ایک باپ نے بیٹی کی تعلیم کیلئے موٹر سائیکل پر دودھ بیچا، پھر اس کے روشن مستقبل کی خاطر اپنا پلاٹ فروخت کر دیا۔ ایک ماں نے اپنے زیورات گروی رکھ دیے۔ بیٹی نے محنت کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا، لیکن بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کا خواب مبینہ جعلسازی کی نذر ہوگیا۔ اسلام آباد کی لائبہ اعجاز کا المناک سانحہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظام، حکومتی نگرانی اور اجتماعی بے حسی پر ایک دردناک سوالیہ نشان ہے۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ ملی بھگت سے لائبہ کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس مقصد کے لیے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹر، یونیورسٹی کے داخلہ خطوط اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں تیار کی گئیں۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بیرونِ ملک داخلے، اسکالرشپ اور ویزے کے نام پر لاکھوں روپے بٹورنے، جھوٹی ضمانتیں دینے اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو روکنے کا مؤثر نظام کیوں موجود نہیں؟
پاکستان کے بڑے شہروں سے چھوٹے قصبوں تک نام نہاد تعلیمی اور امیگریشن کنسلٹنٹس کی بھرمار ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر یقینی ویزے، مفت تعلیم، مکمل اسکالرشپ اور فوری روانگی کے دل فریب اشتہارات عام ہیں۔ بعض کنسلٹنٹس شاندار دفاتر، غیر ملکی رابطوں اور کامیابیوں کے بلند بانگ دعووں سے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بعض سہولت کاروں کے ملوث ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن ایسے عناصر کی مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا فقدان ایک سنگین مسئلہ ہے۔
انسانی اسمگلنگ کا المیہ اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ ایف آئی اے کی دستاویزات پر مبنی جولائی 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2023 کے بعد سات کشتی حادثات میں کم از کم 335 پاکستانی جان سے گئے۔ تعلیمی فراڈ اور غیر قانونی ہجرت کے جرائم اپنی نوعیت میں الگ ہیں، لیکن دونوں میں بہتر مستقبل کی خواہش کا استحصال مشترک ہے۔
میں خود ایک ایسے طالب علم کو جانتا ہوں جو اسی نوعیت کی مبینہ جعلسازی کا شکار ہوا۔ پہلے ایک کنسلٹنٹ نے کینیڈا میں داخلے کے نام پر اس سے بھاری رقم وصول کی اور ایک غیر مستند کالج میں داخلے کی دستاویزات تھما دیں، جس کے بعد اس کی ویزا درخواست مسترد ہوگئی۔ پھر ایک دوسرے کنسلٹنٹ نے اسی طالب علم سمیت متعدد دوسرے طلبہ کو اٹلی میں داخلے اور اسکالرشپ کے سبز باغ دکھا کر مزید بھاری رقوم وصول کیں۔ طلبہ تقریباً دو سال انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد ان سے یہ کہہ کر مزید رقم لی گئی کہ اٹلی میں ایک وکیل کو ادائیگی کرنا ہوگی جو سفارت خانے میں ویزا انٹرویو کی تاریخ حاصل کروا دے گا۔
بالآخر ان طلبہ کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا، لیکن اس کے بعد مزید ایک سال گزرنے کے باوجود نہ انہیں ویزا ملا اور نہ ہی کوئی واضح جواب۔ یوں مبینہ دھوکے، غیر شفاف مشاورت اور مسلسل وعدوں نے نہ صرف ان کی خطیر رقم ضائع کی بلکہ زندگی کے تقریباً تین قیمتی سال بھی چھین لیے۔
یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ میرے ذاتی علم میں آنے والے ایسے طلبہ کی روداد ہے جنہیں میں قریب سے جانتا ہوں۔ اس معاملے میں متعلقہ دستاویزات اور مالی لین دین کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ اٹلی کا سفارت خانہ ان طلبہ کی ویزا درخواستوں اور انٹرویوز کے سرکاری ریکارڈ کی جانچ کر سکتا ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ متاثرہ طلبہ کے مطابق انہیں یہ تاثر دیا گیا کہ اطالوی ویزا دفتر کے بعض اہلکار بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔ یہ ایک سنگین دعویٰ ہے جس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آئے اور سفارت خانے کی ساکھ بھی غیر مصدقہ الزامات سے متاثر نہ ہو۔ کنسلٹنٹس کو کی گئی ادائیگیوں اور مبینہ دھوکے کی تحقیقات پاکستانی اداروں کی ذمہ داری ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نوجوان کے تین تعلیمی سال ضائع ہو جائیں تو ان کی قیمت کون ادا کرے گا؟ والدین کی محنت کی کمائی، فروخت کیے گئے پلاٹ اور گروی رکھے گئے زیورات کا نقصان تو اپنی جگہ، لیکن جوانی کے قیمتی سال، تعلیم کے مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات کون واپس لا سکتا ہے؟ یہ نقصان محض مالی نہیں بلکہ تعلیمی، معاشی اور نفسیاتی بھی ہے۔
کینیڈا میں جعلی داخلہ خطوط کے واقعات سامنے آنے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں سے داخلہ خطوط کی براہِ راست تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا۔ اٹلی کے سفارت خانے نے جولائی 2026 میں واضح تنبیہ کی کہ طلبہ یونیورسٹالی کے سرکاری پورٹل سے پیشگی رجسٹریشن کریں اور ویزا اپائنٹمنٹ فروخت کرنے والوں سے ہوشیار رہیں۔ جب متعلقہ ممالک خود ایسے فراڈ سے خبردار کر رہے ہیں تو پاکستان میں مؤثر نگرانی کیوں نہیں کی جا رہی؟
حکومت کو بیرونِ ملک تعلیم اور امیگریشن کی مشاورت فراہم کرنے والوں کے لیے فوری طور پر شفاف اور قابلِ نفاذ ضابطے متعارف کرانے چاہییں۔ کنسلٹنٹس کی باقاعدہ رجسٹریشن لازمی ہو اور ان کی قانونی حیثیت، پیشہ ورانہ اہلیت، فیس، خدمات اور شکایات کا ریکارڈ عوام کے لیے قابلِ تصدیق بنایا جائے۔ ہر ادائیگی تحریری معاہدے اور رسید سے مشروط ہو۔ جھوٹے اشتہارات، جعلی دستاویزات اور یقینی ویزے کی ضمانتوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ فراڈ ثابت ہونے پر مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے ساتھ متاثرین کی رقم کی واپسی اور نقصان کے ازالے کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن، جامعات، ایف آئی اے اور متعلقہ سفارت خانوں کے درمیان مستقل رابطہ اور معلومات کے تبادلے کا نظام ہونا چاہیے۔ بیرونِ ملک مقیم مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی شواہد کی بنیاد پر بین الاقوامی قانونی تعاون حاصل کیا جائے۔
اخبارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ تعلیمی اور امیگریشن خدمات کے اشتہارات شائع کرنے سے پہلے مشتہر کی قانونی حیثیت اور دعووں کی مناسب تصدیق ضروری ہونی چاہیے۔ جان بوجھ کر گمراہ کن یا جعلی اشتہارات کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے، کیونکہ دھوکے کے اس کاروبار کو فروغ دینے والے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔
طلبہ اور والدین کو بھی چاہیے کہ کسی کنسلٹنٹ پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ یونیورسٹی کی قانونی حیثیت، داخلے اور اسکالرشپ کی تصدیق براہِ راست سرکاری ذرائع سے کریں۔ ویزے کی ضمانت پر یقین نہ کریں، بغیر رسید رقم ادا نہ کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری شکایت درج کرائیں۔ تاہم احتیاط کی تمام ذمہ داری شہریوں پر ڈال کر ریاست اپنی قانونی اور انتظامی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہوسکتی۔
اس المیے کا سب سے دردناک پہلو انسانی زندگی کا ضیاع ہے۔ نوجوان جب والدین کی قربانیوں، قرضوں اور ناکامی کے خوف تلے دب جاتے ہیں تو انہیں الزام تراشی کے بجائے محبت، اعتماد اور بروقت نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ فراڈ کا شکار ہونا شرمندگی نہیں، دھوکا دینا شرمناک ہے۔ کوئی داخلہ، ویزا، اسکالرشپ یا لاکھوں روپے انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں۔
وزارتِ داخلہ کے نوٹس اور ایف آئی اے کی کارروائی کو آغاز سمجھنا چاہیے، انجام نہیں۔ کیا حکومت ہر مرتبہ کسی سانحے کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟ کیا چند روزہ میڈیا کوریج، چند گرفتاریاں اور روایتی بیانات اس سنگین مسئلے کا مستقل حل ہیں؟
لائبہ کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن کسی دوسری لائبہ کو ایسے انجام سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی جھوٹے وعدوں اور جعلی خوابوں کا کاروبار بے لگام رہا تو اگلی خبر میں صرف نام اور شہر بدلے گا، کہانی نہیں۔
کسی قوم کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کے ذہین نوجوان علم کی تلاش میں نکلیں اور منزل تک پہنچنے کے بجائے دھوکے، مایوسی اور بے بسی کا شکار ہو جائیں؟ ریاست کی اصل کامیابی کسی سانحے کے بعد ملزمان کی گرفتاری نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں جعلسازوں کو قانون کا خوف، متاثرین کو انصاف کی امید اور والدین کی عمر بھر کی کمائی کو تحفظ حاصل ہو۔
تاکہ کسی دوسرے باپ کو اپنی بیٹی کے روشن مستقبل کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے بعد اس کے خوابوں کو یوں بکھرتے نہ دیکھنا پڑے۔

