مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) کینسر ایجوکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن کے گیارہویں سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ پیتھالوجسٹ اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف لویا نے بتایا کہ کراچی میں قائم ہونے والا شوکت خانم کا نیا اسپتال 29 دسمبر 2026ء کو باضابطہ طور پر کام شروع کر دے گا۔

ڈاکٹر آصف لویا کے مطابق کراچی میں قائم ہونے والا نیا اسپتال ڈی ایچ اے سٹی میں موٹروے ایم 9 پر واقع ہے، جہاں کراچی سے حیدرآباد جانے والے مسافر اسے دور سے دیکھ سکتے ہیں۔ لاہور اور پشاور کے اسپتالوں کے بعد یہ شوکت خانم کا تیسرا بڑا اسپتال ہوگا اور حجم و استعداد کے لحاظ سے لاہور کے اسپتال سے تقریباً دوگنا بڑا ہوگا۔ اس منصوبے سے کراچی اور اس کے گردونواح کے کینسر کے مریضوں کو جدید طبی سہولیات اپنے شہر میں میسر آئیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مزید خصوصی کینسر اسپتالوں کی ضرورت ہے۔ تقریب میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق ملک میں ہر سال کینسر کے تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 19 ہزار مریض جانبر نہیں ہو پاتے۔ شوکت خانم کا لاہور اسپتال 1994ء میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ پشاور اسپتال نے 2015ء میں کام شروع کیا۔
ڈاکٹر آصف لویا نے بتایا کہ مریضوں کی تشخیص کیلئے چار واک اِن کلینکس بھی کام کر رہے ہیں، جہاں مریضوں کی رپورٹس اور تشخیصی ٹیسٹوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ادارے کے قیام سے اب تک مجموعی مریضوں میں سے 75 فیصد کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا ہے۔ اسپتال کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 45 سے 50 فیصد حصہ تشخیصی مراکز اور لگ بھگ 185 نمونے جمع کرنے والے مراکز کے نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا ہوتا ہے، جس سے جدید طبی آلات اور سہولیات برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

دوسری جانب صدرِ بورڈ آف ٹریژری، شفقت علی نے کینسر ایجوکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن کے گیارہویں سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں منتظمین اور کمیونٹی کو مبارک باد پیش کی۔ شفقت علی نےجاری کردہ اپنے سرکاری مکتوب میں کہا کہ کینسر ایک موذی مرض ہے جس نے بے شمار افراد اور خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں عوامی آگاہی، تعلیم، طبی تحقیق اور کمیونٹی کی معاونت کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کی کاوشیں انتہائی اہم اور قابلِ تحسین ہیں۔
شفقت علی نے فاؤنڈیشن کی مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تشکیل کیلئے لوگوں کو متحد کیا ہے۔ انہوں نے سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر کے منتظمین، رضاکاروں، عطیہ دہندگان اور کمیونٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ ہمدردی، جذبے اور مقصد کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تقریب میں شرکت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کی آئندہ کوششوں اور مشن کی کامیابی کیلئےنیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

دریں اثنا، گزشتہ روز مارکھم میں منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کیلئے 6 لاکھ 50 ہزار کینیڈین ڈالر جمع کیے گئے۔ یہ رقم کراچی میں زیرِ تعمیر نئے اسپتال کی تکمیل اور اسے فعال بنانے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگی۔حمزہ علی عباسی اورڈاکٹرعابدہ عثمان نے تقریب میںخصوصی طورپرشرکت کی.

