ایلون مسک مجھے کمتر اور غیر اہم محسوس کرواتے تھے: جسٹن ولسن

کیلیفورنیا(ایجنسیاں) ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ جسٹن ولسن نے ان کے ساتھ ازدواجی زندگی اور اپنی ٹرانس جینڈر بیٹی ویوین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سنگین دعوے کیے ہیں۔

جسٹن ولسن نے یہ انکشافات ایلون مسک کی زندگی پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم ’’مسک‘‘ میں کیے ہیں، جس کی ہدایت کاری معروف فلم ساز ایلکس گبنی نے کی ہے۔

جسٹن ولسن نے دعویٰ کیا کہ ایلون مسک انہیں اکثر کمتر اور غیر اہم محسوس کرواتے تھے اور مسلسل ان کی خامیوں کی نشاندہی کرتے رہتے تھے۔ ان کے مطابق ایلون مسک ان سے ایک ملازم کی طرح بات کرتے تھے۔

انہوں نے 2000ء میں شادی کے دوران پہلی ڈانس پرفارمنس کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایلون مسک نے ان سے کہا تھا کہ اس رشتے میں اصل اختیار ان کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ جسٹن ولسن اور ایلون مسک کی شادی 2000ء میں ہوئی تھی اور دونوں 2008ء میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے۔ دونوں کے 6 بچے ہیں۔

دستاویزی فلم میں جسٹن ولسن نے اپنی ٹرانس جینڈر بیٹی ویوین کے ساتھ ایلون مسک کے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ویوین کی جانب سے اپنی ٹرانس جینڈر شناخت کا اعلان کیے جانے کے بعد ایلون مسک نے بیٹی کی صحت بیمہ ختم کردی اور ان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی نہیں کی۔

جسٹن ولسن نے مزید دعویٰ کیا کہ ایلون مسک اپنے بچوں کی ماؤں کو محض بچے پیدا کرنے والی خواتین کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ خواتین ایک دوسرے کی جگہ لے سکتی ہیں۔

دوسری جانب ایلون مسک اس دستاویزی فلم کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ فلم کو پہلے ہی ’’ہٹ پیس‘‘ قرار دے چکے ہیں، جبکہ ان کے وکیل نے فلم میں کیے گئے بعض دعوؤں پر قانونی اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔