تائی پے، واشنگٹن، بیجنگ(سی بی ایس نیوز، بین الاقوامی میڈیا)تائیوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جنگ روکنے کیلئے تائیوان کا مضبوط دفاع ناگزیر ہے۔
امریکا میں تائیوان کے اعلیٰ نمائندے الیگزینڈر یوئی نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ اگر جنگ کو روکنا ہے تو تائیوان کو اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانا ہوگی اور اسی لئے اسے ضروری ہتھیار حاصل کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے امن کا اصول تائیوان کی پالیسی ہے اور امریکا کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی خطے کے استحکام کیلئےاہم ہے۔تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے بھی واضح کیا کہ تائیوان کو کسی سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور جمہوریت کے دفاع کیلئے اسلحے کی خریداری ضروری ہے۔
ادھر ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو اسلحے کی فروخت پر تفصیلی بات چیت کی ہے اور اس معاملے پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔تائیوانی نمائندے نے الزام عائد کیا کہ چین تائیوان کے بارے میں یکطرفہ بیانیہ پیش کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیجنگ نے کبھی بھی تائیوان پر حکومت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور چین کے دباؤ کے باوجود اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تائیوان کے اسلحہ معاہدے کو چین کے ساتھ وسیع تر مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتی ہے، تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ تاخیر سے تائیوان کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

