کوئی ملک غیر ملکی اداروں کو کسی تیسرے ملک سے تجارت سے نہیں روک سکتا: اسماعیل بقائی

تہران، واشنگٹن(رائٹرز، الجزیرہ، انادولو )ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی نئی پابندیوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ملک غیر ملکی بینکوں، کمپنیوں یا دیگر اداروں کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت سے روکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان صرف ایک ملک کے خلاف جاری غیر قانونی معاشی جنگ تک محدود نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ہر خودمختار رکن ملک پر ماورائے علاقائی خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کو اپنی جائز پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے معاشی دباؤ ڈالنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی بینکوں، کمپنیوں یا ہوائی اڈوں کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جبکہ ایسی پابندیاں دیگر ریاستوں کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا ہے کہ تہران کسی مناسب معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ان کے خیال میں وہ درست معاہدے کے لیے تیار نہیں۔