سمجھ سے یہ باتیں باہر ہیں کہ دنیا آگے کو جا رہی ہے اور ہماری ترقی کو ریورس گیئر لگا ہوا ہے، آپ پاکستان میں کسی بھی ادارے کو دیکھ لیں، ہر ادارے کا گراف نیچے کو جا رہا ہے،،، اور ہم قسمت کے دھنی حکومت کی باتوں میں آجاتے ہیں جو کبھی کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ اقدام نہ کرتے تو ڈیفالٹ کر جاتے، اور اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو امریکا ہمیں نہ چھوڑتا، ،، اور پھریہ کہتے نہیں تھکتے کہ امریکا ایران جنگ ہمیں دو سال پیچھے لے گئی،،، ورنہ ہم معیشت کے میدان میں بہت آگے نکل چکے ہوتے،،، اور کھیلوں میں تو آگے نکلنا دور کی بات یہاں بھی ہم نے ریورس گیئر لگا رکھا ہے،،، تبھی تو یہ آپ کے لیے حیرانی کی بات ہوگی کہ ہم جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے دنیا میں 103نمبر پر آتے ہیں۔ باقی کھیلیں تو بہت دور ہیں، ہمیںتوقومی کھیل ہاکی میں ورلڈ کپ یا چمپیئن شپ کھیلنے کے لیے کوالیفائی کرنا پڑتا ہے، اور اُس میں سے بھی ہم آخری نمبروں پر آتے ہیں،،، سکوائش میں ہم ورلڈ چمپئن تھے، آج ہمارا کہیں نام نہیں ہے، سنوکر میں ہم پیچھے جا چکے ہیں،،، کیوں کہ ہم نے اپنا تمام تر فوکس کرکٹ پر کر لیا تھا، لیکن افسوسناک خبر یہ ہے کہ ہم اس کھیل میں بھی ٹاپ رینکنگسے آﺅٹ ہو چکے ہیں اور بنگلہ دیش جیسے ممالک جنہیں ہم نے بیٹ پکڑنا سکھایا اور ہم انٹرنیشنل کرکٹ میں لے کر آئے، وہ ہمیں کلین سویپ کر رہا ہے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ ہم لگاتار 6،7سریز ہار چکے ہیں،،، اور پھر یہ حال صرف کرکٹ کا نہیں بلکہ ہر محکمے ، ہر وزارت ، اورہر ادارے کا یہی حال ہے،،، حالانکہ ہم نے بہت کوشش کی کہ تلاش کیا جائے کہ ہم شاید کسی ڈیپارٹمنٹ میں بہتری کی جانب گئے ہیں، لیکن کوئی ادارہ ہمیں ایسا نہ مل سکا جس پر فخر کیا جا سکتا، ،، ہر ہر محکمے میں تباہی کی ایک سے بڑھ کر ایک داستانیں رقم ہو رہی ہیں،،، بلکہ ہمارے کرکٹ بورڈ نے بڑی مہارت کے ساتھ،،، اپنے سے کمزور ترین ٹیموں کے ساتھ میچ رکھے ، تاکہ ہم جیت سکیں مگر خدا کی پناہ کہ ہم کامیاب ہو جاتے،،، اور کامیاب ہوتے بھی کیسے جب آپ کا پورا سسٹم ہی کرپٹ اور سیاست زدہ ہو،،،
آپ بھارت کو دیکھ لیں، وہاں آئی پی ایل بھی ہورہا ہے اور ساتھ کرکٹ بورڈ بھی ترقی کر رہا ہے، اور اُن کی ٹیم دنیا کی ٹاپ ٹیموں میں شمار ہوتی ہے،،، وہاں سفارش کا یہ کلچر ہے کہ ٹنڈولکر کا بیٹا بھی صرف اس لیے ٹیم میں شامل نہیں ہو پارہا ، کیوں کہ وہ میرٹ اور فٹنس پر پورا نہیں اُتر رہا،،، جبکہ آسٹریلین کرکٹ بورڈ کو دیکھ لیں،،، وہاں ایک کرکٹر 10سال تک کرکٹ کھیلتا ہے،،، اور دنیا کی ٹاپ ٹیموں میں اُس کا شمار ہوتا ہے،،، وہاں بھی سفارشی کلچر قریب سے بھی نہیں پھٹکتا۔ خیر بات ہو رہی تھی بنگلہ دیش کے ساتھ حالیہ سیریز کی تو وہ کرکٹ ٹیم جس کو بیٹ پکڑنا ہم نے سکھایا اور جسے انٹرنیشنل کرکٹ میں لے کر ہم آئے‘ اس سے ٹیسٹ سیریز کے علاوہ لگاتار چوتھا ٹیسٹ میچ بھی ہار گئے ہیں۔حالانکہ یہ ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ ہے، جس میں ہر ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم نے دکھانا ہے کہ وہ کہاں کھڑی ہے،،، اور حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چمپئن میں بنگلہ دیش اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں سے اوپر ہے،،، یعنی پاکستان 9ٹیموں میں سے آٹھویں، بھارت چھٹے، اور بنگلہ دیش پانچویں نمبر پر ہے،،،
ایک زمانے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار کی جاتی تھی۔ ایسا نہیں کہ ہماری ٹیم میچ ہارتی نہیں تھی لیکن ہماری جیت کا گراف ہارنے سے کہیں بلند ہوتا تھا۔ اب گزشتہ چند برسوں سے ہماری ٹیم کی کارکردگی مسلسل اتار چڑھاﺅ کا شکار ہے۔ ٹیم کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ٹیم میں مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ پاکستانی کھلاڑی بعض اوقات غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن اہم میچوں میں دباﺅ برداشت نہیں کر پاتے اور ہار جاتے ہیں۔ پھر ہماری ٹیم 1971ءتک تمام ٹیموں کو ہرانے کا اعزاز رکھتی تھی،،، ہم نے آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، انڈیا سب کو ہرایا تھا، ہمارا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا تھا،،، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ 1971ءسے پہلے بنگلہ دیش کا کوئی کرکٹر متحدہ پاکستان کی ٹیم میں شامل نہیں تھا،،، بلکہ انہیں ہم اس قابل ہی نہیں سمجھتے تھے ، بلکہ بعض جگہوں پر ہم اُن کا تمسخر اُڑاتے رہے،،، پھر بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا تو وہاں کی الگ ٹیم بن گئی ،، اور پاکستان جب 1992ءکا ورلڈ کپ جیتا تو اُس وقت بنگلہ دیش کی ٹیم کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل تھا،،، لیکن ہم نے 1999ءمیں جان بوجھ کر ہار کر اُسے ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں معاونت کی۔ اس بات کو 27سال ہوگئے ہیں اور بنگلہ دیش ہمارے دیے ہوئے اسٹیٹس میں نئی روح پھونکتے ہوئے،،،آگے بڑھ چکا ہے، ،، اور اب حالات یہ ہیں کہ اُس نے ہمیں مسلسل چار میچوں میں ہرا دیا ہے،،، اور یہ ہمارے لیے اس قدر سبکی کی بات ہے کہ ہضم ہونا ہی مشکل ہے،،، کیوں کہ یہاں ایک عرصے سے کرکٹ بورڈ کو کرکٹ پروفیشنل نہیں بلکہ سیاستدان چلا رہے ہیں،،، جبکہ اس کے برعکس دنیا کے بڑی ٹیموں میں Mostlyسابق کرکٹرز ہی اس عہدے پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،،، لیکن پاکستان تو پاکستان ہے،،، یہاں جو شخص جس عہدے کے لیے Miss-fitہے وہ ”جی حضوری“ کے لیے کام کر رہا ہے،،، یعنی پاکستان کا تو سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ جس کو جو کام نہیں آتا ،،، وہ اس میں اپنی مہارت دکھانے کے چکر میں اداروں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا،،،
اور مزے کی بات یہ ہے کہ پے در پے ناکامیوں کے بعد کوئی بھی اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہے،،، آپ خود دیکھ لیں کہ جتنے بھی ریٹائرڈ لوگوں کو ہم نے اُن کے اپنے محکمے کے بجائے دیگر محکموں میں لگایا ہے،،، آپ اُن میں سے کسی ایک میں بھی پرفارمنس دکھا دیں،،، بلکہ صفر جمع صفر کارکردگی رہی ہے،، اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ ہم کبھی سیکھتے ہی نہیں،،،الغرض ایک بندے سے وہی کام لینا چاہیے،، جس کا وہ ماہر ہے،،، یعنی پی سی بی کا چیئرمین ایسے بندے کو لگائیں جس کی کرکٹ کے ساتھ حد درجے کی واقفیت ہو، اُس نے کرکٹ کھیلی ہو، ساتھ اُس نے تربیت لی ہو، اس شعبے میں مار کھائی ہو، ،، یا کوئی ریسرچ کی ہو،،، لیکن اگرآپ کسی سیاستدان کو اس عہدے پر لگا دیں گے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ پی سی بی کو میرٹ پر چلائے گا،،، یہ ایسے ہی ہے جیسے گزشتہ سال جب بھارت کے ساتھ مقابلے میں کسی کھلاڑی یا اداکار کو آرمی چیف لگا دیتے تو کیا وہ ایسے مقابلہ کرتا جیسے ہمارے چیفس نے کیا،،، یا ہم جنگی طیارے اداکار فہد مصطفی کو دیے دیتے یا مصطفی قریشی صاحب کو دے دیتے تو کیا وہ بھارت کے طیارے گرا سکتے تھے؟ کبھی نہیں! کیوں کہ یہ اُن کا کام نہیں تھا،،، ان کا کام اداکاری کرنا ہے،،، جنگیں کرنا نہیں ہے،،،
ہم نے تو بھارت کو اسی بنیاد پر شکست دی تھی کہ ہماری فوج پروفیشنل ہے،،، لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اگر ہم فوج کے کسی ریٹائرڈ افسر کو واپڈا کا چیئرمین لگائیں گے تو وہ وہاں پر بھی ویسا ہی پرفارم کرے گا،،، جیسا وہ پاک فوج میں کرتا رہا ہے،، اسی طرح کرکٹ میں بھی ایسے ہی بندے کا لگایا جانا چاہیے جو پروفیشنل ہو، جو کرکٹ جانتا ہو، یا کم از کم وہ کھلاڑیوں کے مسائل اور گروپ بندی کو سمجھ کر آگے چلے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ایسے لوگ اس ملک میں نہیں ہیں، بلکہ ہمارے ملک میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کرکٹ کو اچھے انداز میں چلا سکتے ہیں،،، کوہ پیمائی وہی کر سکتا ہو، جسے کوہ پیمائی آتی ہو،،، انجان بندہ کبھی ایسا رسک ہی نہیںلیتا،،، الغرض ہمارا جہانگیر ترین دنیا کا سب سے بڑا سکوائش کا کھلاڑی ہے، لیکن وہ ٹینک یا جہاز تو نہیں چلا سکتا،،، رونالڈو فٹ بال کا بہترین کھلاڑی ہے،، لیکن کیا وہ اچھی کرکٹ کھیل سکتا ہے؟ کبھی نہیں،، کیوں کہ وہ فٹ بال ہی کا ماہر ہے،،، لہٰذااس وقت ہمارے ملک میں مسئلہ ہی یہی ہے کہ جس کو جو کام آتا ہے،،، اُس میں کھپانے کے بجائے اُسے کسی دوسرے محکمے میں لگایا دیا جاتا ہے،،،
لہٰذاسفارشی کو بھی ایسے کام پر لگایا جائے ،،، جو اُس کو آتا ہو،،، اس لیے میرے خیال میں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کرکٹ میں بہتری لائی جائے، حتیٰ کہ میرے خیال میں اگر وزیر داخلہ صاحب مصروف ہیں تو اس فل ٹائم جاب کے لیے پی سی بی کی چیئرمین چپ کسی اور کو دے دیں،،، یا کسی پروفیشنل کو عطاءکر دیں تاکہ اُسے کرکٹ کے سوا اور کوئی کام نہ ہو،،، پھر آپ یقینا تبدیلی دیکھیں گے! ورنہ یہی ہوتا رہے گا کہ کھلاڑیوں کی اس غیرمستقل مزاجی کئی یقینی فتوحات کو شکست میں بدلتی رہیں گی،،، ۔ بار بار کپتان تبدیل ہوتے رہیں گے،،، ”فٹنس“ کے مسائل پیدا ہوتے رہیںگے،،، سیاسی مداخلت اور غیر ضروری فیصلے جنم لیتے رہیں گے،،، کھلاڑیوں کی گراﺅنڈ میں کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہوگی،،، آسان کیچ چھوڑتے رہیں گے،،، اور ہمارے سینئر کھلاڑی بھی چھوٹی ٹیموں کے سامنے ایکسپوز ہوتے رہیں گے،،، اگر ان کا چھوٹی ٹیموں کے سامنے یہ حال ہے تو اللہ کرے ہم آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت جیسی ٹیموں سے مدمقابل ہی نہ ہوں،،، کیوں کہ یہ کارکردگی لے کر ہم دنیا کے سامنے صرف جگ ہنسائی کا باعث بن سکتے ہیں اور کچھ نہیں! لہٰذااگر پاکستان کرکٹ کے اربابِ بست و کشاد میرٹ‘ مستقل قیادت اور جدید تربیت پر توجہ دیں تو پاکستانی ٹیم دوبارہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ورنہ دوسرے الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سب گندہ ہے پر دھندہ ہے یہ!

