مسی ساگا:زیاد ابوالطیف 31 جولائی کو رحمان گروپ کے دفتر کا دورہ کرینگے

مسی ساگا(نمائندہ خصوصی) کینیڈا کی پارلیمنٹ کے رکن اور ایڈمنٹن میننگ سے مسلسل چوتھی مرتبہ منتخب ہونے والے کنزرویٹو رکنِ پارلیمنٹ زیاد ابوالطیف 31 جولائی 2026ء بروز جمعہ رحمان گروپ کے دفتر کا دورہ کریں گے، جہاں ان کے اعزاز میں ملاقات اور خیرمقدمی تقریب کا انعقاد کیا جائیگا۔

تقریب جمعہ، 31 جولائی 2026ء کو شام 6 بجے رحمان گروپ آفس، 3465 پلاٹینم ڈرائیو، یونٹ 228، رج وے پلازہ، مسی ساگا میں منعقد ہوگی۔معلومات اور شرکت کی تصدیق کیلئے 1414-848-905پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر جاری کیے گئے دعوت نامے کے مطابق دوست احباب اور گروپ کے اراکین کو تقریب میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ معزز مہمان سے ملاقات، خیرمقدم اور تبادلۂ خیال کا موقع حاصل کر سکیں۔ نشستوں کی محدود تعداد کے باعث شرکت کی پیشگی تصدیق ضروری قرار دی گئی ہے۔

زیاد ابوالطیف 2015ء میں پہلی مرتبہ کینیڈا کی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، جس کے بعد وہ 2019ء، 2021ء اور 2025ء میں مسلسل دوبارہ منتخب ہوئے۔ وہ ایوانِ نمائندگان میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کی حیثیت سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ پارلیمانی ذمہ داریوں کے دوران وہ 2015ء سے 2017ء تک آفیشل اپوزیشن کے ناقد برائے نیشنل ریونیو، 2017ء سے 2019ء تک شیڈو منسٹر برائے بین الاقوامی ترقی اور 2019ء سے 2020ء تک شیڈو منسٹر برائے ڈیجیٹل گورنمنٹ کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔

لبنان میں پیدا ہونے والے زیاد ابوالطیف 1990ء میں کینیڈا منتقل ہوئے۔ وہ اپنی اہلیہ الزبتھ کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں۔

زیاد ابوالطیف چھوٹے کاروباروں کے مضبوط حامی ہیں اور ایسے ضابطہ جاتی نظام کی حمایت کرتے ہیں جو کاروباری افراد کو بااختیار بناتے ہوئے کینیڈین شہریوں کیلئے معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ مضبوط اور خوشحال کاروباری برادری ہی مضبوط اور متحرک معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

ایک کامیاب کاروباری شخصیت، متحرک سماجی رہنما اور خاندانی زندگی سے وابستہ فرد کی حیثیت سے زیاد ابوالطیف نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا ہے، جس سے انہیں کینیڈین اور بین الاقوامی تعلقات، زبانوں، ثقافتوں، سیاست اور کاروباری منڈیوں کے بارے میں گہری سمجھ حاصل ہوئی، جس کی بدولت وہ اپنے حلقے کے عوام کی مؤثر نمائندگی کرتے ہیں۔

اعضا اور ٹشوز کے عطیات کے فروغ کیلئے ان کی جدوجہد ذاتی تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔ 2003ء میں انہوں نے اپنے بیٹے ٹائلر کی جان بچانے کیلئےاپنے جگر کا ایک حصہ عطیہ کیا۔ وہ اعضا اور ٹشوز کے عطیات کے فروغ کیلئےمسلسل سرگرم ہیں اور موجودہ پارلیمنٹ میں بل C-234 کے ذریعے ’’لیونگ ڈونر ریکگنیشن میڈل‘‘ کے قیام کیلئے قانون سازی کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ نیشنل آرگن ڈونر رجسٹری کے قیام کیلئےبھی کوششیں کر چکے ہیں۔

زیاد ابوالطیف ایوانِ نمائندگان میں اپنے حلقے کے عوام کی آواز مؤثر انداز میں اٹھاتے ہیں اور حکومت کو عوامی مفاد میں فیصلے کرنے پر زور دیتے ہیں۔ وہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ احترام اور تعاون کے جذبے کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جب ہم مل کر کام کرتے ہیں تو ہم کینیڈین عوام کیلئےزیادہ بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔‘‘

وہ ایڈمنٹن میننگ کے عوام کی خدمت کا موقع ملنے پر شکر گزار ہیں اور اپنے حلقے کے رہائشیوں سے مسلسل سیکھنے اور ان کی آراء جاننے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’مجھے اپنے حلقے، اس کے تنوع، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی پرامن بقائے باہمی پر بے حد فخر ہے۔ ہم سب مل کر ایک دوسرے کو ان بلندیوں تک پہنچاتے ہیں جہاں تنہا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا، اور یہی اس معاشرے کا حسن ہے۔‘‘

زیاد ابوالطیف کو ان کی پارلیمانی، سماجی اور عوامی خدمات پر متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں البرٹا سینٹینیئل میڈل، کوئینز ڈائمنڈ جوبلی میڈل، کوئینز پلاٹینم جوبلی میڈل، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی جانب سے ازبکستان کی تیسویں قومی سالگرہ کا تمغہ، رائل کینیڈین جیوگرافیکل سوسائٹی کے کالج آف فیلوز کی رکنیت اور حال ہی میں کینیڈا کیلئے خدمات کے اعتراف میں کنگ چارلس سوم کورونیشن میڈل شامل ہیں۔

وہ اس وقت ہاؤس آف کامنز کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور اور بین الاقوامی ترقی (FAAE) کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کینیڈین برانچ آف کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن، کینیڈین نیٹو پارلیمنٹری ایسوسی ایشن، کینیڈا۔یورپ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن، کینیڈا۔امریکا انٹر پارلیمنٹری گروپ اور دیگر متعدد پارلیمانی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔

پارلیمانی فرینڈشپ گروپس میں وہ کینیڈا۔مصر، کینیڈا۔اردن، پارلیمنٹری فرینڈز آف کردز اور کینیڈا۔ازبکستان پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپس کے چیئرمین، کینیڈا۔لبنان پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ کے شریک چیئرمین اور کینیڈا۔ترکیے فرینڈشپ گروپ کے نائب چیئرمین ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کینیڈا۔آرٹساخ، آذربائیجان، بیلجیئم، بلغاریہ، ہانگ کانگ، عراق، کوریا، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپس سے بھی وابستہ ہیں۔

وہ آل پارٹی جووینائل ذیابیطس کاکس کے شریک چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ آل پارٹی ایگریکلچر کاکس، آل پارٹی ذیابیطس کاکس، پارلیمنٹری نیٹ ورک آن دی ورلڈ بینک اینڈ آئی ایم ایف، انٹرنیشنل پینل آف پارلیمنٹیرینز فار فریڈم آف ریلیجن اینڈ بلیف، سینئرز کاکس ایڈوائزری کمیٹی اور ٹورازم کاکس ایڈوائزری سے بھی وابستہ ہیں۔