اسلام آباد (نامہ نگار+نمائندہ خصوصی)اپوزیشن جماعتوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف ہفتے کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا، جبکہ 27 ستمبر کو بھرپور احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلان کو بھی برقرار رکھا ہے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد میں اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق شرکاء نے عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طبی علاج پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر عمران خان کی صحت کے معاملے پر ’’ڈراما‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن ہفتے کو عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرے گی۔اپوزیشن جماعتوں نے 27 ستمبر کے مکمل احتجاج اور لانگ مارچ کے فیصلے کی بھی توثیق کی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں پنجاب سمیت ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے اور آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے آئندہ سیاسی اور پارلیمانی فیصلے باہمی مشاورت سے کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اجلاس میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کی بھی توثیق کی گئی اور اسے مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرکاء نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی ممکنہ شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد پارلیمان میں اپوزیشن کی آواز کو مزید مضبوط کرے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی بحران کو کم کرنے کے مواقع ضائع کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کا موقع ملے گا، تاہم صبح صورتحال مزید خراب ہوگئی۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے جیل کے بجائے اسپتال میں رکھا جاتا اور ڈاکٹروں کو مکمل معائنہ کرنے کا موقع دیا جاتا تو اس میں کیا حرج تھا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا اختلاف کسی فوجی، وزیراعظم شہباز شریف یا نواز شریف سے ذاتی نہیں، بلکہ ان قوتوں سے ہے جو آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن صرف پُرامن سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے گی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) سمیت اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت پر سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تین ججز کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست ہفتے کو دائر کی جائے گی۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا۔
سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تشکیل دیا جانے والا میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے ہی سڑکوں پر آنے کا اعلان کرچکی ہے، جبکہ پارٹی کی سیاسی اور پارلیمانی کمیٹیاں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کر رہی ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ سیکیورٹی خدشات یا اسپتال کے اطراف ہجوم کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کی جانب جانے والی سڑکیں کسی ہجوم کے باعث بند نہیں تھیں۔

