تل ابیب / بیروت(ایجنسیاں)اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان جلا دینا چاہیے۔
اپنے بیان میں اتمار بن گویر نے کہا کہ اسرائیلی ماؤں کے آنسوؤں کے بدلے لبنانی ماؤں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا چاہیے اور اس وقت خطے میں سخت اور تباہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کی قیادت کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد ساٹھ روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم تازہ پیش رفت کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ادھر امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے اجازت نامے اب متعلقہ ایرانی اتھارٹی جاری کرے گی۔
اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نئی فضائی کارروائیاں کی ہیں جن میں سولہ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں آج صبح تک مزید سولہ افراد کی شہادت کے باعث ایرانی وفد سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ نہ ہو سکا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے، تاہم لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ملتوی ہونے والے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا تاحال تعین نہیں کیا گیا، جبکہ اسرائیل کی لبنان میں حالیہ کارروائی کو گزشتہ چند ہفتوں کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔

