واشنگٹن(گلوبل نیوز، رائٹرز، خبر ایجنسیاں) امریکا کی 25 ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جبری مشقت کے الزام میں 60 تجارتی شراکت دار ممالک، جن میں کینیڈا بھی شامل ہے، پر عائد کیے گئے نئے درآمدی ٹیرف کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
اوریگن سمیت 25 ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے نیویارک میں امریکی عدالتِ تجارتِ بین الاقوامی میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے یہ ٹیرف نافذ کیے ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے گزشتہ ماہ امریکی تجارتی قانون 1974ء کی شق 301 کے تحت یہ ٹیرف نافذ کیے تھے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی تجارت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔
نئے ٹیرف تقریباً تمام امریکی درآمدات پر لاگو کیے گئے ہیں، جن کی شرح 10 سے 12.5 فیصد تک مقرر کی گئی ہے۔درخواست گزار ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف درحقیقت صدر ٹرمپ کے سابقہ عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لینے کے لیے نافذ کیے گئے، جو نئی ڈیوٹیوں کے اعلان سے عین قبل ختم ہو گئے تھے۔
عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئے ٹیرف کا وقت اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ اقدام محض ایک بہانہ ہے، جو من مانی، غیر معقول اور شق 301 کے قانونی مقصد سے متصادم ہے۔اوریگن کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ نے کہا کہ ہر قانونی مرحلے پر ناکامی کے باوجود صدر ٹرمپ ایک بار پھر محنت کش خاندانوں اور مقامی کاروباروں کے لیے مزید بے یقینی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی چھوٹے کاروباری اداروں کے ایک گروپ نے بھی ٹیرف کے اعلان کے ایک روز بعد ان کے خلاف دو الگ مقدمات دائر کیے تھے۔یورپی یونین سمیت 60 ممالک اس پالیسی سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کینیڈا اور میکسیکو پر کینیڈا، امریکا، میکسیکو آزاد تجارتی معاہدے (CUSMA) سے باہر آنے والی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔
کینیڈا نے اس پالیسی میں اپنے شامل کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے سپلائی چین میں جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی روک تھام کے لیے پہلے ہی سخت حفاظتی اقدامات موجود ہیں اور مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
رواں سال فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کردہ بیشتر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) صدر کو تجارتی شراکت داروں پر یکطرفہ “باہمی” ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
اس فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے عدالت کے ان ججوں کو، جنہوں نے ان کی پالیسی کے خلاف فیصلہ دیا، “غیر وفادار” قرار دیا اور فوری طور پر تجارتی قانون کی شق 122 کے تحت 10 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے، جن کی مدت صرف 150 روز تک محدود تھی۔
بعد ازاں عدالتِ تجارتِ بین الاقوامی نے شق 122 کے تحت عائد ٹیرف کو بھی غیر قانونی قرار دیا، تاہم اپیل کے دوران وہ بدستور نافذ رہے۔شق 122 کے تحت نافذ ٹیرف 24 جولائی کی نصف شب کو ختم ہونا تھے، جبکہ شق 301 کے تحت نئے ٹیرف کا اعلان 23 جولائی کی شام کیا گیا۔
عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ شق 301 کا مقصد دوسرے ممالک کی غیر منصفانہ یا امتیازی تجارتی پالیسیوں کا تدارک کرنا ہے، تاہم موجودہ ٹیرف محض عالمی سطح پر یکساں ٹیکس دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش ہیں اور مختلف ممالک کے حالات یا ان کی مبینہ خلاف ورزیوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار ریاستوں کا مؤقف ہے کہ درآمدات پر اس نوعیت کا وسیع پیمانے کا ٹیکس دنیا بھر میں جبری مشقت کے حقیقی مسئلے کا کوئی مؤثر حل نہیں ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اپنی قانونی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے ان غیر معقول پالیسیوں اور اقدامات کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکی تجارت پر بوجھ بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتا تو یہ امریکی تجارت اور امریکی کارکنوں کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے، اسی لیے شق 301 کے تحت ٹیرف ایک مؤثر اور قانونی ذریعہ ہیں، جو صدر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں بھی استعمال کیے گئے تھے اور اب بھی قانونی طور پر برقرار ہیں۔

