یومِ آزادی سے قبل امریکا کے بڑے حصے میں خطرناک ہیٹ ویو کی وارننگ

واشنگٹن ( امریکی نیشنل ویدر سروس، بین الاقوامی میڈیا)امریکی محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں اس ہفتے سے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تعطیلات تک طویل اور خطرناک ہیٹ ویو برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔

امریکی نیشنل ویدر سروس کے مطابق کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ نمی میں اضافے کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت 41 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔ رات کے وقت بھی درجہ حرارت زیادہ رہنے کے باعث شہریوں کو گرمی سے خاطر خواہ ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ شدید گرمی فضاء میں بننے والے “ہیٹ ڈوم” کے باعث ہے، جس میں بلند فضائی دباؤ گرم ہوا کو ایک وسیع علاقے میں قید کر دیتا ہے۔ یہ صورتحال کئی دن بلکہ بعض اوقات ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔

شدید گرمی کی لہر سے نیویارک، فلاڈیلفیا، واشنگٹن، بالٹی مور، شکاگو، انڈیاناپولس، سینٹ لوئس، ڈیٹرائٹ، ڈلاس، لٹل راک اور میمفس سمیت متعدد بڑے شہر متاثر ہوں گے، جبکہ الینوائے، آئیووا، کنساس، مشی گن اور ٹینیسی کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق معمر افراد، بچوں اور پہلے سے بیمار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ امریکی نیشنل ویدر سروس نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے، ٹھنڈی جگہوں پر رہنے اور شدید گرمی کے دوران بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ یورپ بھی اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے باعث متعدد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔