حکمران مجبور کسان اور گندم

پاکستان کی طاقتور بیورو کریسی اور با اثر ذخیرہ اندوز مافیا نے اپنے گٹھ جوڑ سے ”وقت کے حکمرانوں“ کو مجبور کر ہی دیا کہ ملک میں گندم کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود (گندم کی قیمتوں میں استحکام کے نام پر) بیرون ملک سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے تاکہ ”ذخیرہ اندوز اور مل مالکان“ (جو گندم اکٹھی کر چکے ہیں)اسے من مانے نرخوں پر فروخت کر سکیں اور کسانوں نے جو گندم ابھی تک ذخیرہ اندوز مافیا کو فروخت نہیں کی وہ ان سے نکلوائی جا سکے۔ کسان کو لوٹنے اور اس کی فصل کی اچھی قیمت نہ دینے کا یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ملک کی 70فیصد دیہی آبادی کے ووٹوں سے حکومت بنانے والے حکمرانوں کو کبھی ان 70فیصد دیہی ووٹروں کا خیال نہیں آتا کیونکہ یہ حکمران جانتے ہیں کہ وہ ”ووٹوں سے اقتدار میں نہیں“آتے بلکہ پہلے ”فارم 45میں گڑبڑ“سے آتے تھے اور اس مرتبہ سول بیوروکریسی نے اپنے ”زیر انتظام انتخابات”میں فارم 47 کا ”استعمال“ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اور ان کے پشت پناہ جس کے سر پر چاہیں ”ہما بٹھا سکتے ہیں“۔

اب ایسے حکمرانوں سے کیسے کسی اچھائی کی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر یہاں گندم چینی اور دیگر اشیا خوردونوش کا بحران نیا نہیں۔ہر تھوڑے عرصے بعد کمائی کے لئے کوئی نہ کوئی بحران کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ چینی ”پاکستانی طاقتوروں کی کمائی“ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ چینی کی پیداوار اضافی ظاہر کر کے پہلے چینی برآمد کرکے اور پھر ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر چینی واپس درآمد کرکے عوام کی جیبیں ہلکی کی جاتی ہیں اور اربوں روپیہ کمایا جاتا ہے۔ گندم بھی کمائی کے اسی کھیل کا حصہ ہے۔پاکستان کو اپنی ضرورت کے لئے گندم درآمد کرنا پڑا کرتی تھی۔مارچ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پارٹی کے ”فیصلہ سازوں“ کے حکم پر مارچ کے مہینے میں فصل کٹنے سے پہلے گندم کی امدادی قیمت 510 سے بڑھا کر 650 کر دی پھر اسی سال نومبر 2008 ء میں گندم کی امدادی قیمت 950 مقرر کر دی گئی۔ لہٰذا کسان نے گندم خوب لگائی اور 2008ء میں جو گندم بمشکل پوری ہوئی تھی وہ 2009ء میں اس قدر زیادہ پیدا ہوئی کہ پنجاب حکومت جس نے 35لاکھ ٹن گندم خریدنی تھی اس نے کسانوں سے آخری دانا تک خریدنے کا دعوی پورا کرنے کیلئے 60لاکھ ٹن خریدی۔

یوسف رضا گیلانی نے اگلے سال 2010-2011ء کے لئے امدادی قیمت کو 1050مقرر کر دیا، اس طرح انہوں نے اپنے تین برسوں میں گندم کی امدادی قیمت کو 510 سے 1050کر کے دو گنا سے بھی زیادہ کر دیا۔پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کے بعد گندم جو پہلے درآمد کرنا پڑتی تھی پاکستان اس میں نہ صرف خود کفیل ہوا بلکہ اس نے برآمد بھی کرنا شروع کر دی۔2023ء میں اس وقت کے نکران وزیراعلیٰ سید محسن رضا نقوی نے گندم کی امدادی قیمت پہلے 3900 اور پھر 4000روپے من مقرر کر دی، لیکن فصل کٹنے سے پہلے 2024ء میں انتخابات ہوئے اور مریم نواز شریف وزیراعلیٰ بن گئیں جنہوں نے گندم کی امدادی قیمت کو 3900 روپے ہی رکھا، مگر جب گندم بازار میں آئی تو بدقسمتی سے پنجاب حکومت نے گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسان نے جو گندم 3900روپے من کی متوقع قیمت کے مطابق اُگائی تھی وہ اس کو 2200سے 2500 روپے من بیچنا پڑی۔ صرف خوش قسمت کسانوں کو 2700 سے 3000روپے کا ریٹ مل سکا اور کسان بری طرح برباد ہوا۔

بعدازاں پنجاب حکومت نے 2025ء اور پھر سال 2026ء کیلئےگندم کی امدادی قیمت3500 روپے ہی مقرر کی، جبکہ بجلی، کھاد، زرعی ادویات سب کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں۔اس سال وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے بھی امدادی قیمت 3500روپے ہی مقرر کی، لیکن پنجاب حکومت گزشتہ دو تین سال سے گندم خریداری کی نئی پالیسی پر عمل کر رہی ہے جس کے تحت خود خریداری کی بجائے نجی شعبے کو خریداری کا اختیار دیا گیا ہے۔ رواں سال خریداری کرنے والی کمپنیوں کو پہلے رجسٹرڈ کیا گیا پھر انہیں خریداری کے لئے بنکوں سے قرض لینے اور اس قرضے پر بنک کو ادا کئے جانے والے منافع کا 75 فیصد خود حکومت (کے ادا کرنے کی سہولت بھی دے دی) بیورو کریسی نے حکمران خاندان کو یقین دلایا تھا کہ اس طرح گندم کی سرکاری خریداری اور اسے محفوظ کرنے پر خرچ ہونے والے 400 ارب روپے بچیں گے)، لیکن بدقسمتی سے پنجاب حکومت نے کسی بھی بینک حتیٰ کہ پنجاب بینک کو بھی اس پالیسی کو فالو کرنے کا نہیں کہا۔ پنجاب بینک سمیت کسی بنک نے گندم کی خریداری کے لئے قرضہ لینے کیلئےرابطہ کرنے والے کو قرضہ نہیں دیا۔ البتہ عسکری بینک نے دو کمپنیوں کو گندم کی خریداری کیلئے”رقم“ دی۔ الفلاح بنک نے ایک پارٹی کو قرضہ دیا لیکن اس کے لئے اسے 100 فیصد گارنٹی جمع کرانا پڑی۔

یہ ہے وہ مسئلہ جس کی وجہ سے گندم کی خریداری میں پنجاب کی نئی پالیسی ناکام ہوئی۔ ذخیرہ اندوزوں، مل مالکان نے اپنا کام دکھایا (گندم خریدنے کی سہولت کا فائدہ اٹھا کر ذخیرہ کرلی) لیکن کسان کو جب صحیح قیمت نہیں ملی تو اس نے بھی فروخت روک لی۔اب صورتحال یہ ہے کہ گندم کی قیمت کٹائی مکمل ہونے کے بمشکل ایک ماہ بعد پنجاب میں 4500اور بلوچستان میں 5100 تک پہنچ چکی ہے۔ پنجاب میں 10کلو آٹا 1225، سندھ 1328،خیبر پختونخوا میں 1356اور بلوچستان میں 1378روپے کا ہو چکا ہے۔ پاکستان کی آبادی 26کروڑ 75 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے،(جس کے لئے ضرورت دو کروڑ 90 لاکھ ٹن سالانہ ہے لیکن کچھ بزرجمہروں کی طرف سے گندم کی سالانہ ضرورت تین کروڑ 35لاکھ ٹن بتائی جاتی ہے)۔

پاکستان میں اس سال دو کروڑ 96لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ وفاق کے پاس 15 لاکھ ٹن اور پنجاب کے پاس پانچ لاکھ ٹن کے قریب گندم موجود ہے۔ یعنی پاکستان میں اس وقت تین کروڑ15 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو ہماری ضروریات کیلئے کافی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان سے افغانستان کو جو گندم سمگل ہوا کرتی تھی وہ اب سمگل نہیں ہو رہی۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردوں کی سرپرستی اور افغان پاکستان ”سرحد گرم“ ہونے سے بند ہو چکی ہے۔ افغانستان کو اپنی ضروت کیلئے اپنی پیداوار کے علاوہ تقریباً 23 سے25 لاکھ ٹن گندم چاہئے ہوتی ہے جو پاکستان سے سمگل ہو کر جاتی تھی۔ حکومت نے پاسکو کا محکمہ بھی تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پنجاب حکومت بھی خود خریداری نہیں کر رہی۔ اگلے سال گندم کے ”سٹرٹیجک ذخائر“ کیلئے گندم کون اور کہاں سے خریدے گا۔ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کی گندم کی ضروریات ”وفاق“کیسے پوری کرے گا۔ سوالیہ نشان ہے سمجھداروں کیلئے؟