اوٹاوا(کینیڈین پریس) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو طبی معاونت سے موت کی سہولت دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس پابندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کے لیے رواں موسم خزاں میں قانون سازی کی جائے گی۔
وزیر انصاف اور اٹارنی جنرل شان فریزر نے پارلیمنٹ ہل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں پہلے سے طے شدہ اس توسیع پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا جس کے تحت صرف ذہنی بیماری کی بنیاد پر طبی معاونت سے موت کی سہولت فراہم کی جانی تھی۔
شان فریزر نے کہا کہ اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں، تاہم حکومت کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں یہی درست طریقہ ہے۔
کینیڈا میں بعض افراد کو 2016ء سے طبی معاونت سے موت کی سہولت حاصل ہے، جبکہ 2021ء میں اہلیت کے معیار میں ترامیم کی گئی تھیں۔ تاہم صرف ذہنی بیماری کو طبی معاونت سے موت کی بنیاد بنانے کی مجوزہ توسیع انتہائی متنازع رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے 2024ء میں اس توسیع کو 2027ء تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ توسیع آئندہ سال مارچ میں نافذ ہونا تھی، جس کے پیش نظر پارلیمان کی خصوصی مشترکہ کمیٹی نے گزشتہ ایک سال کے دوران اس معاملے کا جائزہ لیا اور 30 سے زائد گواہوں کے بیانات سنے۔
شان فریزر نے کہا کہ حکومت کا موجودہ فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی سمت کے عین مطابق ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی کی حتمی سفارش کی وجوہات میں ذہنی صحت کی سہولیات تک ناکافی رسائی رکھنے والی آبادیوں میں رہنے والے افراد کے حوالے سے حقیقی خدشات، ذہنی بیماری کو ناقابل علاج قرار دینے کے معاملے پر ماہرین میں اتفاق رائے کا فقدان اور دیگر اہم نکات شامل تھے۔
وزیر انصاف نے کہا کہ حکومت نے اپنی پالیسی پر حتمی فیصلہ حال ہی میں کیا ہے اور یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے پیش نظر نہیں بلکہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ حکومت اسے درست سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، تاہم اسے پارلیمان میں پیش کرنے کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت رواں موسم خزاں میں قانون پیش کرے گی اور اسے جلد از جلد آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب پارلیمان میں بدھ کو قدامت پسند رکن پارلیمان تمارا جانسن کی جانب سے پیش کیا گیا نجی رکن کا بل بھی زیر بحث آیا، جس میں ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرکے ذہنی بیماری کو ایسی شدید اور ناقابل علاج طبی حالت قرار دینے سے خارج کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کی بنیاد پر طبی معاونت سے موت دی جاسکے۔ شان فریزر نے بل پیش کرنے پر تمارا جانسن کا شکریہ ادا کیا، تاہم کہا کہ حکومت کو بل کی بعض تکنیکی شقوں پر تحفظات ہیں اور لبرل ارکان اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔
“پیشگی رضامندی کی شق بھی مجوزہ قانون کا حصہ ہوگی”
شان فریزر نے بتایا کہ حکومت کی مجوزہ قانون سازی میں ایسے افراد کے لیے پیشگی رضامندی کی شق بھی شامل ہوگی جو کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں جس کے نتیجے میں وہ مستقبل میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو اس وقت طبی معاونت سے موت کی اجازت دینے کا قانونی راستہ فراہم کیا جائے گا جب وہ مکمل فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اس مرحلے پر اپنی رضامندی دے چکے ہوں، جبکہ انہیں معلوم ہو کہ ان کی بیماری مستقبل میں ان سے یہ صلاحیت چھین لے گی۔
وزیر انصاف کے مطابق پیشگی رضامندی سے متعلق قانون صوبائی قوانین سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، کیونکہ اس معاملے پر مختلف صوبوں کا مؤقف یکساں نہیں ہے۔
دوسری جانب معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انکلوژن کینیڈا نے صرف ذہنی بیماری کی بنیاد پر طبی معاونت سے موت کی سہولت نہ دینے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
تنظیم کی صدر موئرا ولسن نے کہا کہ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو علاج اور معاونت کی ضرورت ہے اور حکومتی فیصلہ اس امر کو تسلیم کرتا ہے، تاہم تنظیم نے طبی معاونت سے موت کے لیے پیشگی رضامندی کی اجازت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا ہے۔

