پنجاب ، مضبوط بیوروکریسی یا سیاسی نگرانی؟

پچھلے دنوں پنجاب میں چند کمشنر اور کافی ڈپٹی کمشنر تبدیل کیے گئے جبکہ سیکرٹری سطح کے افسروں میں ابھی تک ایک دو کے علاوہ تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا،نئے تعینات افسروں کی اکثریت اچھے افسروں پر مشتعمل ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بیوروکریسی کا بہترین سٹف سامنے لایا جا رہا ہے تو غلط نہ ہو گا، پاکستان میں جب بھی اچھی گورننس کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے پنجاب کا ذکر آتا ہے، اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کی انتظامی کامیابی یا ناکامی کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں، پنجاب کی بیوروکریسی کو ہمیشہ مضبوط ترین انتظامی مشینری سمجھا جاتا رہا ہے،جس نے قومی چیلنجز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، گزشتہ چند برسوں سے ایک سوال مسلسل زیرِ بحث ہے کہ کیا پنجاب میں گورننس کے بہتر ہونے کی وجہ مضبوط سیاسی نگرانی ہے؟ یا پھر بیوروکریسی کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کا مطلوبہ اعتما د مل رہا ہے ؟

ہر منتخب حکومت عوام سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ نظام کو بہتر بنائے گی، بدعنوانی کم کرے گی، عوامی خدمات میں بہتری لائے گی اور ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرے گی، یہ اس کا آئینی اور سیاسی حق ہے کیونکہ عوام نے اسے مینڈیٹ دیا ہوتا ہے، اسی لیے وزیراعلیٰ، وزراء اور سیاسی قیادت چاہتی ہے کہ سرکاری افسران تیز رفتاری سے کام کریں، منصوبے بروقت مکمل ہوں اور عوام کو فوری ریلیف ملے، اس مقصد کیلئےاجلاسوں، ویڈیو لنکس، کارکردگی رپورٹس اور اعشاریوں ، اچانک دوروں اور مسلسل مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، بظاہر یہ ایک مثبت عمل ہے، لیکن ہر مثبت عمل کی طرح اس میں بھی اعتدال ضروری ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بیوروکریسی کسی بھی ریاست میں انتظامی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، حکومتیں پانچ سال بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مگر ادارے باقی رہتے ہیں، اگر ادارے مضبوط ہوں تو حکومتوں کی تبدیلی سے نظام متاثر نہیں ہوتا، لیکن اگر ادارے کمزور ہو جائیں تو بہترین سیاسی وژن بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا،بار بار تبادلے کبھی حل نہیں ہوتا ، کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر یا کسی اہم محکمے کا سیکرٹری چند ماہ بعد ہی تبدیل ہو جائے تو وہ اپنی ٹیم بنا پاتا ہے نہ منصوبوں کی نگرانی کر پاتا ہے اور نہ ہی اصلاحات کے نتائج سامنے آتے ہیں ، ہر نیا افسر پہلے چند ہفتے یا مہینے صرف نظام کو سمجھنے میں صرف کرتا ہے، اس کے بعد اگر اس کا تبادلہ ہو جائے تو ادارہ ایک مرتبہ پھر نقطۂ آغاز پر آ جاتا ہے، اس کا نقصان صرف افسر کو نہیں بلکہ عوام کو بھی ہوتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں انتظامی استحکام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، وہاں کسی افسر کی کارکردگی کا جائزہ ایک یا دو ماہ میں نہیں بلکہ مناسب وقت کے بعد لیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس نے اپنے فیصلوں کے کیا نتائج پیدا کیے،پنجاب میں اس دور حکومت میں افسران کو ایک معقول مدت تک کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے تاکہ وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کر سکیں گے اور بہتر نتائج دے سکیں گے۔

اس وقت پنجاب میں گورننس جانچنے کا رجحان کارکردگی کو میڈیا اور سوشل میڈیا سے جوڑ دینا بھی ہے، اگر کسی ضلع کی سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیوز زیادہ نظر آئیں تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہاں بہت کام ہو رہا ہے، لیکن اچھی گورننس کی اصل کسوٹی کیمرہ نہیں بلکہ عام شہری ہے، اگر ایک کسان کو بروقت کھاد اور پانی میسر نہیں، اگر ایک مریض کو سرکاری ہسپتال میں دوا نہیں مل رہی، اگر ایک طالب علم کے سکول میں استاد موجود نہیں، اگر شہری کو پٹواری یا سرکاری دفتر میں رشوت دیے بغیر کام نہیں ہوتا تو پھر سوشل میڈیا کی کامیاب مہمات بھی عوام کی مشکلات کم نہیں کر سکتیں۔آج کا دور ڈیجیٹل گورننس کا دور ہے، پنجاب میں بھی مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی، آن لائن مانیٹرنگ، ڈیش بورڈز، شکایتی پورٹلز اور مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی انسانی قیادت، انتظامی بصیرت اور زمینی تجربے کا متبادل نہیں بن سکتی، کمپیوٹر صرف اعداد و شمار دکھا سکتا ہے، مگر کسی دور افتادہ گاؤں کے مسائل، کسی غریب شہری کی مجبوری یا کسی افسر کی قائدانہ صلاحیت کا اندازہ صرف ڈیٹا سے نہیں لگایا جا سکتا۔

ایک اور اہم پہلو سیاسی نگرانی اور انتظامی مداخلت کے درمیان فرق کو سمجھنا ہے، نگرانی ہر حکومت کا حق ہے بلکہ اس کے بغیر جوابدہی ممکن نہیں، لیکن اگر ہر چھوٹے بڑے فیصلے کیلئےفیلڈ افسر کو مرکز کی طرف دیکھنا پڑے تو مقامی سطح پر انتظامی صلاحیتیں ختم ہونے لگتی ہیں، ضلع وہی بہتر چلا سکتا ہے جو اس ضلع کے حالات، لوگوں اور مسائل کو قریب سے جانتا ہو، اگر ہر فیصلہ لاہور سے ہوگا تو ضلعی انتظامیہ صرف احکامات کی منتظر رہے گی، مسائل کا فوری حل تلاش کرنے والی انتظامیہ نہیں بن سکے گی،اسی طرح بیوروکریسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ خودمختاری کا مطلب جوابدہی سے آزادی ہے، ایک جدید سول سروس وہی ہے جو عوام کے سامنے جوابدہ ہو، قانون کی پابند ہو اور اپنے فیصلوں کی وضاحت کر سکے، بدعنوانی، سستی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوامی شکایات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن احتساب کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور یکساں ہونا چاہیے تاکہ دیانت دار افسر خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ فیصلے کر سکیں، ہر علاقے کی معاشرتی، معاشی اور انتظامی ضروریات مختلف ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو مناسب اختیارات دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے حالات کے مطابق فیصلے کر سکیں، اگر ضلعی سطح پر فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی جائے گی تو مسائل کے حل میں بھی تاخیر ہوتی رہے گی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پنجاب میں بیوروکریسی پر عوامی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں، ایک ڈپٹی کمشنر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صفائی بھی دیکھے، مہنگائی بھی کنٹرول کرے، تجاوزات بھی ختم کرے، امن و امان میں بھی کردار ادا کرے، صحت، تعلیم، زراعت، ریونیو، ترقیاتی منصوبوں، ہنگامی حالات اور سیاسی پروگراموں کو بھی کامیاب بنائے، اتنی وسیع ذمہ داریوں کی وجہ سے اسے مناسب ٹینیور ملنا چاہیے ،جو ابھی تک نظر آ رہا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مضبوط حکومت اور مضبوط بیوروکریسی ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں، اگر سیاسی قیادت وژن دیتی ہے تو بیوروکریسی اس وژن کو عملی جامہ پہناتی ہے، اگر حکومت عوامی امنگوں کی نمائندہ ہے تو سول سروس ریاستی تسلسل کی علامت ہے،ان دونوں کے درمیان اعتماد، احترام، آئینی حدود اور پیشہ ورانہ توازن ہی وہ بنیاد ہے جس پر حقیقی گورننس استوار ہوتی ہے،پنجاب کو اگر واقعی ایک جدید، شفاف اور عوام دوست صوبہ بنانا ہے تو شخصیات کے بجائے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا، ایسی سول سروس تشکیل دینا ہوگی جو میرٹ، قانون، دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر فیصلے کرے، اور ایسی سیاسی قیادت درکار ہوگی جو نگرانی تو کرے مگر اداروں پر اعتماد بھی کرے۔