یورپی شراکت داروں کیساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید گہرا کرنے کی کوشش ہے:میلانیا جولی

اوٹاوا( نمائندہ خصوصی) امور خارجہ کی وزیر میلانی جولی کا کہنا ہے کہ اوٹاوا یورپی شراکت داروں کے ساتھ اپنی انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن یوکرین جیسے مسائل پر الگ ہے۔

انٹیلی جنس ماہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے عہدیداروں کی تقرری پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہوں نے غلط معلومات شیئر کی ہیں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بدلہ دینے کی بات کی ہے جو ٹرمپ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔جولی کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو اقوام متحدہ کی قرارداد میں کینیڈا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف امریکی ووٹنگ پر فکر مند ہیں جس میں روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور یوکرین کی خودمختاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانے کے بارے میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی رابطے میں رہی ہیں۔جولی کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے خطرناک ہوتی جا رہی ہے، اور ممالک اس خلل سے نمٹنے کے لیے “نئے اتحاد” تشکیل دے رہے ہیں وہ کہتی ہیں کہ اسی لئےکینیڈا کو ان ممالک کے ساتھ “کام کرنے کا رشتہ” ہونا چاہیے جن سے اس کا اختلاف ہے، جن میں جنوبی افریقہ، ہندوستان اور سعودی عرب شامل ہیں.

اپنا تبصرہ لکھیں