بغداد (بلومبرگ، عالمی توانائی رپورٹس)عراق نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے خریداروں کو خام تیل پر فی بیرل 33.40 ڈالر تک رعایت دی جائیگی۔بلومبرگ کے مطابق عراقی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی (سومو) نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ مئی کے دوران بصرہ سے لوڈ ہونے والے بصرہ میڈیم خام تیل پر نمایاں ڈسکاؤنٹ دیا جائیگا۔
رپورٹ کے مطابق یکم مئی سے 10 مئی کے درمیان لوڈ ہونے والے بصرہ میڈیم کی قیمت سرکاری نرخ سے 33.40 ڈالر فی بیرل کم رکھی گئی ہے، جبکہ 11 مئی سے 31 مئی تک یہ رعایت 26 ڈالر فی بیرل ہوگی۔ اسی طرح بصرہ ہیوی خام تیل بھی تقریباً 30 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر پیش کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اس کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں کیونکہ بصرہ کے خام تیل کی ترسیل کا بنیادی راستہ یہی ہے۔
عراق نے متبادل کے طور پر کچھ تیل ترکیہ کے بحیرۂ روم کے ساحل تک پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا شروع کیا ہےجبکہ ایران کے ساتھ معاہدوں کے تحت کچھ کارگو مشرقی سمت بھی بھیجے جا رہے ہیں تاہم ٹینکرز کی نقل و حرکت اب بھی پیچیدہ صورتحال کا شکار ہے۔سومو کے مطابق اگر خریدار پیشکش کو قبول کرتے ہیں تو ان پر فورس میجر کا اطلاق نہیں ہوگا کیونکہ یہ رعایت پہلے سے معلوم غیر معمولی حالات کے تحت دی جا رہی ہے۔

