لاہور(نمائندہ خصوصی)لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کا اجلاس صدر ارشد انصاری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدور ناصرہ عتیق اور مدیحہ الماس، جنرل سیکرٹری افضال طالب، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، فنانس سیکرٹری سالک نواز اور گورننگ باڈی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے صدر ارشد انصاری نے بتایا کہ سیکرٹری اطلاعات نے روڈا (RUDA) کو خط ارسال کر دیا ہے، جس میں صحافی کالونی فیز ٹو کی ڈیولپمنٹ کیلئےاگست تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کلب ممبران نے صحافی کالونی فیز ٹو کے فارم وصول کر لیے ہیں لیکن تاحال واجبات جمع نہیں کرائے، وہ ایک ہفتے کے اندر اپنی ادائیگیاں مکمل کریں، بصورت دیگر پلاٹوں کی قرعہ اندازی میں ان کے نام شامل نہیں کیے جائیں گے۔
گورننگ باڈی نے متفقہ طور پر دو سال قبل موصول ہونے والے ممبرشپ فارمز پر کونسل ممبرشپ دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ وہ پیشہ ور صحافی جو کئی برسوں سے کلب کی رکنیت سے محروم ہیں اور آئین کے مطابق رکنیت کے اہل ہیں، انہیں میرٹ کی بنیاد پر ممبرشپ دی جائے گی۔
اجلاس میں ایسے ممبران کی رکنیت منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جنہوں نے بارہا نوٹسز کے باوجود اپنا اسٹیٹس واضح نہیں کیا یا متعلقہ اداروں کے جعلی خطوط جمع کرائے، جن کی تصدیق کے بعد جعلسازی ثابت ہوئی۔ تاہم بے روزگار صحافیوں کی رکنیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ لاہور پریس کلب ان کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور انہیں کلب کی تمام سہولیات بدستور فراہم کی جائیں گی۔
گورننگ باڈی نے مختلف میڈیا اداروں سے صحافیوں کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مراعات ختم کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کارکن صحافی پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں ملازمتوں سے برطرفی اور مراعات کی بندش ناقابلِ قبول ہے۔ نائب صدر مدیحہ الماس نے نشاندہی کی کہ مرد و خواتین اینکرز کیلئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت ختم کر دی گئی ہے جبکہ جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ اور گورننگ باڈی کے رکن اسد محمود نے بتایا کہ 92 نیوز میں کیمرہ مینوں کو سفری سہولیات سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن اداروں میں جبری چھانٹیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمین کی مراعات ختم کی جا رہی ہیں، ان کا سخت محاسبہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں لاہور پریس کلب کو معاشی طور پر خودکفیل بنانے کیلئےمختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کلب کی مالی خودمختاری کیلئے قابلِ عمل اور دیرپا منصوبے تیار کیے جائیں۔

