نئی دہلی (رائٹرز، اے پی، دی ہندو، انڈین ایکسپریس، این ڈی ٹی وی) بھارتی وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے مسابقتی امتحانات، خصوصاً نیٹ، یو جی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر متعدد شہروں میں جاری احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 40 برس طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کیا اور نوجوانوں کے خوابوں کو ہمیشہ اپنی اخلاقی ذمے داری سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ 3 مئی 2026ء کو ہونے والے نیٹ، یو جی کے امتحان میں بے ضابطگیوں کے سامنے آنے پر حکومت نے فوری طور پر تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کیں، امتحان منسوخ کیا، دوبارہ امتحان کروایا اور آئندہ سال سے اسے کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدا ہی سے پوری ذمے داری قبول کی تھی اور کبھی حالات سے منہ نہیں موڑا، تاہم بعض ذمے دار افراد نے طلبہ کو گمراہ کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، جس پر انہیں شدید دکھ پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے واقعات نے انہیں دل گرفتہ کیا، لیکن یہ ان کی ذاتی انا کا مسئلہ نہیں، ملک کے نوجوان ہی بھارت کی اصل طاقت ہیں۔
دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ جنتر منتر اور ملک بھر کی صورتِ حال، قومی یکجہتی، طلبہ کے مستقبل کو قانونی پیچیدگیوں سے بچانے اور احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا فائدہ ’’ملک دشمن عناصر‘‘ کو نہ پہنچانے کے لیے انہوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

