یہ تو پہلا قدم ہے

امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع معاہدے میں ابھی کچھ وقت لگے گا لیکن دونوں میں مفاہمت تو ہو چکی۔ اس مفاہمت کا کریڈٹ لینے کیلئے بہت سے کردار سرگرم ہیں، لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ اس مفاہمت کیلئے سب سے زیادہ دوڑ بھاگ کس نے کی۔ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت پوری دنیا کیلئے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے سے سب کو فائدہ ہوگا، لیکن کچھ کردار ایسے بھی ہیں جو اس مفاہمت سے خوش نہیں۔ یہ کردار اوپر اوپر سے اس مفاہمت کا خیر مقدم کر رہے ہیں لیکن اندر سے اس مفاہمت کو سبوتاژ کرنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان منافقین میں پہلا نمبر اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا ہے۔ دوسرا نمبر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ہے۔ گستاخی معاف! پاکستان میں بھی کچھ لوگ اس مفاہمت سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ تیل اور گیس سستے ہو جائیں گے بلکہ انہیں یہ فکر ستائے جا رہی ہے کہ پاکستان کی اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کیوں مل رہا ہے اور اُنکے پیچھے وزیر داخلہ محسن نقوی خاموشی سے کھڑے مسکرا کیوں رہے ہیں؟ گزشتہ ہفتے جب محسن نقوی بار بار تہران کے چکر لگا رہے تھے تو میں نے کچھ سیاستدانوں کو یہ کہتے سنا کہ اب امریکا اور ایران میں کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ ایک انتہائی اہم ڈنر میں ایک وفاقی وزیر نے ایک سینئر امریکی سفارتکار کو کہا کہ’’مجھے امریکا اور ایران میں کسی بریک تھرو کی توقع نہیں۔‘‘ یہ سن کر خاتون سفارتکار نے میری طرف دیکھا تو میں نے وفاقی وزیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ’’میں اپنے دوست سے اتفاق نہیں کرتا اور میرے خیال میں بریک تھرو تو ہو چکا ہے، صرف اعلان باقی ہے۔‘‘ اس ڈنر میں موجود دیگر لوگ بھی مجھ سے پوچھتے رہے کہ میں اتنا پر اُمید کیوں ہوں؟ ان سب کو یہ عرض کرتا رہا کہ میں پر اُمید نہیں ہوں بلکہ بطور صحافی میری خبر ہے کہ امریکا اور ایران میں ایک انڈر اسٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ اب صرف اس کی نوک پلک سنواری جا رہی ہے اور انڈر اسٹینڈنگ کے اعلان کے بعد ایک جامع معاہدے کیلئے باقاعدہ مذاکرات ہوں گے۔

21مئی 2026ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے میرے کالم کا عنوان’’محسنِ ایران‘‘ تھا۔ اس کالم میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کا محسن قرار دینے کی وجہ میں نے یہ لکھی تھی کہ اب ایران کو امریکا کی اقتصادی پابندیوں سے نجات ملنے والی ہے کیونکہ دونوں میں ایک معاہدہ ہونے والا ہے۔ کچھ مہربانوں نے پوچھا کہ امریکا اور ایران میں مفاہمت کا پاکستان میں سب سے زیادہ کس کو فائدہ ہوگا؟ میرا جواب تھا کہ عوام کو فائدہ ہوگا کیونکہ تیل اور گیس سستےہو جائینگے، لیکن سوال پوچھنے والوں کیلئے تیل اور گیس کی قیمت اہم نہیں تھی۔ وہ پوچھتے تھے کہ کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے سے زیادہ مضبوط نہیں ہو جائیں گے اور پاکستان میں رہی سہی جمہوریت کا بستر بھی گول نہیں ہو جائے گا؟ نیتوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن میری ناچیز رائے میں امریکا اور ایران کی مفاہمت سے فائدہ اُٹھانے کیلئے پاکستان میں داخلی استحکام پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ بعض معاملات پر میرے تحفظات ڈھکے چھپے نہیں، لیکن صدر، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان جو ورکنگ ریلیشن شپ چل رہی ہے اس میں فی الحال کوئی پرابلم نہیں ہے۔ پرابلم صرف انہیں ہے جو مستقبل میں خود وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، وزارت عظمیٰ کےان اُمیدواروں کی سرگوشیوں سے سیاسی نظام کے بارے میں کچھ افواہیں جنم لیتی ہیں اور افواہوں کا کسی کے پاس کوئی علاج نہیں۔ وزارت عظمیٰ کے ان اُمیدواروں سے گزارش ہے کہ سرگوشیاں چھوڑیں اور بلند آہنگ کے ساتھ پاکستان کو بہتر بنانے کیلئے تجاویز دیں۔

امریکا اور ایران میں مفاہمت کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمت کم ہو رہی ہے۔ پاکستانی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دلوانے کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو چاہئے کہ اپنی معاشی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنائیں۔ جس کی کارکردگی اچھی نہیں، اسے فارغ کر دیں ۔اپوزیشن کیساتھ معاملات کو بھی افہام و تفہیم سے ٹھیک کریں۔ مت بھولیں کہ نیتن یاہو اور نریندر مودی پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینگے۔ نیتن یاہو پاکستان کو کبھی معاف نہیں کرئیگا کیونکہ پاکستان نے امریکا اور ایران میں مفاہمت کروا کر گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ مودی بھی ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کو برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ وہ پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کر کے اپنے خوابوں کی تکمیل چاہتا ہے۔ یہ وہ ناپاک خواب ہیں جن کی تعبیر کو روکنے کیلئے آج سے کچھ سال پہلے تین شخصیات نے خاموشی کیساتھ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے آپس میں صلاح مشورہ شروع کیا۔

یہ 2019ء کی ابتدا تھی جب ایرانی انٹیلی جنس کے سربراہ رضا امیری مقدم اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ حاکان فیدان نے پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کیساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بات چیت شروع کی۔ تینوں کا خیال تھا کہ اس تعاون میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ صلاح مشورہ ابتدائی مراحل میں تھا کہ جون 2019ء میں عاصم منیر کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے اس عہدے پر صرف آٹھ ماہ کام کیا۔ پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ نومبر 2022ء میں عاصم منیر پاکستان کے آرمی چیف بن گئے۔ 2023ء میں رضا امیری مقدم پاکستان میں ایران کے سفیر بن گئے اورحاکان فیدان ترکی کے وزیر خارجہ بن گئے۔ امریکا اور ایران میں مفاہمت کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کوششوں کا آغاز کیا تو رضا امیری مقدم اور حاکان فیدان نے اُن کیساتھ بھرپور تعاون کیا۔ سعودی عرب اور چین بھی پیچھے نہ رہے ۔ ان سب کی کوششوں سے جو بریک تھرو ہوا ہے، یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کا کریڈٹ ہے۔ پاکستان کو آج دنیا میں جو نیا مقام ملا ہے، اُسے برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج ہے۔ آنے والے دنوں میں آپ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر اور ایران کے ایک علاقائی اتحاد کی خبر بھی سنیں گے۔ یہ اتحاد مسلم دنیا میں شیعہ سنی تفریق کو پیچھے دھکیل دے گا۔ اور مزید تنازعات کے حل کے راستے کھولے گا۔

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ امریکا اور ایران میں مفاہمت صرف پہلا قدم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسجد اقصیٰ سے اسرائیل کا قبضہ ختم نہیں ہوتا۔ پاکستان نے سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ ملکر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کی منزل بھی حاصل کرنی ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے ترکوں اور عربوں کے اتحاد کا جو خواب دیکھا تھا، آج اُس میں ایران اور پاکستان بھی شامل ہو رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی آزادی کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی کو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔ یہ سفر سب کو مل جل کر احتیاط سے طے کرنا ہوگا۔ کسی ایک نے بھی احتیاط کا دامن چھوڑا تو نقصان سب کو ہوگا۔