں کو مارنے پر پہلے ہی پابندی لگا رکھی ہے اور ان کو ”نس بندی“ کر کے اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ چھوڑنے کا حکم دے رکھا ہے۔ لیکن اب تو اسلام آباد کے ”محترم اور مقدس آوارہ کتوں“ کو بھی تحفظ مل گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی آوارہ کتوں کے چاہنے والوں کی ایک درخواست پر یہ فیصلہ دیا ہے کہ کتوں کو گولی نہ ماری جائے، زہر نہ دیا جائے انہیں ”بیجا تلف“نہ کیا جائے۔ان کی آبادی کنٹرول کی جائے، نسبندی کی جائے۔ صرف پاگل کتوں کو مارا جائے جن کے پاگل ہونے کی ویٹرنری ڈاکٹر تصدیق کر دے۔ ڈاکٹر کی تصدیق کے بغیر بالے کتے کو بھی نہیں مارا جا سکتا۔ آج اندرا گاندھی بہت یاد آ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے دور وزارتِ عظمیٰ میں انڈیا میں 70ء کی دہائی میں نس بندی کی ایک مہم چلائی تھی جس میں ان مسلمان نوجوانوں کی بھی زبردستی نس بندی کر دی جاتی رہی جن کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔ کاش آج وہ زندہ ہوتیں ہیں تو پاکستانی حکومت کتوں کی نسبندی کے لئے ان سے مشورہ کر لیتی۔

