لندن (ایجنسیاں) برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر رولی واکر نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت جلد عوام سے جنگ کے خطرات اور قومی دفاع کیلئےقربانیاں دینے کی ضرورت پر کھل کر بات کریگی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی شہریوں کو ملک کی سلامتی اور دفاع میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔
شمالی یارکشائر میں کیٹرک گیریژن کے مقام پر تقریباً 700 فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سر رولی واکر نے کہا کہ بہت جلد سیاسی رہنما عوام کو بتائیں گے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور خطرات کہاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ دفاع اور سلامتی کو ترجیح دینے کیلئے انہیں بعض قربانیاں قبول کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسلح افواج ان کے لیے کیا خدمات انجام دیتی ہیں اور قومی دفاع میں ان کا اپنا کردار کیا ہو سکتا ہے۔ جنرل واکر کے بقول فوج کو عوام کی حمایت درکار ہوگی تاکہ فوجی دشمن کے خلاف لڑنے کی اپنی ذمہ داری ادا کر سکیں۔
انہوں نے عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے اور فوجی خدمات کی اہمیت دوبارہ قومی شعور کا حصہ بن رہی ہے۔
جنرل واکر کے اس انتباہ سے قبل برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر رچرڈ کیٹن نے بھی جون میں بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’’ٹوڈے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ دور ان کے تجربے کے خطرناک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق روس برطانیہ کے دفاعی نظام کو مسلسل آزما رہا ہے، اسے چیلنج کر رہا ہے اور خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔
برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین مک کیلم نے بھی عوام پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی اور ملک کی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ لندن میں سالانہ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے روس کو برطانیہ کیلئے سب سے بڑا جارحانہ خطرہ قرار دیا اور بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران سے منسلک مبینہ سازشوں کے سلسلے میں 50 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔
سر کین مک کیلم نے کہا کہ برطانوی عوام، کاروباری اداروں اور برادریوں کو بدلتی ہوئی عالمی صورت حال اور مخالف قوتوں کی جانب سے پیدا کیے جانیوالے دباؤ کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آنیوالے مہینوں میں عوام کو ملک کی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئےمزید اقدامات سے آگاہ کریگی۔
ادھر برطانیہ اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے پس منظر میں برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے جمعرات کو پینٹاگون میں اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگسیتھ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون اور تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنا تھا۔ ویس اسٹریٹنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بیسویں صدی کے سنگین ترین خطرات دوبارہ سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں یوکرین کے لیے امریکی تعاون سے فراہم کی جانے والی سیٹلائٹ مواصلاتی سروس اسٹارلنک کی بحالی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ یہ سروس روسی میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے میں مدد دیتی ہے۔ ویس اسٹریٹنگ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر دفاع نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ سروس دوبارہ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کے سابق وزیر دفاع اور کنزرویٹو رہنما سر بین والیس نے اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کی فتح چاہتے ہیں اور ان کے اقدامات یوکرین کے مقابلے میں روس کے لیے زیادہ حمایت ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم ویس اسٹریٹنگ نے کہا کہ ان کی نظر میں یہ جنگ یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے دفاع کی جنگ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ جنگ ختم کرانے اور امن مذاکرات میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
برطانوی حکومت اور فوجی حکام کے خدشات کی ایک وجہ روسی بحری جہازوں کی سرگرمیاں بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روسی جنگی جہازوں کی انگلش چینل میں نقل و حرکت کے دوران برطانوی بحریہ کو بارہا انہیں اپنے ساتھ لے کر نگرانی کرنا پڑی۔ جون میں روسی جنگی جہاز ایڈمرل گریگورووچ نے آئل آف وائٹ سے تقریباً 23 میل دور برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک سویلین کشتی پر مبینہ طور پر انتباہی فائرنگ بھی کی تھی۔
اپریل میں برطانیہ کے اس وقت کے وزیر دفاع جان ہیلی نے انکشاف کیا تھا کہ روسی آبدوزوں نے برطانیہ کے شمال میں سمندری حدود میں اہم مواصلاتی تاروں اور پائپ لائنوں کے قریب خفیہ سرگرمیاں انجام دی تھیں۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ان تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج ہونگے۔ اس کے ایک ماہ بعد روسی جنگی طیاروں نے بحیرہ اسود کے اوپر برطانوی فضائیہ کے ایک غیر مسلح جاسوس طیارے کو بار بار خطرناک انداز میں روکنے کی کوشش کی تھی۔
رپورٹ میں برطانیہ کے خلاف روسی سائبر حملوں کے خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان حالات میں برطانوی حکومت نے رواں ہفتے یوکرین کو روسی حملوں کے خلاف دفاع میں مدد دینے کیلئے مزید اسٹارم شیڈو میزائل بھیجنے پر اتفاق کیا۔
ایران پر بھی برطانوی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں گلوسٹرشائر کے مقام پر واقع آر اے ایف فیئر فورڈ اڈے پر حملے کی مبینہ سازش سامنے آئی تھی، جہاں ایران کیخلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے امریکی جنگی طیارے موجود تھے۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس سے قبل کہا تھا کہ یہ مبینہ دہشت گردانہ سازش تقریباً یقینی طور پر ایران کی ہدایت پر تیار کی گئی تھی۔

