کھیلوں کا حال اور بابراعظم کی قیادت!

پاکستان کی کھیلوں کے حوالے سے میڈیا اور اب سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ کھیلوں کے حوالے سے جنّات کا جو سایہ پڑا تھا وہ تو دور نہیں ہو رہا بلکہ الٹا یہ نحوست دیگر محکموں اور شعبوں کی طرف بھی منتقل ہو گئی ہے اور وہاں بھی کام سنوارو والے نہیں کام بگاڑنے والے آکر بیٹھ گئے ہیں۔ ہاکی کا حال جو ہوا اس کے حوالے سے توکچھ کہنا ہی بیکار ہے کہ کبھی ہم اس کھیل کے چیمپئن تھے اور ایسے ایسے کھلاڑی ابھرے جن کا نام پوری دنیا میں گونجتا تھا اور پھر بتدریج یہ کھیل جسے قومی کھیل کا درجہ مل چکا تھا خراب ہوتا چلاگیا اور اب تو پرانے کھلاڑیوں میں سے چند حضرات کے نام ہی یاد رہ گئے ہیں، ایک ہمارے دوست قاسم ضیاء بھی ہیں جو بزنس کو پیارے ہو چکے ہیں، اب حالت یہ ہے کہ حالیہ پرولیگ میں اس قومی کھیل کا یہ حال ہوا کہ سو فیصد میچ ہار گئے جیسے ہماری خواتین ٹیم نے عالمی کپ کے مقابلوں میں ہاکی کی پیروی کی اور تمام گروپ میچ ہار کر مقابلے ہی سے باہر ہوگئی، ان کے منیٹور، کوچز اور خود ان کو خیال نہیں آیا، سنا ہے اب تک موچ اڑا رہے ہیں اور بورڈ کے خرچ پر خوب سیر ہورہی ہے۔

ذکر مقصود ہے کرکٹ کا، اس پر بھی نحوست کا سایہ ہے اور اس نحوست سے پوری قوم کی آواز کے باوجود نجات نہیں ملی بلکہ اس نے اب ایک نیا پینترا بدل لیا ہے۔ کرکٹ ٹیم کا حال سب کے سامنے ہے اور بورڈ کے پیرتسمہ پاء نے کوئی ایکسپرٹ اور عوامی رائے نہیں سنی اور مسلسل ناکامیوں کا ریکارڈ قائم کرتے چلے گئے۔ کھیلوں کی کوریج کے سینئرزکہنہ مشق صحافی اور سابق ماہر کھلاڑی بھی تجاویز دے دے کر تھک گئے لیکن بورڈ کسی بہت اہم اور مضبوط پرچی سسٹم کے تحت چل رہا ہے۔ اس وقت بورڈ کے سربراہ محسن نقوی ہیں جنہوں نے صحافت سے سیاست کو اختیار کرلیا اور ماشاء اللہ نظر بددور بڑی ترقی کی ہے اس وقت جو پوزیشن ان کو حاصل ہے وہ کسی اور وزیر کے نصیب میں بھی نہیں چہ جائیکہ ان کی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین والے منصب کو کوئی خطرہ ہو، تاہم خیال یہ کیا جاتا تھا کہ میڈیا سے دیرینہ تعلق ہونے کی وجہ سے وہ ٹیم کے حوالے سے نشر اور شائع ہونے والی درد مندانہ آراء کا ضرور اثر لیں گے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جس شخصیت کے بارے میں ملک کے کھلاڑیوں اور عوام کی بھاری ترین اکثریت نشاندہی کرتی ہے وہ محسن نقوی صاحب کے لئے معتبر ہے۔ شاید اس کے پاس کوئی سخت اور گہری سیاہی والی مہر سے بنائی پرچی ہے کہ اب بھی انہی کی مرضی سے نیا نقشہ بنا ہے۔

قارئین! یہ درست ہے کہ گروہ بندی یاپسند ناپسند ہر دور میں رہی لیکن جو حال آج کا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا تھاکہ محترم کا کلّا اتنا مضبوط ثابت ہو رہا ہے کہ نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کے کیرئیر خراب کرنے اور شاہینوں کو کوّے بنانے کے باوجود ان سے باز پرس کرنے کی کسی کو ہمت نہیں،بہرحال اب جو فیصلہ ٹیسٹ کرکٹ کے لئے کیا گیا اس حوالے سے میری ذاتی رائے مختلف تھی اور میں نے انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ بابراعظم کو ٹیم کی سربراہی قبول نہیں کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ توجہ اپنے کھیل پر مبذول کرنا چاہیے کہ ابھی اس کے سامنے کئی عالمی ریکارڈ پڑے ہیں،بابراعظم کی حمائت بھی اس کی کپتانی کے حوالے سے نہیں اس کے کھیل اور ریکارڈوں کی وجہ سے ہے تاہم اب اگر ان کو ”اَن فٹ“ کہہ کر ٹیم سے باہر نکلوانے کی کوشش کرنے والوں کو قیادت کے لئے کوئی دستیاب نہیں تو بہ امر مجبوری پھر سے اسے موقع دیا گیا کہ شاید حالات کی روشنی میں وہ اب ناکام ہو جائے اور اس سے جان چھڑالی جائے۔ کھیلوں کے سینئر صحافیوں نے اندر کی کہانی بتائی ہے کہ شان کی ناکامیاں بڑھ جانے کے باعث تبدیلی کا فیصلہ تو کرلیا گیا تاہم گروہ بندی والی کیفیت کے تحت سلمان علی آغا کو اس کی تمام تر بُری کارکردگی کے باوجود یہ پیش کش کی گئی کہ وہ قیادت کرے لیکن خود سلمان نے اپنا انجام یا شاید مستقبل محفوظ کرنے کے لئے مزید انتظار کرنے کو کہا وہ قیادت کا خواہش مند تو ہے تاہم اس وقت حالات موافق نہیں ہیں، اس کے بعد بھی شان مسعود ہی کو کپتانی جاری رکھنے کی پیشکش تھی اور یہی آپشن تھی کہ بابر اعظم اور محمد رضوان بقول ”رنگ ماسٹر“ اب بوڑھے ہوگئے اور اپنا وقت پورا کر چکے ہیں اب یہی سپورٹس رپورٹر بتاتے ہیں کہ شان مسعود کی بڑی پرچی کے باوجود قسمت اس پر مہربان نہ ہوئی اور پھر نہ جانے کیسے قرعہ بابراعظم کا نکل آیا اور اس نے یہ ذمہ داری قبول کرلی کہ تین سال تک وہ بہت کچھ ہوچکا تھا۔

بابراعظم کی قیادت کے ساتھ ساتھ ٹیم کی سلیکشن پر بھی بہت کچھ کہا جا رہاہے۔ نوجوان کھلاڑی اذان اور عبداللہ فضل میں گُن ہیں اور وہ ثابت بھی کر چکے اگرچہ غلط قیادت کے ہاتھوں ان کو بھی شرمندہ ہونا پڑا تھا، بہرحال ٹیم کے لئے نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ ساتھ میں عرض کروں گا کہ فاسٹ باؤلنگ کے شعبہ پر نظر کی ضرورت ہے۔ عبیدشاہ کو موقع دینا درت تاہم باقی دو باؤلروں کی رفتار کا خیال رکھنا ضروری تھا کہ ہمارے پاس 151 کلومیٹر کی رفتار سے باؤلنگ کرنے والا ”غریب مسکین“ باؤلر بھی ہے جس کے پاس پرچی نہیں۔