استنبول:فلوٹیلاکے اسرائیلی قید سے رہائی پانیوالے کارکنوں سے جنسی بدسلوکی اور تشدد

استنبول( عالمی خبر رساں ادارے)گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحت اسرائیلی حراست سے رہا ہو کر استنبول پہنچنے والے کارکنوں نے اپنی قید کے دوران تشدد اور جنسی بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق رہائی پانے والے متعدد کارکنوں کی حالت انتہائی خراب تھی، کئی افراد کے جسموں پر نیل اور زخموں کے نشانات پائے گئے جبکہ بعض کو وہیل چیئرز پر منتقل کیا گیا۔

آسٹریلوی فلم ساز اور کارکن جولیٹ لامونٹ کے مطابق حراست کے دوران متعدد افراد کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد کو نامعلوم ادویات کے انجکشن بھی لگائے گئے۔

اطالوی صحافی الیساندرو مانتووانی نے حراستی مرکز کو خوف اور دہشت کی جگہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کے فوراً بعد ہی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں محدود خوراک اور پانی فراہم کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس بحری قافلے میں پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت 400 سے زائد افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔دوسری جانب غزہ میں اس واقعے کے خلاف اور فلوٹیلا کے حق میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں، جہاں بچوں نے مختلف ممالک کے پرچم اٹھا کر مارچ کیا۔