بہت پہلے عرض کیا تھا کہ یہ حکومت تنے ہوئے رسے پر چل رہی ہے جہاں سے پھسلنے کا امکان نظر انداز یا رد نہیں کیا جا سکتا،میں آج بھی اپنی اس گذارش پر قائم ہوں اور اِس امر کے باوجود کہ ایران، امریکہ یاد داشت والے معاہدے کی وجہ سے عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی ہے ابھی تک اس رسے سے نیچے اُتر کر زمین پر چلنے کی نوبت نہیں آئی اور بعض باخبر حلقوں کی طرف سے بدشگونی بھی شروع کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے پیار بھرے جملوں کا بھی تبادلہ ہو چکا ہے میرے لئے اب مجبوری یہ ہے کہ فرائض میں تبدیلی کے باعث اپنے دفتر کے کمرے تک محبوس سا وقت گذر رہا ہے اور عملی میدان سے ایک دوسرے شعبہ میں منتقلی کی وجہ سے روزمرہ خبروں کی تلاش سے محروم ہوں تاہم فون ایک ایسا سہارا ہے جس سے گزارہ ہو ہی جاتا ہے اور پھر الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی بدولت جو حالات سامنے آتے ہیں ان سے بات سمجھنے میں آسانی بھی ہوتی ہے، ویسے دُکھ اور غم اس بات کا بھی ہے کہ اپنے ایک بھائی کے ساتھ تبادلہ خیال سے محروم ہو گیا ہوں ان سے ہر مسئلہ پر بات ہو جاتی تو نئی خبر مل جاتی یا جاری سلسلے کے حوالے سے درست معلومات مل جاتیں جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو مجھے یاد ہے کہ ایک دور میں محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کے درمیان بھی موازنہ کیا جاتا اور محمد شہباز شریف کو مقتدرہ کا زیادہ پسندیدہ رہنما بتایا جاتا تھا تاہم ان کو موقع نہ مل سکا لیکن جب سے یہ وقت آیا یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہی تجزیہ درست تھا۔ ان دِنوں محمد شہباز شریف سربراہِ حکومت ہیں اور جب سے ان کو یہ موقع ملا وہ تنے ہوئے رسے پر چلتے ہوئے بھی نہ تو گرے ہیں اور نہ ہی ان کا توازن خراب ہوا بلکہ وہ مشکل ترین سفر کرتے ہوئے بھی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ایک ”ناممکن“ سے اتحاد کو لے کر چل رہے ہیں۔
انتخابات کے فوری بعد ہی اقتدار کے مراحل پر اتفاق رائے ہو گیا تھا جس کے بعد محمد شہباز شریف ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی تعلق نبھاتے چلے جا رہے ہیں انہی حالات میں باخبر سینئر صحافی نے نیا سال مشکل قرار دیا تو یار لوگ حکومتی چل چلاؤ کا ذکر لے کر بیٹھے اور یہ اب تک چل رہا ہے لیکن یہ محمد شہباز شریف کا حوصلہ اور حکمت ہے کہ مسئلہ کو نازک موڑ پر جانے سے پہلے ہی اس کا رُخ موڑ لیتے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی میری مستقل بیٹ رہی اور طویل رفاقت کے باعث تعلقات بھی استوار ہوئے اس لئے عروج وزوال اور اندرونی حالات سے بھی بہت واقف ہوں کئی بار ارادہ کیا کہ اس جماعت کی موجودہ سیاست اور حالت کے حوالے سے لکھوں پھر دوستوں کی ناراضی کے باعث ارادہ ملتوی کر دیا لیکن اب ایسا موقع آ گیا ہے کہ اس حوالے سے اپنے تاثرات بھی بیان کر سکوں۔ یہ امر سب پر واضح ہے کہ ایک مقبول ترین سیاسی جماعت چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر کے چلے جانے کے بعد صرف ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور انتخابی سیاست میں سندھ تک ہی کامیاب ٹھہری ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پارٹی کے لئے بہت بڑا دھچکا تھی اور تب پارٹی کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی لیکن صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر جماعت کا وجود تو برقرار رکھا لیکن پارٹی کی سیاست تبدیل ہو گئی، جس جماعت کو ترقی پسند اور خوددار کہا جاتا ہے اس کی پالیسی اور حکمت عملی تبدیل ہو گئی اور زرداری صاحب نے سربراہی کرتے ہوئے مقتدر حلقوں سے ایسے تعلقات استوار کئے کہ پیپلزپارٹی بھی بی ٹیم بن کر رہ گئی، چنانچہ اس کے نتیجے میں آصف علی زرداری اب دوسری مرتبہ صدارتی منصب پر فائز ہیں۔
یہ امر بھی واضح ہے کہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے تاثر کی وجہ سے جماعت ایک مضبوط موقف کی حامی تھی لیکن آصف علی زرداری کی سیاست بہت مختلف رہی اور انہوں نے اپنی طرف سے دیئے گئے بھرپور تعاون کی بدولت اقتدار میں حصہ لے لیا تاہم جماعت کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی ہو گئی اس سے محترمہ کی سیاست کے حامی افسردہ ہوئے اور اسی وجہ سے تبدیلی بھی آئی، جس نوجوان طبقے کے لئے محترمہ18سال کے ووٹ کی حامی تھیں وہ ووٹ پارٹی کو نہ ملا اور اسے تحریک انصاف نے سنبھال لیا،اس کے بعد پارٹی میں واضح طور پر نظریاتی اور انتخابی حلقے بن گئے۔نظریاتی حضرات نے بلاول سے توقعات وابستہ کر لیں تاہم آصف علی زرداری کی حکمت عملی کے باعث وہ پھڑ پھڑا کر رہ جاتے ہیں اور اب ان کو بھی ویسی حکمت عملی سے کام کرنا پڑا ہے اس کا مظاہرہ حال ہی میں بھی ہوا، جب گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پیپلزپارٹی واحد اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری اور بلاول کو مبارکباد بھی دی گئی پھر، احساس ہوا کہ کچھ ہونے جا رہا ہے تو بلاول پھر سے والدہ کے تاثر والے بن گئے اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک بھرپور تقریر کر ڈالی،بلاول کاغصہ کارآمد ثابت ہوا۔ بلاول کی محسن نقوی کے ساتھ جانے کے بعد اجلاس میں واپسی کی میم بھی بنائی گئی لیکن یہ حضرات بھول گئے کہ کچھ اور بھی تو ہے چنانچہ بلاول کے ایوان میں پہنچنے سے پہلے ہی وزیراعظم نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دِلا دیا اور اب تو بلاول، وزیراعظم سے مل بھی لئے اور بات صاف ہو گئی۔
جن حضرات نے محسن نقوی کے حوالے سے طنز کیا ان کو اب سوچنا چاہئے کہ کیا ہوا اور محسن نقوی نے بلاول سے کیا کہا اور وہ نہ صرف ان کے ساتھ ایوان میں آ گئے بلکہ پھر سے وزیراعظم کے تعاون کے ساتھ جی بی میں حکومت سازی کے لئے سرگرم اور پُراُمید ہیں۔ اگرچہ استحکام پارٹی والے علیم خان نے ان کے لئے ایک اور مسئلہ پیدا کر دیا، چار آزاد اراکین کو پارٹی میں شامل کر کے پانچ کا گروپ بنوا دیا، جو سودے بازی کی پوزیشن میں ہیں۔ یوں سیاست کے رنگ ڈھنگ ایسے ہی یہاں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم اس حوالے سے بھی باحوصلہ ہیں کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کو بھی ساتھ رکھا ہوا ہے اور اس کی باتیں بھی ماننا پڑتی ہیں۔ قارئین! پھر عرض کروں گا کہ حال ہی میں ہونے والے واقعات اور بیانات سے اندازہ لگا لیں کہ حالات کس نہج پر ہیں اور اب تو رسہ پر چلنے کے لئے توازن برقراز رکھنا پڑتا ہے اور اس کے لئے بانس کی ضرورت ہوتی ہے۔

