نئی دہلی(خبر ایجنسیاں)بھارت میں نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ 25 جولائی کو حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے باوجود احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے معاہدے کی تحریری نقل فراہم نہ کی اور اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کیا تو ملک گیر احتجاج دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ احتجاج سے متعلق تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے، کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا اور طلبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، مگر اس کے برعکس گرفتاریاں، نگرانی اور ہراسانی کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں کل تک 25 جولائی کے معاہدے کی تحریری کاپی فراہم نہ کی گئی تو تنظیم احتجاج دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔
سی جے پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل سے متعلق مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جائے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پیش کیے گئے پانچ نکاتی منشور پر عمل درآمد کیا جائے۔
تنظیم کے ایک اور ترجمان آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کے مطابق بہار اور مغربی بنگال میں سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں طلبہ اور رضاکاروں کو نگرانی اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی پولیس، مرکزی تحقیقاتی ادارے اور بی جے پی یا اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت والی ریاستوں میں احتجاج سے متعلق تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں اور کوئی نیا مقدمہ درج نہ کیا جائے۔
سی جے پی کی رکن رتنا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ آسام میں 7 سے 8 مقدمات درج کیے گئے، کولکتہ میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 10 مسلمان شامل ہیں، اور ان پر اقدامِ قتل سمیت سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں، جبکہ بہار میں 86 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم ان تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے جنہیں احتجاج میں حصہ لینے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سی جے پی نے “ساکشی” کے نام سے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا ہے، جہاں احتجاج میں شریک افراد پولیس کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کر سکیں گے۔
سینئر وکیل کپل سبال نے بھی احتجاج کرنے والوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کیلئے 1 کروڑ بھارتی روپے فراہم کریں گے تاکہ ملک بھر کے وکلا کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے طلبہ کی قانونی مدد کیلئےمنظم کیا جا سکے۔
کپل سبال نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس احتجاج میں شریک افراد کی شناخت کیلئےچہرہ شناخت کرنیوالی ٹیکنالوجی (فیشل ریکگنیشن) استعمال کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل حکومت اور سی جے پی کے درمیان تین ادوار کے مذاکرات کے بعد احتجاج عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ 25 جولائی کے معاہدے پر اعتماد تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔تنظیم کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے اس بات کا تعین کریں گے کہ فریقین کے درمیان قائم یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا ملک بھر میں احتجاج کی نئی لہر شروع ہوتی ہے۔

