پاکستان کو ہم بڑے فخر سے زرعی ملک کہتے ہیں اور پنجاب کو اس ملک کا اناج گھر قرار دیتے نہیں تھکتے، تقریروں میں کسان ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے، سرکاری اشتہارات میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہے، اس کے کھیت سرسبز ہیں، ٹریکٹر رواں دواں اور خوشحالی اس کے گھر کی دہلیز پر دستک دے رہی ہے، مگر حقیقت کے کھیت میں قدم رکھیں تو منظر بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے،وہاں کسان پریشان ہے، قرض میں ڈوبا ہوا ہے، کھاد اور ڈیزل کی قیمتیں گن رہا ہے اور فصل تیار ہونے کے بعد یہ سوچ رہا ہے کہ اب اسے کہاں اور کس قیمت پر بیچے ؟پنجاب کی حکومتیں، بالخصوص مسلم لیگ ن کے ادوار میں، ترقی کے بڑے بڑے منصوبوں، سڑکوں، پلوں، میٹرو بسوں اور شہری انفراسٹرکچر کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن پنجاب کا اصل چہرہ صرف لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان کی بڑی سڑکیں نہیں، پنجاب کا اصل چہرہ وہ کسان بھی ہے جو اپریل اور مئی کی گرمی میں گندم کاٹتا ہے، جون کی تپتی دوپہر میں دھان کی تیاری کرتا ہے اور سرد راتوں میں گنے کی فصل کے ساتھ کھڑا اپنی باری کا انتظار کرتا ہے،افسوس یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے کسان کو ہمیشہ تقریر میں عزت اور منڈی میں ذلت دی ہے۔
گندم کی حالیہ صورتحال اس حکومتی تضاد کی ایک زندہ مثال ہے،ابھی چند ماہ پہلے گندم کی فصل آئی،پیداوار کے حوالے سے امید افزا دعوے کیے گئے، 3500 روپے فی من کے حساب سے خریداری اور باردانہ سبسڈی جیسے اقدامات کا صرف اعلان کیا گیا ، لیکن چند ماہ گزرنے کے بعد آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ پھر سر اٹھا چکا ہے، سوال بہت سادہ ہے، اگر ملک میں گندم موجود ہے، اگر پیداوار تسلی بخش ہے اور اگر سرکاری اعداد و شمار قلت کی نفی کرتے ہیں تو پھر آٹا مہنگا کیوں ہو رہا ہے؟گندم آخر جاتی کہاں ہے؟یہ کوئی سوئی نہیں جو گم ہوجائے، یہ لاکھوں ٹن وزنی اناج ہے، اسے کھیت سے اٹھانے کے لئے ٹرک درکار ہوتے ہیں، ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے گودام چاہئیں اور ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے لئے باقاعدہ ترسیلی نظام استعمال ہوتا ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ فصل آنے کے دو تین ماہ بعد حکومت اور انتظامیہ کو اچانک احساس ہو کہ مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں؟اگر گندم کی قلت نہیں تو قیمت کیوں بڑھ رہی ہے؟ اور اگر واقعی قلت ہے تو پھر فصل کے وقت کئے جانے والے بمپر پیداوار کے دعوے کس بنیاد پر تھے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں گندم کی پالیسی کسان کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ بحران آنے کے بعد مارکیٹ کو قابو کرنے کی کوشش کے طور پر بنائی جاتی ہے، جب فصل تیار ہوتی ہے تو کسان کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، آڑھتی، مڈل مین اور بڑے خریدار کم قیمت پر گندم اٹھاتے ہیں، کسان کے پاس گندم روکنے کی مالی طاقت نہیں ہوتی، اسے اگلی فصل کے لئے بیج خریدنا ہے، کھاد لینی ہے، زرعی ادویات خریدنی ہیں، ٹیوب ویل کا بجلی کا بل دینا ہے اور پہلے سے لیا ہوا قرض واپس کرنا ہے،وہ مجبور ہوکر فصل بیچ دیتا ہے،چند ماہ بعد یہی گندم گوداموں سے نکلتی ہے اور قیمت بدل چکی ہوتی ہے، جو گندم کسان سے کم قیمت پر خریدی گئی تھی وہ اب منافع کی کئی تہیں چڑھا کر مارکیٹ میں آتی ہے،کسان بھی مہنگا آٹا خریدتا ہے اور عام شہری بھی، فائدہ صرف اس طبقے کو ہوتا ہے جس کے پاس سرمایہ، گودام اور مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی طاقت موجود ہے۔
وفاقی سطح پر حالیہ سرکاری موقف یہ سامنے آیا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں اور موجودہ پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے، دوسری جانب پنجاب حکومت کو قیمتیں مستحکم کرنے کے لئے سرکاری ذخائر سے گندم جاری کرنا پڑ رہی ہے، یہ تضاد خود بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں، مارکیٹ مینجمنٹ، ذخیرہ اندوزی، خریداری اور تقسیم کے پورے نظام کا ہے۔حکومت اگر یہ جانتی ہے کہ گندم کتنی پیدا ہوئی تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ وہ گندم کہاں گئی،کس ضلع میں کتنی پیداوار ہوئی؟ کتنی گندم کسان نے براہ راست فروخت کی؟ کتنی فلور ملز نے خریدی؟ کتنی بڑے تاجروں اور نجی ذخیرہ کاروں کے پاس گئی؟ کس گودام میں کتنا اسٹاک موجود ہے؟ روزانہ کتنی گندم مارکیٹ میں آرہی ہے اور کتنی استعمال ہورہی ہے؟آج مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ میپنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ریئل ٹائم ڈیٹا کا زمانہ ہے، پنجاب حکومت اگر ایک شہری کی ٹریفک خلاف ورزی کو کیمرے سے دیکھ کر چند لمحوں میں چالان اس کے گھر پہنچا سکتی ہے تو لاکھوں ٹن گندم کا سراغ کیوں نہیں لگا سکتی؟ بات صلاحیت کی نہیں ترجیح کی ہے،کسان ہماری ریاستی ترجیحات میں آج بھی بہت نیچے کھڑا ہے،حکومتیں کسان کارڈ متعارف کراتی ہیں، زرعی پیکیج کا اعلان کرتی ہیں، سبز ٹریکٹر سکیم لاتی ہیں اور کروڑوں روپے کی اشتہاری مہم چلاتی ہیں، ان اقدامات کی اپنی اہمیت ہوسکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کسان کی بنیادی ضرورت کیا ہے؟ کسان خیرات نہیں خیر مانگتا ہے ، وہ صرف اپنی فصل کی مناسب قیمت مانگتا ہے۔
اگر ایک کسان پورا سال گندم اگائے، کھاد مہنگی خریدے، ڈیزل مہنگا خریدے، بجلی مہنگی استعمال کرے، مزدوری کی بڑھتی لاگت برداشت کرے اور فصل تیار ہونے کے بعد اسے کہا جائے کہ حکومت براہ راست خریداری نہیں کرے گی یا مارکیٹ خود قیمت طے کرے گی تو وہ اگلے سال گندم کیوں کاشت کرے گا ؟ہم خود کسان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ گندم چھوڑ دو، کوئی دوسری فصل لگا لو،پھر ایک دو سال بعد جب گندم کی پیداوار کم ہوگی تو حکومت ہنگامی اجلاس بلائے گی، کابینہ میں پریزنٹیشن ہوگی، گندم درآمد کرنے کی تجویز آئے گی، ڈالر خرچ ہوں گے اور بیرون ملک کے کسان کو وہ قیمت ادا کی جائے گی جو اپنے کسان کو دینے کے لئے ہم تیار نہیں تھے۔
یہ کیسی معاشی حکمت عملی ہے؟اپنے کسان کو مناسب قیمت دینا خزانے پر بوجھ قرار پاتا ہے لیکن بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا معاشی ضرورت بن جاتا ہے، حکومت کو گندم کی مستقل سپورٹ پرائس پالیسی بنانا ہوگی، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر سال فصل آنے سے چند ہفتے پہلے حکومت سوچنا شروع کرے کہ اب کیا کرنا ہے، کسان کو کم از کم چھ ماہ پہلے معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت کس قیمت پر گندم خریدے گی اور کتنی مقدار خریدے گی، اس کے پیچھے سرکاری خریداری کی ضمانت بھی ضروری ہے۔بھارتی پنجاب کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں 2026 کے خریداری سیزن میں حکومتی نظام نے مقررہ کم از کم قیمت پر بڑے پیمانے پر گندم اٹھانے کا ہدف رکھا اور مئی کے آغاز تک 115 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ گندم خریدی جا چکی تھی، ہمارے ہاں کسان کو کبھی ایپ سمجھائی جاتی ہے، کبھی باردانہ اور کبھی نجی خریداروں کے نظام میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اپنے سب سے اہم غذائی اناج کے کاشتکار کو قیمت کی ضمانت نہیں دے سکتی تو کسان دوست حکومت کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟

