ایران میں جو ہو رہا، اس پر کوئی تعجب نہیں، امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے مزاج کے حوالے سے عرض کر دیا تھا،وہ اسی طرح کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور دوست ممالک کی بہترین کوشش سے مذاکرات کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس سے دنیا میں کچھ آسودگی کا احساس ہوا۔ عالمی سطح پر تجارت میں بھی معقولیت آئی۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں معتدبہ کمی ہوئی لیکن یہ سب شاید مختصر وقت کیلئے ہی تھا، احساس ہوتا ہے کہ مشکلات کم نہیں ہو رہیں، بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب فریقین نے پھر سے انا کا مسئلہ بنا لیا اور اسلحہ کا استعمال شروع ہو گیا۔ امریکی پینٹاگون نے سو سالہ امریکی منصوبے کے تحت عمل شروع کر رکھا ہے اب بھی صدر ٹرمپ کی تازہ گفتگو سے قبل ہی سینٹرل کمانڈ نے نئے حملے شروع کر دیئے اور جوابی طور پر ایران نے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور یہ اہداف بحرین اور کویت میں ہیں، یہ دونوں ممالک پہلے سے ہی نشانے پر ہیں، اب کیا کیا جائے کہ ہر دو ملک مسلمان بھی ہیں اور ان کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم کئے گئے ہوئے ہیں۔ حالیہ حملوں سے ذہن میں وہ سب تازہ ہوجاتا ہے جو امریکہ، یورپ، اسرائیل اور ایران و عراق و شام کے حوالے سے پڑھ رکھا ہے، اگر ہم مسلمان ذرا غور کریں تو جو بھی ہو رہا ہے یہ سب ہمارے لئے غیر معمولی نہیں کہ ایسے حالات کے حوالے سے ہمیں پہلے ہی سے آگاہ کیاجا چکا ہے لیکن ہم مسلمان ہی غفلت کا شکار ہیں، اس حوالے سے امریکہ، یورپ، صہیونیت اور مسلمان ممالک خصوصاً ایران کے حوالے سے بہت کچھ کہا لکھا جا سکتا ہے لیکن نہ تو یہ موقع ہے اور نہ ہی ہمارا صحافتی ضابطہ اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے لہٰذا اللہ سے کرم کی دعا اور توبہ کرتے ہوئے یقین کو جی چاہتا ہے کہ بالآخر ہم سمجھ ہی جائیں گے اور اعمال درست کرکے اللہ کی رحمت سے باریاب ہوں گے۔
اب اسی حوالے سے اپنے اعمال پر بھی نظر ڈال لیں، پاکستان براہ راست ان حالات سے متاثر ہے اور یہاں معاشی حالات سنبھل نہیں پا رہے، اس میں عالمی حالات کے اثرات تو یقینا ہیں لیکن خود ہم بطور پاکستانی مسلمان کس قدر قصوروار ہیں، اس کا ادراک بھی کرنا چاہیے۔ ہم سب کو یاد ہوگا کہ صدر آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ اسلام آباد کے بابوؤں کا لفظ استعمال کیا اور مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، انہوں نے یہ اپنی مصلحت کے تحت ہی کہا ہوگا لیکن یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ملک کے پچیس کروڑ میں سے ایلیٹ کلاس (نئی،پرانی اشرافیہ) کو نکال کر ہر فرد اس بابوازم کے باعث تکلیف میں مبتلا ہے ان دنوں معمر پنشنر حضرات اپنی پریشانی کا احوال بتاتے جا رہے ہیں۔ سرکاری پنشنروں کو تو سات فیصد کے حساب سے اضافہ دیا گیا لیکن ای او بی آئی اور نیم سرکاری یا خود مختار ادارے افیون کھا کر سو رہے ہیں بلکہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو پنشنروں کو بلاوجہ تنگ کرکے اپنے جذبات کو آسودگی بخشتے ہیں۔ ای او بی آئی کے پنشنر تو خود اپنی کٹوتی کی رقوم میں سے اضافہ چاہتے ہیں جو ان کا قانونی حق ہے۔ حکومت اور خود انسٹی ٹیوشن کابورڈ آف ڈائریکٹر کوئی بات سننے کارودار نہیں اور یہ سب حضرات آجر اور اجیر کے خون پسینے کی کمائی سے مراعات لے کر عیش کررہے ہیں اور ہماری سرکار نے بھی کئی سالوں سے اپنا قانونی حصہ ادا نہیں کیا ہے۔
اسی طرح نیم خودمختار، نیم سرکاری اور نام نہاد خود مختار اداروں کابھی یہی حال ہے ان میں ایک ادارہ نیشنل پریس ٹرسٹ بھی ہے یہ ایوب دور کی نشانی ہے اور صحافتی زبان و تحریر بندی کے لئے بنایا گیا تھا مسلم لیگ ن کے دور میں اخبارات بند کرکے ملازم فارغ کر دیئے گئے ماسوا امروز ملازمین باقی مزدوروں کو گولڈن ہینڈ شیک والی مراعات دی گئیں، امروز والے محروم رہے اور ان کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا وہاں سے ریلیف ملی اور ان کو پنشن کا حق دار قرار دیا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ این پی ٹی قانونی ادارہ ہے جو ختم نہیں کیا جا سکتا چنانچہ یہ قائم ہے اور اس کے ایک چیئرمین بھی ہیں اس ادارے کی مالی حالت کا یہ عالم ہے کہ اربوں روپے کے غیر منقولہ اثاثے ہیں اور لاکھوں روپے ماہانہ کی آمدنی ہے۔ اس سے عدالتی حکم کے تحت امروز کے پنشنروں کو ماہانہ پنشن دی جاتی ہے، مرکزی حکومت نے اب تک سالانہ بجٹوں میں جو اضافے دیئے ان کا اطلاق ان پنشنروں پر نہیں کیا جاتا یہ درخواست بھی عدالت میں زیر التوا ہے۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ این پی ٹی انتظامیہ نے وزیراعظم کی ہدایات کے حوالے سے امروز کے پنشنروں کے آن لائن ادائیگی کے لئے پنجاب بینک میں اکاؤنٹ کھلوائے لیکن اسلام آباد کے دفتر میں موجود اکاؤنٹ والا بابو اسے فضول جانتا ہے اس نے بینک کو ماہانہ فہرست اور اکاؤنٹ نمبر دے کر ہدائت نہیں دی کہ خودکار طریقے سے پنشن متعلقہ پنشنروں کے اکاؤنٹ میں ہر ماہ جمع کر دی جائے تاوقتیکہ کوئی دوسرا فیصلہ نہ ہو جس کی اطلاع دی جائے گی، وہ غالباً اسے درست نہیں جانتے یا پھر وزیراعظم کی ہدایت کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں، وہ اب بھی ہر ماہ چیک بنا کر بنک کو دیتے ہیں اور اس میں 8سے 12دن کی تاخیر کرنا معمول کی کارروائی ہے، ماہ جون کی پنشن اب تک کئی اکاؤنٹس میں نہیں پہنچی۔ جنرل منیجر سے درخواست کابھی کوئی اثر نہیں ہوا کہ ایران، امریکہ جنگ کے اثرات تو ہونا ہیں۔

