اوہ خالد عثمان! وائے گلچینِ اجل، تجھ سے کیا نادانی ہوئی

30 مئی 2026 کو کینیڈا کے ممتاز سیاسی، سماجی اور فلاحی رہنما خالد عثمان کے انتقال کی افسوسناک خبر نے کینیڈا، پاکستان اور دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا جنہیں انہیں جاننے، ان کے ساتھ کام کرنے یا ان کی خدمات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ ان کا انتقال محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کا بچھڑ جانا ہے جو اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک سہارا اور کمیونٹی کا حقیقی سرمایہ تھی۔

خالد عثمان ان نایاب شخصیات میں سے تھے جو عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق، خلوص اور عملی خدمات سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، باوقار اور وسیع النظر شخصیت تھے۔ کینیڈا اور پاکستان میں ان کی ہمیشہ ہنستی مسکراتی، محبتیں بانٹتی اور دل جیت لینے والی شخصیت ہر محفل کی رونق سمجھی جاتی تھی۔ خیبر پختونخوا کے پھولوں کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے خالد عثمان نے اپنی جڑوں اور اپنی مٹی سے رشتہ کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ انہوں نے کینیڈا میں بے لوث خدمت کی نئی مثالیں قائم کیں، لیکن اپنے وطن، اپنے شہر اور اپنے لوگوں سے محبت اور وابستگی کو ہمیشہ اپنے دل میں زندہ رکھا اور جہاں بھی رہے، خدمت کا یہ سفر جاری رکھا۔

وہ کینیڈا میں ایک کامیاب سیاسی رہنما ضرور تھے، مگر اس سے بڑھ کر ایک سچے، کھرے، مخلص اور انسان دوست انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں بناوٹ تھی نہ دکھاوا؛ بلکہ سادگی، شرافت، شفقت اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی ایک دردمند روح تھی۔

انہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی۔ ان کا مقصد نام کمانا نہیں بلکہ کام کرنا تھا۔ وہ شہرت، تصویروں اور تشہیر کے بجائے خاموشی سے خدمت کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے کام دلوں تک پہنچتے تھے اور لوگ انہیں صرف ایک عوامی نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ اپنے خیرخواہ، بزرگ، دوست اور رہنما کے طور پر یاد کرتے تھے۔

بطور منتخب عوامی نمائندہ خالد عثمان نے شہری شعور، عوامی شرکت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر شہری کی آواز اہم ہے اور قیادت کا اصل فرض عوام کی بات سننا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہے۔ ان کی گفتگو میں نرمی، رویے میں احترام اور فیصلوں میں عوامی بھلائی کا جذبہ نمایاں ہوتا تھا۔

کینیڈا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں خالد عثمان نے مختلف قومیتوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ تنوع کو معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی خوبصورتی اور طاقت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے لوگوں میں یکساں طور پر مقبول تھے اور ہر طبقے کے لوگ انہیں عزت، محبت اور اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ان کی خدمات صرف سیاست یا اپنے پیشے تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں اور کمیونٹی کی بہتری کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ خصوصاً پاکستان میں عام اور نادار لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد کو عبادت سمجھتے تھے اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے تھے۔

کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کا مثبت، باوقار اور خوبصورت تشخص متعارف کروانے اور اسے قومی دھارے میں مؤثر مقام دلانے میں بھی ان کا بنیادی اور کلیدی کردار تھا۔ انہوں نے مختلف برادریوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور پاکستانی نژاد کینیڈین شہریوں کو معاشرے کے فعال اور ذمہ دار رکن کے طور پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔

خالد عثمان کی سب سے بڑی خوبی ان کا خلوصِ نیت اور بے ساختہ انسانیت تھی۔ وہ لوگوں سے رسمی انداز میں نہیں بلکہ دل سے ملتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ، گرمجوشی اور اپنائیت ان کی پہچان تھی۔ وہ کسی سے مصافحہ کرتے تو خلوص جھلکتا تھا اور کسی سے ملتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ وہ ہر شخص کو عزت دیتے، اس کی بات توجہ سے سنتے اور اسے اہمیت کا احساس دلاتے تھے۔ یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جو رہنمائی بھی کرتا تھا، حوصلہ بھی دیتا تھا اور ضرورت پڑنے پر عملی مدد بھی فراہم کرتا تھا۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھانے والے انسان تھے۔ انہوں نے رضاکارانہ خدمات، سماجی رابطوں اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے بے شمار لوگوں کو کمیونٹی کی خدمت کے لیے متحرک کیا اور ان میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کیا۔

خالد عثمان کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت تھی کہ اصل قیادت طاقت، منصب یا اختیار کا نام نہیں بلکہ خدمت، دیانت داری اور خلوص کا نام ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایک انسان اگر نیت صاف رکھے، دل میں درد رکھے اور کام میں مستقل مزاجی دکھائے تو وہ معاشرے میں گہرا اور دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔

ان کے انتقال سے کمیونٹی ایک ایسے شخص سے محروم ہو گئی ہے جس کی موجودگی لوگوں کیلئے اعتماد، حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ تھی۔ایسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ وہ کمیونٹی کا حقیقی سرمایہ تھے؛ ایک ایسا قیمتی اثاثہ جس کی قدر ان کی زندگی میں بھی کی گئی اور جس کی کمی ان کے جانے کے بعد اور زیادہ شدت سے محسوس ہوگی۔

اگرچہ آج خالد عثمان ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی خدمات، ان کا اخلاق، ان کی محبت اور ان کی روشن یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کے قائم کیے ہوئے روابط، ان کے شروع کیے ہوئے فلاحی کام اور ان کے دلوں میں چھوڑے ہوئے نقوش آنے والے برسوں تک لوگوں کو خدمت، اخلاص اور انسان دوستی کا راستہ دکھاتے رہیں گے۔

اس غم کی گھڑی میں ہم ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں، ساتھیوں اور تمام چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

خالد عثمان بے حد یاد آئیں گے۔ وہ احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ یاد کیے جائیں گے۔ ان کا نام کمیونٹی کی تاریخ میں ایک مخلص رہنما، ایک عظیم انسان دوست، ایک باکردار عوامی نمائندے اور ایک سچے، کھرے اور دردِ دل رکھنے والے انسان کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔

وائے گلچینِ اجل! تجھ سے کیا نادانی ہوئی
پھول وہ توڑا کہ گلشن بھر میں ویرانی ہوئی

اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔