کیف(رائٹرز)روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے۔یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں 70 میزائل اور ڈرون داغے، جن میں کئی بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔
ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق روسی حملوں کا ایک اہم ہدف یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تھا، روسی حملوں میں توانائی کی تنصیبات کے علاوہ رہائشی عمارتوں اور صنعتی و دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے حملوں میں 130 ڈرون، 48 کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جبکہ فضائی دفاعی نظام نے 161 اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق کیف، پولتاوا، دنیپروپیٹروفسک اور خارکیف سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
شمالی علاقے چرنی ہیف کے شہر پریلوکی میں روسی میزائل ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
روسی حملوں کے باعث کیف سمیت مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں، صنعتی تنصیبات، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے نظام کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض علاقوں میں ہنگامی طور پر بجلی کی بندش بھی شروع کردی گئی۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ روسی فوج نے کیف اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں یوکرینی فوجی صنعتی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق حملوں میں یوکرین کے دفاعی ادارے کی میزائل اور ڈرون تیار کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ولودیمیر زیلنسکی نے روسی بیلسٹک میزائلوں کو یوکرین کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے مزید فضائی دفاعی نظام، خصوصاً پیٹریاٹ میزائل نظام، فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حملوں کے دوران کیف کے متعدد شہریوں نے روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لی۔

