اسرائیلی حکام یہودی دہشت گردی روکنے میں ناکام ہیں:سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم

تل ابیب(رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، ٹائمز آف اسرائیل)اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں جن کی سرپرستی اسرائیلی حکومت کر رہی ہے۔

اپنے ایک نئے مضمون میں ایہود اولمرٹ نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز اور دیگر حکومتی وزراء کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں حملے، آتش زنی، املاک کی تباہی اور مویشیوں کی چوری روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ہزاروں یہودی آبادکار حکومتی مدد، تحفظ اور مالی معاونت کے بغیر اس نوعیت کی کارروائیاں نہیں کر سکتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے ان سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اسرائیلی پولیس، فوج اور داخلی انٹیلی جنس ادارے شِن بیت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے یہودی انتہا پسندی اور یہودی دہشت گردی کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

ایہود اولمرٹ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی حکام نے موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا تو امریکا، یورپی ممالک اور بین الاقوامی فوجداری عدالت ان افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں جو ان واقعات میں ملوث ہیں یا انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومتی پالیسیوں پر ہر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینا درست رویہ نہیں، بلکہ اسرائیلی معاشرے کو اپنے اندر موجود انتہا پسند عناصر کا سامنا کرنا ہوگا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔